مچھلی کے بچے کو تیرنا او ر کتے کے بچے کو بھونکنا کوئی نہیں سکھاتا ۔ یہ معلومات اُن کے ڈی این اے میں پڑی ہوتی ہیں جنہیں وہ وقت آنے پر استعمال کر لیتے ہیں ۔میں نے اس پوسٹ میں کسی کا نام نہیں لکھا تھا لیکن یوتھیا برگیڈ میرے اردگرد منڈلانا شروع ہو گئی۔ کچھ پرانے دوستوں نے پوسٹ ڈیلیٹ کرنے کی درخواست بھی کی لیکن مجھے سمجھ نہیں آیا کہ انہیں اس میں ایسا کیا قابل ِ اعتراض مواد نظر آیا جسے وہ اپنے لئے زہر قاتل سمجھ رہے تھے لیکن ہر وہ شخص جو پاکستان کے خلاف بولتا ہے میرے نزدیک اُس کی حیثیت ایک بھونکتے ہوئے کتے سے زیادہ نہیں ۔بھارتی خارجہ پالیسی کے سربراہ شنکر جے شنکر نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے اپنے گھٹیا ہونے کا ثبوت دیا۔ دلالی تو ہندوﺅں کے جینز میں ہے جو انہوں نے ہندوستان پر حملہ آور ہونے والے ہر مسلمان حکمران کیلئے کی ۔جہاں تک بھارت کے اچھے ہمسائے ہونے کی بات ہے تو چاروں جنگیں بھارت کی جانب سے پاکستان کے اوپر مسلط کی گئیں ۔ بھارت چین ¾ سری لنکا اور نیپال کا بھی جتنا اچھا ہمسایہ ہے یہ دنیا سے چھپی ہوئی بات نہیں ۔ دہشتگردی کا مرکز تو ہندوستان ہے جہاں آج بھی غیرہندو آبادی غیر محفوظ ہے یا پھر ہندووں سے مختلف نقطہ نظر رکھنے والوں کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے وہ بھی اپنی مثال آپ ہے ۔ کیا گاندھی لاہور میں کسی مسلمان کے ہاتھوں قتل ہوا تھا یا پھر راجیو گاندھی کو پشاور میں خود کش حملہ کرکے ہلاک کیا گیا تھا ؟ خود اندرا گاندھی بطور وزیر اعظم قتل ہوئیں لیکن اُس قتل کو سکھوں نے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ ہم نے اُسے قتل کیا اور اُس کے بعد عام سکھوں کا جس طرح قتل عام کیا گیا وہ بھی بربریت کی الگ سے ایک تاریخ ہے ۔ جرنیل سنگھ بھنڈراں والا کیا اپنے ساتھیوں سمیت کراچی میں مارا گیا تھا ؟دہشتگردی کی سب سے بڑی صنعت تو بھارت نے بلوچستان اور افغانستان میں لگا رکھی ہے جہاں وہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کا مائی باپ بنا ہوا ہے اور بھارتی تجزیہ نگار بھارتی خفیہ ایجنسی ” را“ کو مشورہ دے رہے ہیں کہ حکومت سے کہہ کر دس بیس ارب ڈالر بلوچستان میں دہشتگردی کیلئے ہندوستان کے بجٹ میں مختص کرا لیں لیکن ان سب باتوں کے باوجود شنکر جے شنکر کی گز بھر لمبی غیر سفارتی زبان جو کاٹ دینے کے قابل ہے کسی خارش زدہ کتے کی طرح پاکستان پر بھونکتی سنائی دیتی ہے ۔ جس پاکستانی یوٹیوبر کا بیانیہ بھارتی چینلز اور افغان یوتھیوں کے ساتھ ملتا نظر آئے سمجھ لیں کہ وہ وطن دشمن ” یو ٹیوب انڈسٹری “ کے لوگ ہیں ۔
ٹرمپ نے جتنی گھٹیا زبان ولی عہد سلمان کے خلاف استعما ل کی اس سے مجھ اپنا ” گریٹ نیازی “ یا د آ گیا ۔اس سے بھی بدزبانی کی وجہ سے سعودی طیارہ واپس لے لیا گیا تھا ۔ ٹرمپ نے ایلن مسک جیسے دوست کے بارے میں گھٹیا زبان استعمال کی اور ویسی ہی زبان عمران نیازی نے اپنے محسنوں اور دوستوں کے بارے میں استعمال کی ۔ٹرمپ کو اسرائیل اور بھارت پسند ہیں ¾ عمران نیازی کے پسندیدہ ملک بھی یہی ہیں ۔ ٹرمپ چین کو اپنا دشمن تصور کرتا ہے اور عمران نیازی نے دشمنی کا اعلان کیے بغیر ساڑھے تین سال سی پیک بند رکھا ۔عمران نیازی کو ٹرمپ سے ملاقات کبھی ورلڈ کپ کی جیت سے بھی بڑا انعام محسوس ہوتی تھی اور ٹرمپ کے اقتدار میں آنے سے پہلے یوتھیوں کی تمام امیدیں ٹرمپ سے وابستہ تھیں لیکن ٹرمپ نے کبھی نیازی کا نام بھی نہیں لیا ۔ یعنی یہ دو احسان فراموشوں کا ایک دوسرے سے تعلق تھا سو دونوں کو ایک دوسرے سے سوائے رسوائی کے کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے۔ ٹرمپ نے جو بائیڈن ¾ صحافیوں ¾ افریقی ممالک ¾ غیر ملکیوں ¾ خواتین اور مسلمانوں کے خلاف بدزبانی کی یہی تما م خوبیان بدرجہ اُتم مسٹر نیازی میں بھی موجود تھیں ۔ ٹرمپ کا ذہنی توازن روز بروز بگڑتا جا رہا ہے کہ ایران کے ساتھ طویل ہوتی جنگ نے اُسے مایوسی کے سمندر کی طرف دھکیلنا شروع کردیا ہے اور کچھ بعید نہیں کہ کچھ دنوں بعد نیتن یاہو بھی اُس کے زیر عتاب ہو کیونکہ امریکی نائب صدر کا نیتن یاہو کو فون پر یہ کہنا کہ آپ نے ہمیں ایران کے بارے میں تمام غلط معلومات فراہم کی تھیں اور ایران میں آپ کا ”کام “ نہ ہونے کے برابر تھا ۔ طویل مایوسی اور طویل قید ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں جو غیر نظریاتی لوگوں کو پاگل پن کی طرف لے جاتے ہیں ۔
ایران اور امریکہ کی اس جنگ کے دوران وفاقی وزیرمواصلات عبد العلیم خان نے ایران کے سفیر کے ساتھ ملاقات کی اورخطے کی موجودہ صورت حال ¾ باہمی دلچسپی کے امور¾ ایران اور پاکستان کے مابین مختلف شعبوں میں پاک ایران تعلقات کی مضبوطی اور باہمی رابطوں میں فروغ پر مکمل اتفاق کرتے ہوئے کہاکہ ساری مسلم امہ کے دل ایران کے ساتھ دھڑکتے ہیں ¾ مستقبل میں بہتری کے لئے عبد العلیم خان نے ایران کیلئے نیک خواہشات کا پیغام دیتے ہوئے ¾ پاکستانی قوم ایران اور ایرانی عوام کو خراج تحسین پیش کیا ۔ عبد العلیم خان کا کہنا تھا کہ ایران نے جرا¿ت اورحوصلے کی نئے تاریخ رقم کردی ہے۔ایرانی سفیر ڈاکٹر رضاامیری نے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای اوردیگر جانی اور مالی نقصان پر فوری مراسلہ بھیجنے پر عبد العلیم خان کا شکریہ بھی ادا کیا ۔ یہ خبر میرے لئے اس حوالے سے بھی اہم ہے کہ جہاں لوگ امریکی خوف اور امریکہ میں اپنے کاروبار اور دیگرمعاملات کے حوالے سے بیک فٹ پر نظر آ رہے ہیں وہیںوفاقی وزیربرائے مواصلات عبد العلیم خان نے جرا¿ت اور بہادری سے اپنے ایرانی بھائیوں کو احساس دلایا کہ جارحیت دنیا میں کوئی بھی کرئے اُسے قانونی تسلیم نہیں کیا جا سکتا ۔ پاکستان اس جنگ میں اپنا کردار جس خوبصورتی سے ادا کر رہا ہے اُس کی تعریف دنیا بھر کے حکمران اور غیر سرکاری ادار کررہے ہیں ۔گزشتہ 78سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ دنیا پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے اور پاکستانیوں کے سر فخر سے بلند ہو رہے ہیں اور اگر کوئی تکلیف میں ہے تووہ چند گمراہ یو ٹیوبر ¾ را ¾ خاد اور موساد کے ایجنٹوں کے علاوہ کوئی نہیں ۔ یہ خطے پر سختی کا وقت ہے اور پاکستان کو بطور ایک طاقتور ریاست اپنا مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے ایران کو متوقع بربادی سے بچانا بھی ہے اور خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کیلئے کسی ایسے معاہدے کی حمایت بھی نہیں کرنی جو یک طرفہ ہو ۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے بار ے میں ¾ میں پہلے بھی لکھ رہا ہوں چکا ہوں اور یاد دہانی کیلئے دوبارہ لکھ رہا ہوں کہ امریکی عوام عنقریب ٹرمپ کے مواخذے اور نیتن یاہو کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات چلانے کا مطالبہ کر رہی ہو گی کہ اس کے بغیر اب یہ دنیا آگے نہیں بڑھ سکتی ۔
جے شنکرکی غیر سفارتی زبان
09:05 AM, 31 Mar, 2026