ہم تا بہ ابد سعی و تغیر کے ولی ہیں۔۔۔

09:05 AM, 31 Mar, 2026

دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جنگ و جدل سے ماسوائے تباہی اور بربادی کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ یہ وہ کھیل ہے جس میں فتح یاب ہونے والا بھی در حقیقت شکست ہی کھاتا ہے۔انسانی تاریخ میں حرص و ہوس ، لالچ، طاقت اور حصولِ اقتدار کی جنگیں لڑی جاتی رہی ہیں اور یہاں تک کہ خونی رشتوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا۔ 20 ویں صدی کی تاریخ میں بھی بین الاقوامی سطح پر دو تباہ کن جنگیں لڑی گئیں پہلی جنگ عظیم نے ناقابلِ تسخیر سلطنتوں کا خاتمہ کیا۔ اس جنگ کا خاتمہ ورسائے کے معاہدے کے تحت ہوا ، جبکہ دوسری جنگ عظیم نے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال اور جدید جنگی ساز و سامان کی بنیاد رکھی۔ یہ سرد جنگ کا بھی آغاز تھا اور یوں دنیا اپنے ہی بچھائے گئے جال میں پھنستی چلی گئی۔ دراصل یہ دو جنگیں 20 ویں صدی کے دو عالمی تنازعات تھے جس میں کروڑوں لوگوں کی جان گئی یہ انسانی تاریخ کا بد ترین قتل عام تھا۔ آج 8 دہائیوں بعد بھی جنگ کے اثرات واضح ہیں۔ دنیا نے سبق نہ سیکھا اور طاقت کے حصول کیلئے انسانیت ایک بار پھر تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے۔ اس بار میدان یورپ کی بجائے مشرق وسطیٰ ہے اور ٹارگٹ مسلم دنیا ہے۔ امریکہ بہادر حصولِ طاقت اور اپنی بقا کیلئے ہاتھ پاو¿ں مار رہا ہے اور اسرائیل جو کہ در حقیقت امریکہ ہی کی ایک ریاست کی مانند ہے اس کے چنگل میں امریکہ ایسا پھنس چکا ہے کہ شاید یہ امریکی تاریخ کا بد ترین دور ہوگا۔ اس جنگ کے خلاف امریکہ میں ہزاروں لوگ سراپا احتجاج ہیں۔ جبکہ دنیا اس جنگ سے بچنے اور عالمی امن کیلئے کسی مسیحا کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ اس بار بھی جنگ دراصل حصولِ طاقت اور یہود کے مذہبی مفروضوں کو سامنے رکھ کر شروع کی گئی ہے تاہم یہ بیسویں صدی نہیں ہے اور اب دنیا کے حالات و واقعات اور جغرافیائی صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔ چین دنیا میں ایک نئی عالمی طاقت اور بالخصوص معاشی سرخیل کی صورت سامنے آ چکا ہے اور امریکہ کا سورج لگ بھگ غروب کے قریب ہے تاہم وہ دنیا کو اس جنگ میں دھکیل کر اپنا وجود برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ تیل و گیس اور قدرتی وسائل سے مالامال خطہ ہے۔ یہاں حالات خراب کر کے دراصل آدھی سے زیادہ دنیا کی آبادی کو مفلوج کر کے سمندروں اور جزائر پر قبضہ ہی مقاصد میں اولین ترجیحات میں شامل ہے دوسری طرف اسلامی ممالک کو آپس میں الجھا کر مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کو ناقابلِ تسخیر برتری بھی دلوانا چاہتے ہیں۔ اور اس بات کی ضمانت اسرائیل نے مانگی ہے کہ ایران کو ہر طرح غیر مسلح کر کے اس کی حربی صلاحیتوں کو ختم کر دیا جائے وہاں اسرائیل نواز حکومت ہو تاکہ مشرق وسطیٰ میں طاقت انہی قوتوں کے پاس رہے جو ون ورلڈ آرڈر نافذ العمل کرنا چاہتی ہیں۔ مسلمان ممالک یقینا معاشی طور پر مستحکم ہیں اور تیل کے خزانے کی وجہ سے دنیا کا معاشی حب بھی ہیں تاہم یہ طاقت انہیں نا قابلِ تسخیر نہیں بناتی اور اس وقت مشرق وسطیٰ بالخصوص عرب امارات عجب تذبذب کا شکار ہیں۔پاکستان ان سارے تنازعات کو حل کرنے اور دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ جنگ کی شروعات سے ہی پاکستان اپنی اعلیٰ اور ذی شعور قیادت ، بہترین فوج اور ایٹمی قوت کی بدولت دنیا میں مرکز نگاہ بنا ہوا ہے۔ دہائیوں بعد پاکستان کو اپنا کھویا ہوا مقام ملا ہے۔ 1974 میں اسلامی سربراہی کانفرنس کے انعقاد سے پاکستان دنیا میں ابھر کر سامنے آیا تھا اور ایک مرتبہ پھر پاکستان عالمی امن کی فاختہ کے طور پر دنیا میں چمکتے ستارے کی مانند سامنے آیا ہے۔ وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف ، چیف آف ڈیفنس سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ، آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل عاصم ملک جو مشیر دفاع بھی ہیں اور نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی اعلیٰ ترین قائدانہ اور سفارتی صلاحیتوں کی بدولت پاکستان اس وقت دنیا میں وہ واحد ملک ہے جس کی طرف سب کی نگاہیں ہیں۔اس وقت اسلام آباد عالمی منظر نامے پر سب سے اوپر ہے۔ چار طاقتور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ موجودہ صورت حال کے تناظر میں اسلام آباد میں سر جوڑ کر بیٹھے ہیں اور دنیا کو جنگ سے بچانے کیلئے کوشاں ہیں۔ یہ پاکستان کی سفاری کامیابی ہے کہ اندرونی و بیرونی دشمن جو پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنا چاہتے تھے آج اللہ کی مہربانی سے دنیا پاکستان کے ساتھ ہے۔ درویش منش بزرگ جناب صوفی برکت علی لدھیانوی صاحب نے دہائیوں پہلے پیشن گوئی کی تھی کہ میں دیکھ رہا ہوں پاکستان کی ہاں ناں میں دنیا کے فیصلے ہوں گے۔ یقینا وہ وقت آ چکا ہے۔ امریکہ جیسی سپر پاور ہو یا یورپ سب پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ امریکہ کا صدر وزیراعظم پاکستان کا پیغام اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کر رہا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نہ دن دیکھ رہے ہیں نہ رات اور عالمی امن کیلئے کوشاں ہیں۔ شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ذات پر سعودی عرب سمیت تمام اسلامی ممالک کو نہ صرف اعتماد ہے بلکہ وہ پاکستانی قیادت کے فیصلوں کو تسلیم بھی کر رہے ہیں۔اس وقت پاکستان عالمی سفارت کاری کا سربراہ ہے۔ بہت سی اہم ڈویلپمنٹ ہو چکی ہیں ممکنہ طور پر ان شاءاللہ تعالیٰ رواں ہفتے میں باقاعدہ مذاکرات کا آغاز ہو جائے گا۔ اس وقت ایران سمیت امریکہ امن مذاکرات کی شرائط طے کر رہے ہیں۔ بظاہر جنگ ہے تاہم بیک ڈور ڈپلومیسی جاری ہے۔ پاکستان اس ساری صورتحال میں ایک فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ دنیا کے تمام اخبارات ، جرائد اور ٹیلیویژن پر خبروں کا آغاز اسلام آباد سے ہو رہا ہے۔ یقینا یہ اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہے۔ اور اس بات پر ہمارا ایمان اور بھی مضبوط ہوگیا ہے کہ اللہ جسے چاہے عزت دے اللہ عزت دینے میں اسباب کا محتاج نہیں ہے۔ ہماری قیادت کی نیت صاف ہے اور اپنا ملک اولین ترجیح ہے۔ پاکستان کی بقا اور تحفظ کے ساتھ عالمی امن کیلئے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار آنے والی نسلوں کو انٹرنیشنل ریلیشنز اور سفارتی صلاحیتوں کو نکھارنے کیلئے پڑھایا اور دکھایا جائے گا۔ پاکستان کے اس لافانی اور کلیدی کردار کی وجہ سے بھارت کی نیندیں حرام ہیں اور اس وقت وہ تمام وسائل کے باوجود بے بسی کا شکار ہے۔ بھارتی عوام نریندر مودی کو کوس رہی ہے۔ اسی طرح افسوسناک امر یہ ہے کہ طالبان کی پولیٹکل پراکسی پی ٹی آئی پاکستان کی اس عزت کو ہضم نہیں کر پا رہی۔ پی ٹی آئی کی قیادت اور اس کے شر پسندوں کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کی اولاد اپنے ننھیال کی پرورش اور نمک حلالی میں پاکستان دشمنی کی آخری حدیں عبور کر چکے ہیں۔ جنیوا میں قاسم خان کی تقریر پاکستان دشمنی اور ان کے عزائم کا کھلم کھلا ثبوت ہے۔ پی ٹی آئی کی قیادت ملک دشمنی میں بھارت کو بھی پیچھے چھوڑ گئی ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کی پذیرائی پی ٹی آئی کی شکست ہے اور وہ اس شکست کا بدلہ عوام سے لینا چاہتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس منظم کمپیین کو بے نقاب کر کے پاکستانی عوام کے سامنے حقائق رکھے جائیں اور واضح کیا جائے کہ یہ شر پسند ٹولا کیا کر رہا ہے اور ملک توڑنے کیلئے یہ کس حد تک جا چکے ہیں۔ پاکستان کو عزت اللہ نے دی ہے ،وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان کے محسن ہیں۔ ان کا مقام تا قیامت سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔

مزیدخبریں