یونیورسٹی آف مالایا جسے جامعہ ملیشیاءبھی کہا جاتا ہے،علم و دانش کا وہ مرکز ہے جہاں نہ صرف دینی و عصری علوم کی روشنی پھیلائی جاتی ہے بلکہ امت مسلمہ کے باصلاحیت افراد کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کروانے کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے،یونیورسٹی آف مالایا کواسلامی فکر کا ایک معتبر مینارِ نور سمجھا جاتا ہے،جہاں علم و عرفان کے چراغ روشن کیے جاتے ہیں،جہاں تحقیق و تدریس کے اعلیٰ معیارات قائم کیے گئے ہیں اور جہاں مشرق و مغرب کے علمی دھارے اکٹھے ہو کر ایک نئی فکری تہذیب کو جنم دیتے ہیں۔۔۔یہی وجہ ہے کہ اس ادارے کی سرگرمیاں صرف تعلیمی میدان تک محدود نہیں بلکہ شخصیات کی خدمات کا اعتراف بھی اس کا اہم حصہ ہے۔۔۔حال ہی میں اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے یونیورسٹی آف مالایا میں ایک خوبصورت،پر اثر اور معنویت سے لبریز تقریب کا اہتمام کیا گیا،اس تقریب کی خاص بات یہ تھی کہ پروفیسر ڈاکٹر محمد فوزی بن حمد، جو اکیڈمی آف اسلامک سٹڈیز،یونیورسٹی آف مالایا کے ڈین ہونے کے ساتھ ساتھ علمی و فکری حلقوں میں انتہائی بلند مقام رکھتے ہیں، نے پاکستان کی ابھرتی ہوئی علمی و دینی شخصیت،سابق رکن پنجاب اسمبلی مولانا محمد معاویہ اعظم طارق کو ا±ن کی علمی،فکری اور تحریکی خدمات کے اعتراف میں اعزازی شیلڈ پیش کی۔۔۔یہ محض ایک تعارفی تقریب نہ تھی بلکہ ایک فکری پیغام کا اظہار بھی تھا کہ علم، خدمات،جدوجہد اور حق گوئی کی قدر دانی سرحدوں کی محتاج نہیں ہوتی۔۔۔یہ محض ایک تمغہ نہیں بلکہ اعتراف تھا اس سچائی کا کہ علم و عمل کا سرمایہ رکھنے والے افراد خواہ کسی بھی خطہ ارضی سے تعلق رکھتے ہوں،ا±نکی کاوشیں زمان و مکان کی قید سے ماورا ہو جاتی ہیں۔۔۔جامعہ ملیشیاءکی طرف سے دیا جانے والا یہ اعزاز دراصل اس بات کا اعلان تھا کہ دینی فکر کی وہ شمعیں جو صداقت،اخلاص،استقامت اور جرا¿ت سے روشن ہوں،ان کی روشنی عالمی سطح پر محسوس کی جاتی ہے۔۔۔نوجوان عالم دین مولانا محمد معاویہ اعظم طارق نے پاکستان میں نہ صرف علمی اور فکری میدان میں اہم کردار ادا کیا بلکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور تعلیم کے فروغ کے لیے ان کی کاوشیں قابل ذکر رہی ہیں۔۔ان کا انداز خطابت ہو یا دینی معاملات میں بصیرت افروز رائے،دونوں ہی میدانوں میں ان کی شخصیت نے ایک الگ مقام حاصل کیا ہے۔۔۔پروفیسر ڈاکٹر محمد فوزی بن حمد جیسے علم و فضل کے پیکر کی جانب سے یہ اعزاز محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی اعتراف ہے کہ عالم اسلام میں ابھرتی ہوئی قیادت کو نہ صرف سراہا جانا چاہیے بلکہ ان کی سرپرستی بھی کی جانی چاہیے۔۔۔مولانا محمد معاویہ اعظم،جن کا تعلق ا±س خانوادہ علم و فقاہت سے ہے جس نے برصغیر کی دینی تاریخ میں ایک تابناک باب رقم کیا،اپنی علمی جہتوں،خطیبانہ توانائیوں اور فکری بصیرت کے باعث ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔۔۔۔ان کی شخصیت صرف ایک دینی مقرر یا سیاسی رہنما کی نہیں بلکہ ایک ایسے دانشور کی ہے جو اسلامی تہذیب کے فکری اور اخلاقی ابعاد کو نہایت دل نشین انداز میں پیش کرتا ہے۔۔۔۔