جنگ کے دنوں میں سیاحت

09:04 AM, 31 Mar, 2026


امریکا و اسرائیل کی طرف سے ایران پر مسلط جنگ امسال پاکستان کی سیاحت کے رنگ دھندلے کرنے والی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے مابین کشیدگی اور پاک افواج کی طرف سے فتنہ الخوارج کے خلاف آپریشن بھی سیاحت کی سرد بازاری کا سبب بن سکتا ہے۔ وطن عزیز کے سرد پہاڑی علاقوں کی طرف جانے والے دور دراز کے میدانی علاقوں کے سیاح مہنگا ترین سفر کرنے پر گھر بیٹھنے کو ترجیح دے سکتے ہیں اور وہ بھی ایسے دنوں میں جب پاکستان کے ہمسایہ ممالک میں جنگ کا بازار گرم ہو اور حکومت بچت پالیسی کے نفاذ اور سمارٹ لاک ڈاو¿ن پر غور کر رہی ہو۔ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں بے تحاشا اضافہ سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد میں کمی کا سبب تو ضرور بنتا ہے۔ گزشتہ ہفتے گزرنے والی عید کی چھٹیوں کے دوران بھی ہل سٹیشن ویران نظر آئے حالانکہ انہی دنوں کچھ علاقوں میں برف باری بھی ہوئی۔
معمول کے برعکس اس بار ناران کے ہوٹل مالکان و ٹھیکیداروں نے بھی ترئین و آرائش پر پیسہ خرچ کرنے سے ہاتھ روک رکھا ہے۔ اپریل کے پہلے ہفتے میں ہمیشہ برف باری سے بند ہو چکی پہاڑی گزر گاہیں کھولنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے جو مئی کے آخر تک مکمل ہوتا ہے۔ میدانی علاقوں کو پاکستان کی شمالی وادیوں گلگت و سکردو سے ملانے والی عظیم بلندی، درہ بابو سر ٹاپ بھی جون کے پہلے ہفتے کھول دیا جاتا ہے۔ برزل ٹاپ، درہ خنجراب اور درہ شیندور کی طرف بھی ابھی تک برفیلی خاموشی کا راج ہے۔ سوشل میڈیا صارفین ابھی تک جنگ جنگ کھیل رہے ہیں اس لیے سیاحوں نے ابھی تک نانگا پربت، راکا پوشی، مشہ بروم، کے ٹو، کنکورڈیا، گوپس اور شمشال کی تصویریں پوسٹ کرنا شروع نہیں کیں حالانکہ مارچ کے وسط میں سیاحت کا بازار سوشل میڈیا پر گرم ہوتا ہے اور مئی کے آخر تک لوگ بل کھاتی سڑکوں پر نظر آتے ہیں۔
افغانستان کی پاکستان کے ساتھ 2679 کلومیٹر طویل سرحد سے ملحق علاقے ضلع چترال، دروش اور وادی¿ کیلاش اس بار سیاحوں کے لیے کم کشش کا باعث ہونگے جس سے ضلع چترال کے قرب میں واقع ترچ میر ایسی خوبصورت چوٹی اور درہ شیندور پر شائد ویرانی رہے۔ مردان تا مینگورہ شہر اور سوات کی پوری وادی پہلے جیسی کشش سے خالی ہونگی۔ تیمرہ گرہ سے کمراٹ تک بھی یہی صورتحال ہو سکتی ہے۔ افغانستان سے متصل صوبہ بلوچستان کے شہر زیارت میں بھی ویرانی ہے، یہ شہر تو سیاحت کا مرکز تھا۔ وادی¿ نیلم تا شونٹر ویلی تک بھارتی جارحیت کے خدشات کے سبب سیاحوں کی کم توجہ حاصل کر سکتی ہے۔ وادی¿ بمبوریت، رمبور، بریر، گرم چشمہ، برموغلاشٹ جیسے پُرکشش علاقوں کی سیاحت افغانی منافقت کی بھینٹ چڑھ سکتی ہے۔
سیاحت کے لیے انسان کی مادی آسودگی کے ساتھ ساتھ ذہنی سکون بھی لازمی جزو ہے۔ امسال ہمسایہ ممالک میں جنگی صورت حال نے کچھ تو مہنگائی میں بے تحاشا اضافہ کر دیا ہے اور کچھ احساس عدم تحفظ بھی گھر سے نکلنے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ جنگ کے ماحول میں جہاں دیگر کاروبار برباد ہوتے ہیں وہاں سیاحت بھی تباہ ہو جاتی ہے۔ اپریل کے وسط تک بھی اگر عالمی امن قائم ہو گیا تو پاکستان میں سیاحت پُر رونق تو ہو گی مگر اس سال عروج نہیں ملے گا۔ پاکستان وہ خوش نصیب ملک ہے جہاں ایک ہی وقت میں چار موسم اور دریاو¿ں کا خود کفیل نظام موجود ہے۔ دنیا بھر کی چودہ بلند ترین چوٹیوں میں سے آٹھ چوٹیاں پاکستان میں موجود ہیں جن پر پڑنے والی برف جہاں دریاو¿ں کا رزق بنتی ہے وہاں ان سے کئی جھیلیں اور چراگاہیں آباد ہوتی ہیں مگر کسی ہمسایہ ملک کے جنگی حالات ہمارا سب کچھ برباد کر دیتے ہیں۔ امن قائم ہو تو پاکستان دنیا کے بڑے سیاحتی ممالک میں سے ایک ہے۔

مزیدخبریں