اسلام آباد:وفاقی دارالحکومت میں امن و امان کی صورتحال پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے آئی جی اسلام آباد کے ہمراہ اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے تاجر عامر شہزاد کے قتل کیس میں بڑی کامیابی کا اعلان کیا ہے۔ پولیس نے محض 24 گھنٹوں کے دوران ڈکیتی اور قتل میں ملوث خطرناک گینگ کے تمام ارکان کو سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا ہے۔
طلال چوہدری نے میڈیا کو بتایا کہ یہ ایک انتہائی منظم اور خطرناک گروہ تھا جو 'بلٹ پروف جیکٹ' گینگ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ گینگ میں خیبرپختونخوا کے افراد کے ساتھ ساتھ افغان شہری بھی شامل تھے۔ یہ گروہ اس قدر سفاک تھا کہ مقامی پولیس بھی ان کی کارروائیوں سے خوفزدہ رہتی تھی۔کاروباری شخصیت عامر شہزاد کو ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر بے رحمی سے قتل کیا گیا، جو کہ شہر کے امن کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا۔
آئی جی اسلام آباد نے اس کارروائی کو پولیس کی صلاحیتوں کا امتحان قرار دیتے ہوئے کہا یہ کیس ہمارے لیے ایک ٹیسٹ کیس تھا جس میں اسلام آباد پولیس کی کیپسٹی اور پوٹینشل کو جانچا گیا۔ ہم نے شہر سے باہر تک اس کیس کے تانے بانے تلاش کیے اور تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
وزیر مملکت نے واضح کیا کہ اسلام آباد میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پہلے سے کہیں بہتر ہے۔ عامر شہزاد کا قتل ایک لرزہ خیز واقعہ تھا، مگر پولیس کی فوری جوابی کارروائی نے ثابت کر دیا ہے کہ مجرم اب قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکیں گے۔
اسلام آباد پولیس کا بڑا معرکہ: 'بلٹ پروف جیکٹ' گینگ کے افغان کارندے گرفتار، تاجر عامر شہزاد کا قتل کیس حل
04:43 PM, 31 Mar, 2026