ان کی گفتگو میں وہ توازن پایا جاتا ہے جو علم و حکمت کا خاصہ ہوتا ہے،ان کے لہجے میں وہ تمکنت ہے جو فکری تسلسل کی دلیل بن جاتی ہے اور ان کی فکر میں وہ گہرائی ہے جو کسی تربیت یافتہ مدرس کے علمی پس منظر کی غمازی کرتی ہے۔۔۔ان کے والد محترم مولانا محمد اعظم طارق شہید کی دینی خدمات آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں اور مولانا محمد معاویہ نے اس علمی و تحریکی ورثے کو نئی سمت عطا کی ہے۔۔۔یہ اعزازی شیلڈ نہ صرف محمد معاویہ اعظم کے لیے باعث افتخار ہے بلکہ پاکستان کے علمی و دینی حلقوں کے لیے بھی ایک مثبت پیغام رکھتی ہے۔۔۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا بھر کی اسلامی جامعات اور علمی ادارے اب ان شخصیات کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں جو نہ صرف نظریاتی طور پر واضح سوچ رکھتے ہیں بلکہ عملی میدان میں بھی قائدانہ صلاحیتوں کے حامل ہیں۔۔۔پروفیسر ڈاکٹر محمد فوزی بن حمد جیسے جید سکالر کی جانب سے یہ اعزاز ملنا،صرف محمد معاویہ اعظم کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کی علمی روایت کے لیے ایک سند اعتراف ہے۔۔۔ یہ ایک روشن لمحہ ہے،جب” علم کے ایک مرکز نے علم کے ایک امین“ کو سراہا۔۔۔ یہ وہ لمحہ ہے جب ”تدریس کے ایوانوں نے تحریک کے میدان سے جڑی ایک فکری شخصیت “کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا۔۔۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فوزی بن حمد نے اپنے تاثرات میں نہایت ادبی پیرائے میں کہا کہ محمد معاویہ اعظم نہ صرف اسلامی اقدار کے مو¿ثر ترجمان ہیں بلکہ عصرِ حاضر کے فکری الجھاو¿ میں ایک سمت نما بھی ہیں،وہ اسلامی اقدار کے علمبردار اور نوجوان نسل کے لیے مشعل راہ ہیں،ان کے اندر علم،حکمت،جرات اور فہم و فراست کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے،ا±مت مسلمہ کو اس وقت ایسے ہی با ہمت،با کردار اور بصیرت افروز رہنماوں کی ضرورت ہے جو فکری انتشار کے اس دور میں اتحاد و اتفاق کا پیغام دے سکیں۔۔مولانا محمد معاویہ اعظم نے بھی اپنے خطاب میں اس اعزاز پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ اسے اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ ا±مت کے ان تمام نوجوانوں کے لیے ایک پیغام سمجھتے ہیں جو علمی میدان میں کچھ کر دکھانے کی تمنا رکھتے ہیں۔۔۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلم دنیا کو آج جس فکری اور تہذیبی بحران کا سامنا ہے،اس کا حل صرف علم،وحدت اور فکری آزادی میں پوشیدہ ہے۔۔۔ انہوں نے اس موقع پر امت مسلمہ کے تعلیمی اداروں کو آپس میں رابطہ قائم کرنے،مشترکہ تحقیقی منصوبے شروع کرنے اور طلبہ کے تبادلے کے پروگرام متعارف کروانے کی تجویز بھی دی تاکہ علمی دنیا میں مسلم قیادت ایک بار پھر نمایاں کردار ادا کر سکے۔۔۔۔۔محمد معاویہ اعظم نے اپنی گفتگو میں نہایت وقار اور شعوری بالیدگی کے ساتھ اس اعزاز کو ا±مت مسلمہ کے ہر اس نوجوان کے نام کیا جو علم کے میدان میں کچھ کر گزرنے کی آرزو رکھتا ہے۔۔۔