آئی ایم ایف کا ’ٹیکس بم‘: نئے بجٹ میں 15 ہزار 600 ارب کا ہدف، پیٹرول اور سولر پر 18 فیصد جی ایس ٹی کی شرط

12:51 PM, 31 Mar, 2026

اسلام آباد : بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) نے پاکستان کے سامنے شرائط کی نئی اور کڑی فہرست رکھ دی ہے، جس کے تحت اگلے مالی سال کے دوران عوام پر ٹیکسوں کا بھاری بوجھ ڈالنے کی تجویز دی گئی ہے۔ آئی ایم ایف نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹیکس وصولیوں کا مجموعی ہدف 15 ہزار 600 ارب روپے سے زائد رکھا جائے۔
آئی ایم ایف کی جانب سے پیش کردہ تجاویز میں سب سے زیادہ تشویشناک نکتہ توانائی اور ایندھن پر ٹیکسز کا نفاذ ہے۔ عالمی ادارے نے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرول پر 18 فیصد جی ایس ٹی فوری طور پر لاگو کیا جائے (جو اس وقت صفر ہے)۔ بجلی کے متبادل اور سستے ذریعے 'سولر پینلز' استعمال کرنے والے صارفین پر بھی 18 فیصد ٹیکس لگانے پر زور دیا گیا ہے۔آئی ایم ایف نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ محصولات بڑھانے کے لیے درج ذیل اقدامات کرے۔

    اضافی بوجھ: اگلے مالی سال کے ٹیکس ہدف میں 1600 ارب روپے کا مزید اضافہ کیا جائے۔

    تعمیراتی شعبہ: نئے گھروں کی تعمیر اور خریداری پر دی جانے والی تمام ٹیکس چھوٹ (Exemptions) ختم کی جائیں۔

    تاجروں پر ٹیکس: چھوٹے کاروباروں اور تاجروں کو ان کے اثاثوں کی بنیاد پر ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے۔

مزیدخبریں