ہسپتالوں کے ویٹنگ رومز اور انسان کی اصل حیثیت

09:06 AM, 31 May, 2026

ہسپتال کا کوریڈور شاید دنیا کی وہ واحد جگہ ہے جہاں انسان اپنی حیثیت، غرور، مصروفیات اور مصنوعی طاقت سب کچھ دروازے کے باہر چھوڑ دیتا ہے۔ وہاں نہ دولت سہارا بنتی ہے، نہ عہدے، نہ سفارش، نہ تعلقات اور نہ اثر و رسوخ۔ وہاں مہنگی گاڑیوں میں آنے والے لوگ بھی دیوار کے ساتھ خاموش کھڑے دعائیں مانگ رہے ہوتے ہیں۔ وہاں کسی کے ہاتھ میں وزٹنگ کارڈ نہیں چلتا، صرف امید چلتی ہے، صرف دعا چلتی ہے۔ہسپتال کے ویٹنگ روم میں بیٹھا ہر شخص اندر سے ٹوٹا ہوا ہوتا ہے۔ کوئی اپنے باپ کی رپورٹس کے انتظار میں ہوتا ہے، کوئی ماں کی سانسوں کے لیے پریشان، کوئی بچے کے بخار سے خوفزدہ اور کوئی اپنے بہن بھائی کی زندگی کو چند لمحے مزید مل جانے کی دعا مانگ رہا ہوتا ہے۔ وہاں جا کر پہلی بار انسان کو احساس ہوتا ہے کہ وہ حقیقت میں کتنا بے بس ہے۔ 
وہاں وقت جیسے سست پڑ جاتا ہے۔ گھڑی کی ہر سوئی دل پر چلتی محسوس ہوتی ہے۔ ڈاکٹر کے کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز بھی دل کی دھڑکن بڑھا دیتی ہے۔ فون بجے تو خوف آتا ہے، خاموشی ہو تو اور زیادہ خوف آتا ہے۔ وہاں انسان پہلی بار سمجھتا ہے کہ صحت کتنی بڑی نعمت ہے، گھر میں موجود ہنسی کتنی قیمتی چیز ہے اور اپنے لوگوں کا ساتھ کتنی بڑی دولت ہے۔ کیونکہ بیماری صرف جسم کو کمزور نہیں کرتی، وہ پورے خاندان کو تھکا دیتی ہے۔ہسپتال کے ویٹنگ روم میں امیر اور غریب کے درمیان فرق کم ہو جاتا ہے۔ برانڈڈ کپڑے پہننے والا سرمایہ دار اور پسینے سے بھیگا مزدور، دونوں ایک ہی خوف کے ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں۔ دونوں کی آنکھوں میں ایک ہی التجا ہوتی ہے اور دونوں کا خدا بھی ایک ہی ہوتا ہے۔ وہاں انسان کو احساس ہوتا ہے کہ زندگی کی اصل حقیقت انسانیت ہے،نہ کہ دولت اور نمود و نمائش۔ہسپتال کی دیواریں انسان کو خاموشی سے بہت کچھ سکھاتی ہیں۔ جب کسی مریض کو سٹریچر پر آپریشن تھیٹر کی طرف لے جایا جاتا ہے تو اس کے پیچھے بھاگتے لواحقین کی بے بسی دیکھنے کے لائق ہوتی ہے۔ وہ انسان جو چند گھنٹے پہلے تک خود کو بہت طاقتور سمجھ رہا تھا، اب ایک سفید چادر میں لپٹا زندگی اور موت کے درمیان کھڑا ہوتا ہے۔ اس لمحے اس کی تمام مادی فتوحات بے معنی ہو جاتی ہیں۔
وہاں کوئی کسی سے اس کا بینک بیلنس نہیں پوچھتا، نہ ہی کوئی کسی کی گاڑی کا ماڈل دیکھتا ہے۔ وہاں سب ایک دوسرے کے دکھ سے آشنا ہوتے ہیں۔ اگر کسی کے مریض کی حالت بگڑ جائے، تو برابر میں بیٹھا اجنبی شخص بھی تسلی دینے کے لیے اپنا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھ دیتا ہے۔ یہ وہ سچی ہمدردی ہے جو کائنات کے کسی اور کونے میں اس خلوص کے ساتھ نہیں ملتی۔ باہر کی دنیا منافقت اور مطلب پرستی کے لبادوں سے ڈھکی ہوئی ہے لیکن ہسپتال کا کوریڈور انسان کو اس کے اصل جوہر یعنی "انسانیت" سے روشناس کرواتا ہے۔