ان کے الفاظ میں وہ ادبی گداز بھی تھا اور فکری عمق بھی جو کسی علم دوست دل سے ہی نکل سکتا ہے۔۔۔انہوں نے اس موقع پر اسلامی دنیا کی جامعات سے اپیل کی کہ وہ باہمی اشتراک،علمی تبادلے اور تحقیقی تعاون کو فروغ دیں تاکہ ا±مت مسلمہ ایک نئے فکری عروج کی جانب بڑھ سکے۔۔۔ان کا یہ پیغام، دراصل ا±س خواب کی تعبیر کی تلاش تھی جو علامہ اقبالؒ نے اپنی نظم ”خضر راہ“ میں نوجوانانِ ملت کے بارے میں دیکھا تھا۔۔۔ ایک ایسی نسل جو علم کے چراغ سے اندھیروں کو مٹائے اور کردار کی قوت سے زوال کے سایوں کو دھکیل دے۔۔۔۔محمد معاویہ اعظم کی شخصیت اس اعتبار سے بھی منفرد ہے کہ وہ ماضی کی علمی وراثت کو سینے سے لگائے ہوئے،حال کے تقاضوں سے باخبر اور مستقبل کی فکری تعمیر کا خواب آنکھوں میں بسائے ہوئے ایک ہمہ گیر رہنما کے طور پر سامنے آتے ہیں۔۔۔ان کے اندر یہ وصف بدرجہ اتم موجود ہے کہ وہ دین کے رموز کو عصری زبان میں بیان کر سکتے ہیں اور تہذیبی بحرانوں کا تجزیہ علمی وسعت کے ساتھ پیش کر سکتے ہیں۔۔۔جامعہ ملیشیاءکا یہ اعزاز اس بات کا استعارہ ہے کہ علم کی زبان بین الاقوامی ہوتی ہے۔۔۔یہ کسی قوم یا ملک کی ملکیت نہیں بلکہ یہ ان تمام قلوب کا سرمایہ ہے جو جستجو،تحقیق اور روشنی سے آشنا ہیں۔۔۔یہ اعزاز اس امر کا غماز ہے کہ ا±مت مسلمہ کی جامعات اب ا±ن قیادتوں کی تلاش میں ہیں جو فرقہ واریت کے خول سے نکل کر وحدتِ امت کا پرچم بلند کر سکیں۔۔۔۔آخر میں اگر اس تقریب کو ایک علامتی نظم کا عنوان دیا جائے تو وہ شاید ”روشنی کا اعتراف“ ہو۔۔۔ایک ایسا لمحہ جب علم نے علم کو سلام کیا، جب حکمت نے بصیرت کو گلے لگایا اور جب مشرق کے دو عظیم علمی مراکز۔۔۔ پاکستان اور ملیشیاءنے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر ایک فکری کارواں کی بنیاد رکھی۔۔۔یہ کارواں اب رکنے والا نہیں کیونکہ اس کے قافلہ سالار وہ لوگ ہیں جن کے قلوب علم سے روشن، زبانیں سچ سے معمور اور قدم ہدایت کی راہوں پر گامزن ہیں۔۔۔محمد معاویہ اعظم کا یہ اعزاز نہ صرف ا±ن کی شخصیت کی عالمی سطح پر پذیرائی ہے بلکہ پاکستان کے علمی حلقوں کے لیے بھی ایک امید افزا پیغام ہے کہ فکری اجالے اب بھی ہماری مٹی میں جنم لیتے ہیں اور اگر انہیں مناسب رہنمائی،مواقع اور قدردانی ملے تو وہ پوری ا±مت کے لیے چراغِ راہ بن سکتے ہیں۔۔۔ ۔۔۔یہ تقریب صرف اعزاز و القاب کی رسم نہیں تھی بلکہ ایک فکری سنگت،ایک تہذیبی ہم آہنگی اور ایک تعلیمی اشتراک کی تعبیر تھی۔۔۔یہ لمحہ ان معنوں میں بھی یادگار ہے کہ جامعہ ملیشیاءجیسا ادارہ اب صرف علم کی ترسیل پر اکتفا نہیں کر رہا بلکہ وہ ان شخصیات کی تلاش میں ہے جو معاشروں کو فکری ارتقا کی راہ دکھا سکیں۔۔۔موجودہ دور میں جب نظریاتی ابہام،فکری تعطل اور رہنمائی کی کمی مسلم معاشروں کو گھیرے ہوئے ہے،ایسے میں محمد معاویہ اعظم جیسے افراد امید کی کرن ہیں۔جامعہ ملیشیاءکی یہ کاوش اس بات کی دلیل ہے کہ ا±مت مسلمہ کے تعلیمی ادارے اب صرف درسی علوم تک محدود نہیں رہے بلکہ وہ عملی میدان میں تبدیلی لانے والی قیادت کی تلاش میں بھی سرگرم ہیں۔۔۔
یونیورسٹی آف مالایا اور مولانا معاویہ اعظم کا اعزاز
09:16 AM, 31 May, 2025