ہم جیسے ”تھوڑ دِلے“ (چھوٹے دل والے) اگر اس کم ظرفی کا مظاہرہ کریں کہ اپنی مخالفت میں کسی کے بے ضرر ٹوئٹ یا کسی کے ایسے جُملے جس میں ہمارا نام تک نہ ہو سے ناراض ہو کر بیٹھ جائیں یا اُس کے خلاف انتقامی کارروائیوں پر اُتر آئیں کسی کا بھی اس طرف شاید دھیان نہیں جائے گا، لیکن کسی اہم یا بڑے عہدے پر بیٹھی کوئی شخصیت اپنے رُتبے کے برعکس ایسا کرے گی لوگ اس کا ویسے ہی نوٹس لیں گے یا ویسا ہی تمسخر اُڑائیں گے جیسا کرکٹر نسیم شاہ کی ٹوئٹ کے بُرا منانے اور اُسے گھٹیا کور دینے کا اُڑایا گیا، نسیم شاہ نے اپنی ٹوئٹ میں کسی کا نام نہیں لیا تھا، اگر اُسے غلط طریقے سے ہینڈل نہ کیا جاتا جیسی ہمارے لوگوں کی عقل اور سمجھ بُوجھ ہے پاکستان میں آدھے عوام کو پتہ ہی نہیں چلنا تھا یہ ٹوئٹ کس کے بارے میں ہے؟ مگر جس بھونڈے انداز میں اسے کور دینے کی کوشش کی گئی پوری دُنیا کو پتہ چل گیا یہ ٹوئٹ کس کے بارے میں تھی، ہمارے اکثر حکمرانوں کا مزاج عجیب سا ہوتا ہے، وہ بھی اب عزت نہیں دولت اور شہرت چاہتے ہیں، ممکن ہے نسیم شاہ کی ٹوئٹ کو انتہائی بھونڈے انداز کا کور دینے سے جو ”شہرت“ ہماری وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو ملی وہ یا اُن کے حواری اُس پر خوش ہوں، پر ہمیں دُکھ ہوتا ہے ہمارے حکمران کیوں چھوٹی چھوٹی باتوں کو بڑے بڑے ایشو بنا کر دُنیا بھر میں اپنی جگ ہنسائی کا سامان پیدا کر لیتے ہیں؟ قوت برداشت ”من الحیث الہجوم“ ہم میں ختم ہوتی جا رہی ہے، بڑے بڑے عہدوں پر ”بونے“ براجمان ہیں جو ذرا ذرا سی بات کا بُرا مان کر بیٹھ جاتے ہیں، نسیم شاہ کی ٹوئٹ کو نظر انداز کر دینا چاہیے تھا، وہ کون سا ٹرمپ تھا جس کی ٹوئٹ دل پر لگا لی جاتی، پوری دُنیا میں آپ کے کچھ غلط کاموں، آپ کی سوچ یا فکر پر اگر تنقید ہو رہی ہے اور آپ ایڑی چوٹی و دیگر اعضا کا پورا زور لگا کر بھی کچھ لوگوں بالخصوص بیرون مُلک بیٹھے کچھ لوگوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے پھر نہ چاہتے ہوئے بھی اپنا دل تھوڑا بڑا کر لیں، ایسی کام نہ کریں جس سے آپ کی جگ ہنسائی بڑھتی جائے، کچھ حکمران تنقید برداشت کرنے کے معاملے میں بہت کم ہمت ہوتے ہیں، البتہ خوشامد وہ اس درجے کی اپنے لیے پسند کرتے ہیں کوئی اُن سے یہ کہہ دے ”آپ کو دیکھنے سے حج اور عمرے کا ثواب ہوتا ہے“ وہ اسے درست تسلیم کر لیں گے، ایسی گھٹیا خوشامد کرنے والے جو عہدے اور ”رفعتیں“ پاتے ہیں سب کو معلوم ہے، ہمارے حکمرانوں میں اگر یہ دو تین خرابیاں نہ ہوں، وہ پرلے درجے کے خوشامد پرست نہ ہوں، چھوٹی چھوٹی تنقید کا بُرا ماننے والے اور انتقامی کارروائیاں کرنے والے نہ ہوں، لُوٹ مار کرنے والے نہ ہوں، اس مُلک کی وہ شاید تقدیر بدل کر رکھ دیں، بدقسمتی یہ ہے یہاں جو حکمران آتا ہے اپنی تقدیر بدل کر اور مُلک کی تقدیر مزید بگاڑ کر چلا جاتا ہے، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کچھ کام بہت اچھے کر رہی ہیں، ہم گاہے گاہے اُن کا ذکر خیر بھی کرتے ہیں، اچانک اللہ جانے اُنہیں کیا ہو جاتا ہے وہ کوئی ایسا کام کر گزرتی ہیں اُن کے سارے کیے کرائے پر پانی پھر جاتا ہے، وہ یا اُن کے کچھ ”خیر خواہ“ نسیم شاہ کی اس ٹوئٹ کو یہ ”کور“ بھی دے سکتے تھے اُسے چائے پر بُلا لیتے، اُس نے آبھی جانا تھا، اُس کا کون سا کوئی سیاسی ایجنڈہ تھا جو شاہد آفریدی وغیرہ کا ہے، ایک بات جو اُس نے محسوس کی اُس کا اظہار بغیر کسی کا نام لیے اپنی ٹوئٹ میں کر دیا تو کون سی قیامت ٹوٹ پڑی تھی؟ اس ٹوئٹ میں ایسا کیا غیر مہذب پن تھا جو برداشت نہیں ہوا؟ مجھے تو یہ ایک ”مینجڈ پروگرام“ لگتا ہے جس میں مریم نواز شریف کو کم ظرف ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے، وزیراعلیٰ مریم نواز کو ایسی جگہ پر جانا ہی نہیں چاہیے جہاں بار بار نظریں جُھکا کر اُنہیں چلنا پڑے، یا جس کا اہتمام ایسے لوگوں نے کیا ہو جو بہت سے معاملات میں اُن سے حسد رکھتے ہوں، مجھے افسوس ہے نسیم شاہ کی ٹوئٹ کے معاملے کو جو صحیح طریقے سے ہینڈل کر سکتے تھے اُنہوں نے جان بوجھ کر غلط طریقہ اختیار کر کے وزیراعلیٰ کی رسوائی کے اسباب پیدا کیے، ہمارے ایک محترم آئی جی کو اُن کے ایک کانسٹیبل نے ننگی گالیاں دیں، آئی جی نے انتہائی سمجھداری سے اس معاملے کو ہینڈل کیا اور کانسٹیبل کو باقاعدہ نفسیاتی مریض ثابت کرا دیا تھا، نسیم شاہ کی ٹوئٹ پر بھی سمجھداری کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے تھا، سب سے بہتر یہ تھا خاموشی اختیار کی جاتی، کسی نے اس ٹوئٹ کا نوٹس ہی نہیں لینا تھا، مگر جس طرح اسے کور کیا گیا لوگ پاگل نہیں اتنی سی بات بھی نہ سمجھ سکیں نسیم شاہ کا ٹوئٹر اکاو¿نٹ اُسی دن اور اُسی وقت ہیک کیوں ہوا جب ”ملکہ صاحبہ“ پر اُس نے تنقید کی؟ میں تو اسے تنقید بھی نہیں سمجھتا، آپ کو کوئی ”ملکہ“ یا ملکہ جیسی کہے یہ تنقید کیسے ہو گئی؟ اُس نے کون سا آپ کو بشریٰ بی بی کہہ دیا تھا جس کا آپ بُرا مان کر بیٹھ جاتیں؟ ہمارے محترم دوست سینیٹر پرویز رشید جب سے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ماتحتی میں آئے ہیں ہم اُن سے یہ توقع ہی نہیں کرتے وہ کام کی کوئی بات اپنی ”باس“ کو سمجھا سکتے ہیں، حالانکہ میری اطلاع کے مطابق میاں محمد نواز شریف نے اپنی صاحبزادی کے ساتھ اُنہیں جوڑا ہی اس لیے تھا وہ کام کی باتیں اُنہیں بتاتے رہیں، ایک اور مصیبت بھی تو ہے ناں، کام کی باتیں یہاں سُنتا کون ہے؟ ہمارے اکثر حکمران اس یقین پُختہ میں مبتلا ہوتے ہیں اللہ نے اُنہیں دو کان دئیے ہی اس لہے ہیں کام کی باتیں ایک کان سے سُن کر دوسرے سے وہ نکال دیں، حکمرانوں کو اپنی ہاں میں ہاں ملانے والے بہت ملتے ہیں، اپنی غلط ہاں میں صحیح نہ ملانے والا کوئی مل جائے اُسے وہ اپنا دُشمن سمجھنے لگتے ہیں، اللہ کسی کو کوئی عہدہ عنایت فرما دے اور وہ اپنا ظرف اُس عہدے کے مطابق نہ کرے یقین کریں وہ اپنے لیے ایسا گڑھا کھود لیتا ہے جس میں گرنے سے کوئی دنیاوی طاقت اُسے نہیں بچا سکتی۔
حکمران اعلیٰ ظرف کیوں نہیں ہوتے؟
09:05 AM, 31 Mar, 2026