اسرائیلی وزارت خارجہ کی طرف سے میکرون پر یہودی ریاست کے خلاف جارحانہ رویے کا الزام

07:43 PM, 31 May, 2025

یروشلم/پیرس: اسرائیل نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون پر الزام لگایا ہے کہ وہ یہودی ریاست کے خلاف ایک صلیبی جنگ چلا رہے ہیں۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب میکرون نے فلسطینی ریاست کی حمایت اور اسرائیلی حکمت عملیوں پر سخت بیانات دیے تھے۔

اسرائیلی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ میکرون حقیقت کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی پالیسیاں اسرائیل کے خلاف سازش پر مبنی ہیں۔

وزارت خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ غزہ میں انسانی امداد پہنچانے میں کوئی رکاوٹ نہیں اور اسرائیل اس حوالے سے سہولت فراہم کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میکرون، حماس پر دباؤ ڈالنے کے بجائے انہیں فلسطینی ریاست دینے کے حق میں ہیں اور اسرائیل پر پابندیاں لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسی دوران، اسرائیلی وزیر دفاع نے اعلان کیا ہے کہ وہ فلسطین کے مغربی کنارے میں اپنی ریاست قائم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میکرون اور ان کے ساتھی فلسطینی ریاست کو محض کاغذی حیثیت دیں گے، جبکہ اسرائیل زمین پر اپنی ریاست مضبوط کرے گا۔

یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب فرانسیسی صدر میکرون نے کہا تھا کہ وہ فلسطینی ریاست کی حمایت کر سکتے ہیں اور اگر غزہ میں انسانی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو فرانس اسرائیلی آبادکاروں پر پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔

میکرون نے کہا کہ اگر غزہ کو مکمل طور پر اسرائیل کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا تو یہ فرانس کی ساکھ کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ انہوں نے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی سخت مذمت کی اور کہا کہ فلسطینی ریاست کو کچھ شرائط کے ساتھ تسلیم کرنا ایک اخلاقی فرض ہے۔

مزیدخبریں