ہسپتال کے سٹریچرز اور آئی سی یو کے باہر لگی سرخ روشنیاں دراصل انسان کے لیے خاموش درسگاہیں ہیں۔
ہم جب تک تندرست ہوتے ہیں، اس نعمت کی قدر نہیں کرتے۔ مگر ہسپتال میں جب کسی کو آکسیجن کے سہارے سانس لیتے، ڈائیلیسز مشین سے بندھا یا درد سے تڑپتا دیکھتے ہیں تو تب اپنے جسم کے ایک ایک سلامت عضو کی قیمت معلوم ہوتی ہے۔انسان کی عجیب نادانی ہے کہ وہ صحت بیچ کر پیسہ کماتا ہے اور پھر اسی پیسے سے صحت خریدنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہسپتال انسان کو یاد دلاتے ہیں کہ سکون کی نیند، بغیر تکلیف کے سانس لینا اور اپنے پیروں پر چلنا بھی بہت بڑی نعمتیں ہیں۔بیماری صرف مریض کو متاثر نہیں کرتی بلکہ پورے خاندان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ جاگتی راتیں، ادویات کے اخراجات، ذہنی دباو¿ اور مسلسل خوف پورے گھر کو تھکا دیتے ہیں۔ لیکن انہی ویٹنگ رومز میں محبت کے سب سے خوبصورت منظر بھی دکھائی دیتے ہیں۔ ایک بیٹا اپنی ماں کو پانی پلا رہا ہوتا ہے، ایک بوڑھا شوہر اپنی بیمار بیوی کے پاو¿ں دبا رہا ہوتا ہے اور ایک ماں اپنے بچے کو سینے سے لگائے خاموش آنسو بہا رہی ہوتی ہے۔ تب احساس ہوتا ہے کہ انسان کے پاس رشتوں اور محبت سے بڑی کوئی پناہ گاہ نہیں۔ہسپتال انسان کو صرف بیماری نہیں دکھاتے، وہ انسان کو اس کی اصل اوقات بھی یاد دلاتے ہیں۔ 
جب کوئی انسان اپنے کسی پیارے کو ہسپتال سے صحت یاب کروا کر یا خود کسی بڑی بیماری سے نجات پا کر گھر لوٹتا ہے، تو وہ دراصل ایک نیا جنم لیتا ہے۔ ہسپتال سے گزر کر آنے والا انسان کبھی پہلے جیسا نہیں رہ سکتا اگر وہ واقعی صاحبِ عقل ہو۔ اس کے اندر سے تکبر کا خاتمہ ہو جاتا ہے، اس کی گفتگو میں نرمی اور عاجزی آ جاتی ہے اور وہ انسانوں کے ساتھ ہمدردی کا رویہ اختیار کر لیتا ہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم کبھی کبھار، بغیر کسی ضرورت کے بھی، ہسپتال کے ان ویٹنگ رومز اور وارڈ کا چکر لگائیں۔ صرف اس لیے کہ ہم اپنی انا کی اصلاح کر سکیں۔ وہاں بیٹھ کر چند لمحے ان تڑپتے ہوئے لوگوں کو دیکھیں تاکہ ہمارے اندر کا انسان بیدار ہو سکے۔ یہ کوریڈور ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہماری اصل حیثیت مٹی کے ایک ڈھیر سے زیادہ کچھ نہیں، جسے ایک معمولی سی بیماری پل بھر میں خاک میں ملا سکتی ہے۔اگر آج آپ صحت مند ہیں، آپ کے والدین خیریت سے ہیں، اگر آج آپ کے اردگرد سب کچھ نارمل ہے، آپ کی رگوں میں خون کی روانی درست ہے، آپ کے پیارے آپ کے سامنے ہنستے مسکراتے موجود ہیں، تو سجدے میں گر جائیے۔ کیونکہ آپ اس وقت دنیا کے امیر ترین شخص ہیں اور آپ پر خدا کا وہ کرم ہے جس کی تمنا اس وقت ہسپتال کے کسی ویٹنگ روم میں بیٹھا ہوا کوئی بے بس انسان اپنی آخری امید کے ساتھ کر رہا ہے۔

مزیدخبریں