مقدس گائے پر سیاست

09:06 AM, 31 May, 2026

گائے ہماری ماتا ہے سننے میں ہندووں کو اچھا لگتا ہے۔ اور ہندو مذہب کے رکھوالوں کو اور بھی اچھا لگتا ہے۔ مگر بھارت میں گائے ماتا کے نام پر قتل و غارت کی جاتی ہے۔ ماتا کا نام لے کر مسلمانوں کو مارا پیٹا جاتا ہے۔ ماتا کی حفاظت کے نام پر گوشت کی دکانوں اور ہوٹلوں پر دھاوا بولا جاتا ہے۔ عید قربان پر تو کئی ریاستوں میں مسلمان اپنے مذہبی عقیدے کے مطابق گائے کو ذبح بھی نہیں کر سکتے۔ 
بھارت میں گائے ماتا کی اتنی بھر پور حفاظت ہو رہی ہے کہ دنیا کے پانچ سب سے بڑے گائے کے گوشت یعنی بیف ایکسپورٹر ممالک کی فہرست میں بھارت نے اپنی جگہ بنا لی ہے۔ سال 2024 میں بھارت نے 15.6 لاکھ ٹن بیف ایکسپورٹ کیا۔ جبکہ سال 2025 میں بھارت نے 16.5 لاکھ ٹن بیف ایکسپورٹ کیا۔ یہ دراصل ہندوتوا کے مذہبی انتہا پسندوں کی سوچ ہے کہ گھر میں ماتا کے نام پر مسلمانوں کے سر قلم کر دو اور باہر کاروبار کے لئے گائے کو ہی قلم کر دو۔
بھارت میں صدیوں سے بسنے والے ہندو اپنی مذہبی تعلیمات کے مطابق گائے کی پوجا کرتے ہیں۔ گائے کو مقدس جانتے ہوئے اسکا گوبر اور گائے موتر پیتے بھی ہیں۔ ہندووں کی مذہبی کتابوں میں گائے کو جانوروں میں اعلیٰ درجہ دیا گیا ہے۔ مختلف مقامات پر گائے کی دیکھ بھال اور دودھ والی گائے کو ذبح کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ مگر گائے ماتا، گاﺅ ماتا اور ماتا کی تشریح موجود نہیں ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ گائے کو ہندو مذہب میں مقدس مقام حاصل ہے مگر یہ ماتا یا بھگوان کا روپ نہیں ہے۔ آجکل عید الاضحیٰ سے قبل بھارت میں گائے کو قومی جانور قرار دینے کا مطالبہ سامنے آیا ہے اور حیرت کی بات یہ کہ یہ مطالبہ براہ راست بھارتیہ جنتاپارٹی اور اسکے سربراہ ادارے راشتر سیوک سنگھ نے نہیں کیا بلکہ بھارت میں مسلمان تنظیموں نے ہندو مذہبی جذبات کے احترام میں کیا ہے۔ مسلمان تنظیمیں وزیر اعظم نریندر مودی کو پیش کرنے کے لیے گائے رکشک نامی ایک مشترکہ میمورنڈم تیار کر رہی ہیں۔ گائے کی حفاظت کی غرض سے اسکو قومی جانور کا درجے دینے کی بات سے تو اتفاق کیا جا سکتا ہے۔ مگر اسکے دیگر پہلو بھی ہیں جو سیاسی اور مذہبی سوچ کے ساتھ متصادم ہیں۔ گائے کو قومی جانور بنانے سے ہندووں کو تکلیف ہو گی کہ انکی ماتا اور پوجا کی مورت کو حکومت نے جانور بنا دیا ہے۔ جانور قرار دینے کے بعد گائے کے کاروبار سے منسلک بیوپاری اور ایکسپورٹر حتیٰ کہ گائے کا دودھ فروخت کرنے والے کیا کریں گے۔کیا انکو اب گائے کو صرف فارمز پر دیکھ بھال کے لئے رکھا جائے گا۔ قومی جانور کی حفاظت کیلئے تو اسکی نسل کو بڑھانے کے اقدامات کرنا ہوں گے۔ اگر ایسا ہوا تو بھارت کا طاقتور بیف ایکسپورٹ کاروبار تباہ ہو جائے گا جسکا بھارت کبھی متحمل نہیں ہو سکتا۔ 
گائے ماتا سے جانور بننے کے بعد بھارت میں سڑکوں پر، چوکوں پر گھومتی گائے کی پوجا کیسے ہو گی۔ مندروں میں گائے موتر اور گائے گوبر ہندو نہیں پی سکیں گے۔ ایسا کرنے سے انکی پوچا پاٹ ادھوری ہو گی جو سنگین مذہبی گناہ ہو سکتا ہے۔ 
گائے ماتا بھی ہے، بیوپار کا ذریعہ بھی، مسلمانوں کے خلاف محاذ آرائی کا آلہ کار بھی ہے اور اب سیاست کا اہم نعرہ بھی ہے۔ مقدس گائے کا درست معنیٰ بھارت بخوبی سمجھتا یے اسی لئے گائے کو مختلف مقاصد کیلئے استعمال کرتا ہے۔ بھارت کا موجودہ قومی جانور شیر ہے اور گائے کی فی الحال کوئی کوئی سرکاری حیثیت نہیں ہے۔
بی جے پی کے دور حکومت میں بھارت بیف ایکسپورٹ کے کاروبار میں دنیا میں اہم ترین ملک بن کر ابھرا ہے۔ بھارت کی کئی ریاستوں میں بھارتیہ جنتاپارٹی کی حکومت ہے مگر اسی بی جے پی کی ریاست گوا، آسام اور شمال مشرقی ریاستوں میں گائے کا گوشت کھلے عام کھایا اور فروخت کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس بی جے پی اتر پردیش ریاست اور اتراکھنڈ ریاست میں گائے کو ذبح کرنے کے حوالے سے سخت رویہ رکھتی ہے۔ قومی جانور قرار دینے سے یہ دوہرا ریاستی معیار کھل کر سامنے آئے گا۔ 
حیرت کی بات یہ ہے کہ بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں سال 2027 میں ریاستی انتخابات ہونے والے ہیں۔ اور اس سے ٹھیک ایک سال قبل گائے ماتا کا مسئلہ اٹھایا جا رہا ہے۔ اور وہ بھی مسلمان تنظیموں کی جانب سے ایسا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کیونکہ بھارت میں سیاست کو عبادت سمجھ کر کیا جاتا ہے۔

مزیدخبریں