اونچی دکان پھیکا پکوان 

09:03 AM, 31 Mar, 2026

پاکستان میں جو لوگ بسوں پر سفر کرتے ہیں عام طور پر تین چیزیں ان کے پیش نظر ہوتی ہیں۔ ایک تو سفر سستا ہو، دوسرا آرام دہ ہو اور تیسرا منزل مقصود پر پہنچنے میں کم وقت لگے۔ جن لوگوں کی ترجیح صرف سستا سفر ہوتی ہے اور وہ پیسے کم خرچ کرنے کے چکر میں آرام اور وقت کو اہمیت نہیں دیتے وہ بسوں میں کھڑے ہو کر بھی سفر کر لیتے ہیں اور ایسی بسوں پر سوار ہو جاتے ہیں جو راستے میں آنے والے ہر سٹاپ پر کم سے کم آدھا گھنٹہ قیام کرتی ہیں۔ یہ الگ بات کہ اس قسم کا سستا سفر انہیں عام گاڑیوں سے بھی مہنگا پڑتا ہے کہ انہوں نے ہر سٹاپ سے کچھ نہ کچھ لے کر کھانا پینا بھی ہوتا ہے۔ کہیں سے قلفی تو کہیں سے مکئی کا بھٹا، کسی سٹاپ سے مولی کی سلاد تو کہیں سے آلو کے کٹلیٹس۔ یوں کچھ نہ کچھ کھاتے پیتے ان کی منزل آ جاتی ہے لیکن اس دوران کھانے پینے پر ان کے اتنے پیسے صرف ہو جاتے ہیں جتنا انھوں نے کرایہ ادا کیا ہوتا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ جتنا کچھ سفر کے دوران وہ پیٹ میں ٹھونس چکے ہوتے ہیں، ان کا معدہ اتنے بوجھ کا متحمل نہیں ہو سکتا اور سفر ختم ہونے کے بعد انہیں اگلے ایک دو روز ڈاکٹر کی فیسیں بھی بھرنا پڑتی ہیں۔ یوں سستا سفر عام طور پر جیب کو مہنگے سفر سے بھی زیادہ ہلکی کر دیتا ہے۔ دوسری طرف کچھ لوگ ایسے ہیں جن کی ترجیح سستا مگر آرام دہ سفر ہوتی ہے۔ ایسے لوگ سارا دن بھی بس سٹاپ پر کھڑے رہ کر خالی بس کا انتظار کر سکتے ہیں لیکن بیٹھتے اسی بس میں ہیں جس میں انہیں سیٹ ملے اور سیٹ بھی اپنی پسند کی ملے۔ یہ لوگ کم مسافروں والی بسوں کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ سیٹ پر دراز ہو کر اپنا سفر تمام کر سکیں۔ ایسے لوگوں کو آرام کا موقع ہی شاید سفر کے دوران ملتا ہے۔
کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو سستا مگر تیز رفتار سفر کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگ ہمیشہ "پکے ٹائم" کا انتخاب کرتے ہیں۔ پکا ٹائم ایسی بسوں کو کہا جاتا ہے جو ہر روز ایک مخصوص وقت پر منزل کی جانب روانہ ہوتی ہیں اور انہوں نے اگلی منزل کا وقت بھی مقرر کر رکھا ہوتا ہے۔ یعنی اگر انہوں نے کسی ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچنے کا وقت چار گھنٹے مقرر کر رکھا ہے تو ان کی کوشش ہوتی ہے چار گھنٹے سے بھی کم وقت میں مسافروں کو وہاں پہنچا دیں۔ ایسی بسوں میں عام طور پر وہی لوگ سفر کرتے ہیں جن کا دونوں شہروں کے درمیان آنا جانا معمول ہو۔ 
کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کے نزدیک سفر آرام دہ اور تیز رفتار ہونا چاہیے۔ ایسے لوگ بالعموم مہنگے سفر کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں زیادہ پیسے خرچ کر کے سفر کریں گے تو اچھی سروس ملے گی۔ بس میں بیٹھنے کا انتظام بہتر ہوگا۔ سفر کے دوران ان کی دیکھ بھال بھی کی جائے گی اور وقت پر منزل مقصود پر بھی پہنچا دیا جائے گا۔ ایسے ہی لوگوں کی نفسیات کی بدولت جدید قسم کی بسیں بھی سڑکوں پر دوڑتی نظر آتی ہیں۔ اگر ہم وطن عزیز میں گزشتہ چالیس پچاس برسوں میں بسوں کا ارتقا دیکھیں تو بات تراپڑ تراپڑ سے یورپی طرز کی لگژری بسوں تک پہنچ چکی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب جی ٹی ایس کو بہت جدید سفر تصور کیا جاتا تھا۔ ان سرکاری بسوں میں سفر کرنے والوں کو خوب یاد ہوگا کہ ایک تو اس دور میں سڑکوں کی حالت ہی اتنی اچھی نہیں ہوتی تھی، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر جھٹکے اور ہچکولے بہت زیادہ لگتے تھے، پھر بسوں کی اپنی حالت زار بھی مسافروں کے لیے تکلیف دہ ہوتی تھی۔ سخت اور سیدھی ٹیک والی تنگ نشستیں۔ کھلی اور بعض اوقات ٹوٹی ہوئی کھڑکیاں، کنڈکٹروں سے تو تکار، اپنے سامان کی خود حفاظت کے سلسلے میں لڑائی، غرض منزل تک پہنچتے پہنچتے مسافر جسمانی اور ذہنی طور پر تھک کر چور ہو چکا ہوتا تھا لیکن آج کی جدید بسوں میں سیٹیں آرام دہ ہوتی ہیں، کھڑکیاں مستقل بند ہوتی ہیں۔ بس کے اندر ایئر کنڈیشنر اور ہیٹر درجہ حرارت کو بہتر رکھتے ہیں، سامان رکھنے کے لیے بسوں کے نیچے خانے بنا دیئے گئے ہیں جہاں مسافر سامان رکھنے کے بعد بے فکر ہو کر سفر کر سکتا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ ان بسوں میں کنڈیکٹر کی بجائے ہوسٹس ہوتی ہے جو مسافروں سے ٹکٹ کے پیسے نہیں لیتی بلکہ انہیں کھانے پینے کی اشیا فراہم کرتی ہے اور بس کہ چلنے اور منزل مقصود پر پہنچنے کا اعلان کرتی ہے، سفر کے آغاز پر قرا¿ن پاک کی ایک آیت بھی پڑھتی ہے جو کہ عام طور پر اسے ٹھیک سے یاد بھی نہیں ہوتی، بسوں میں ہیڈ فون اور ٹیبلٹ سکرینیں بھی موجود ہوتی ہیں۔ یہ بسیں طویل سفر میں ایک جگہ اور مختصر فاصلے کے سفر میں کہیں قیام نہیں کرتیں۔ ٹرانسپورٹرز نے لاری اڈوں کو بس ٹرمینل یا شٹل سٹیشن کہنا شروع کر دیا ہے اور اپنی ٹرانسپورٹ سروسز کے نام بھی انگریزی طرز پر رکھے ہوئے ہیں۔
مختصر یہ ہے کہ ماضی کے مقابلے میں اب بسوں کے سفر میں بہت جدت آ چکی ہے اس سب کے باوجود ہمارے ٹرانسپورٹرز کے مزاج میں کوئی جدت نہیں آئی۔ پیسے کمانے کے ہوس ان میں آج پہلے سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ بظاہر بہترین نظر آنے والی بیشتر بسوں میں سیٹوں کا درمیانی فاصلہ ہی مناسب نہیں ہوتا۔ آدمی کو یوں پھنس کر بیٹھنا پڑتا ہے جیسے کسی پنجرے میں قید کر دیا گیا ہو۔ سانس لینا تک دشوار ہو جاتا ہے بعض اوقات بسوں میں اے سی بھی نہیں چل رہا ہوتا جبکہ بس کی کھڑکیاں چاروں طرف سے بند ہونے کے باعث بسوں میں شدید حبس کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ مہنگے ترین ٹکٹ خریدنے کے باوجود سفر کے اختتام پر مسافر کی حالت جی ٹی ایس والے زمانے سے بھی زیادہ بری ہو جاتی ہے۔
 اگر دریا کو کوزے میں بند کرنے کی کوشش کی جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ بظاہر جدید اور تیز رفتار نظر آنے والی بیشتر بسیں اونچی دکان اور پھیکا پکوان کا عملی نمونہ ہوتی ہیں۔

مزیدخبریں