عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی

10:32 AM, 31 Mar, 2025

 حال ہی میں آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدہ طے پانے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے ایک ایسا بیان داغا ہے کہ عوام کو سمجھ نہیں آرہی کہ اس پر روئیں یا ہنسیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ ہماری حکومت کی کارکردگی سے آئی ایم ایف حیران ہے۔ آئی ایم ایف یقینا اس بات پر حیران ہوگا کہ ایک وفادار گاہک کی طرح ان کی شرائط پر من و عن عمل کیا گیا ہے۔ دوسری جانب عوام اس وفاداری کی قیمت جس صبر و شکر سے ادا کرہی ہے اس نے بھی آئی ایم ایف کو ضرور حیران کیا ہوگا۔ وہ ضرور سوچتے ہونگے کہ یہ قوم کتنی مضبوط ہے جو مہنگائی کے اس عذاب کو عزم و ہمت کے ساتھ مسلسل برداشت بھی کر رہی ہے اور چوں تک نہیں کرتی۔اس ملک کی بدقسمتی رہی ہے کہ ہمیں ایسے حکمران اور اشرافیہ ملی جن کے لالچ سے انھیں بنیادی گورننس اور معاشی اصلاحات سے متعلق ایسا کوئی بھی قدم اٹھانے نہیں دیا جس سے ان کے مفادات کو کوئی زک پہنچے۔ ایسی اصلاحات یہ کیونکر نافذ کریں گے جس سے اقتدار پر ان کے گرفت کمزور ہوتی ہو۔ حکومت نے آج تک کونسا عوام دوست فیصلہ کیا ہے جس سے عوام بھی حیران ہو سکے کہ یہ کیسے دیانتدار حکمران آ گئے جنہوں نے عوام کی بھلائی کا بیڑہ اٹھایا، مگر پاکستانی عوام کی قسمت دیکھیں کہ ہر گزرتے دن حکمرانوں کے چکرا دینے والے فیصلے ان کے منتظر ہوتے ہیں۔ ابھی دو ہفتے قبل غریب عوام بڑی خوش ہو رہی تھی کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی آگئی ہے۔ انھیں یقین تھا کہ حکومت قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک ضرور پہنچائے گی۔ اس یقین کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ہر حکومت نے عوام کو واضح طور پر بتایا ہوا تھا کہ ہم ملک میں پٹرول و ڈیزل کی قیمتیں عالمی منڈی کی قیمتوں کے مطابق کم یا زیادہ کرتے ہیں۔سو عوام بھی پرامید تھی کہ ان کو بھی ریلیف ملنے جا رہا ہے۔ مگر حیران و پریشان کر دینے والی اس حکومت نے 10 روپے ڈیزل اور 10 روپے پٹرول کی لیوی میں اضافہ کر کے عوام کے ارمانوں پر پانی پھیر دیا۔ عالمی مندی میں قیمتوں میں کمی کے باعث عوام کو کم از کم ریلیف 15 سے 16 روپے فی لیٹر ریلیف بنتا تھا جس سے عوام کو محروم کر دیا گیا۔ ہوشیاری یہ کی کہ عوام کو بجلی میں 8 روپے فی یونٹ کمی کا لالی پاپ دے دیا تاکہ لوگ کچھ دن اس سہانے خواب کے مزے لیں۔ شہباز حکومت یہ جانتی تھی کہ آئی ایم ایف ایسا نہیں کرنے دے گا۔ سوال یہ ہے کہ آئی ایم ایف سے کنسلٹ کئے بغیر اتنا بڑا اعلان کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ اس حکومت نے کوئی اسٹرکچرل ریفارمز تو کرنے نہیں ہے، لہٰذا قرض لیکر یہ وقت گزاریں گے اور خمیازہ ہمشہ کی طرح عوام بھگتے گی جیسا کہ بھگت رہی ہے۔ اب جو پٹرول کے بدلے سستی بجلی کا کھیل کھیلا گیا ہے اور  اس سے عوام پر کتنا بوجھ پڑا ہے ذرا اس پر نظر دوڑائیں۔  پٹرول اور ڈیزل پر لیوی 60 سے بڑھا کر 70 روپے فی لیٹر کردی گئی، ایسا کرنے سے حکومت نے 16 دنوں میں تقریباً 50 ارب روپے کی اضافی آمدن حاصل کی۔حکومت کو رواں مالی سال جولائی تا فروری 718 ارب روپے لیوی کے مد میں آمدن ہوئی جبکہ پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کا ہدف 1281 ارب روپے ہے۔اب لیوی 60 سے بڑھا کر 70 روپے لیٹر ہونے سے ہر ماہ 10 ارب روپے اضافی ملیں گے، لیوی بڑھنے سے 30 جون 2025 تک 1140 ارب روپے ملنے کی توقع ہے۔ اس طرح سے حکومت نے عوام کی جیبوں سے پیسہ نکلوانے کا جو ٹارگٹ سیٹ کیا ہے وہ کامیابی سے پورا کیا جا سکے گا۔ حکمرانوں کے لئے پیسہ اکھٹا کرنے کا سب سے آسان طریقہ ٹیکسوں میں اضافہ ہے ، چاہے وہ تنخواہ دار طبقہ پر انکم ٹیکس کی شرح میں اضافے کی شکل میں ہو یا پھر مہنگی بجلی، گیس اور پیٹرول کی صورت میں سامنے آئے۔ اندازہ لگائیں کہ آٹھ ماہ میں تنخواہ دار طبقے نے 331 ارب روپے صرف انکم ٹیکس کی مد میں ادا کئے ہیں جبکہ حکومت کے منظور نظر تاجر اور ریٹیلرز سے صرف 23 ارب روپے کی وصولی ہوئی۔ ریٹیلرز کے مقابلے میں تنخواہ دار طبقے نے 1350 فیصد زیادہ ٹیکس ادا کیا۔ ہر حال میں نقصان صرف عوام کا ہے۔ بزنس مین کو بھی یہاں حکومتی سرپرستی حاصل ہے۔ لوئر مڈل اور مڈل کلاس حکومت کے نشانے پر ہے۔ 
اب کون پوچھے شہباز شریف سے کہ ان کا جو حق چھینا گیا یہ کہہ کر کہ ان کو بجلی میں بڑا ریلیف ملنے والا ہے، وہ اب کہاں ہے؟ کیا صرف ڈیڑھ روپیہ فی یونٹ کم کرنے کے اعلان سے عوام کے نقصان کا مداوا ممکن ہے؟ قرض ہو یا امداد ،اس پر حق عوام کا نہیں بلکہ اشرافیہ کا ہے اور یہی وہ نقطہ ہے جس پر حکومت و اپوزیشن ہر دور میں متحد رہی ہیں۔ المیہ ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کی 74 سالہ رفاقت سے عوام تک اس کے ثمرات آج تک نہ پہنچے۔ دہائیوں پر محیط آئی ایم ایف اور پاکستان کے ساتھ نے عوام کی ہمیشہ کمر توڑی۔ جب ان قرضوں سے عوام کو کوئی فائدہ پہنچ ہی نہیں پایا تو اس قرض کا بوجھ پھر عوام کے کاندھوں پر کیوں لادا جائے؟ اس بارے ان حکمرانوں کے پاس کوئی جواب نہیں۔ قرض بھی یہ لیتے ہیں اور دنیا بھر کے براعظموں میں جائیدادیں بھی انہی لوگوں کی نکلتی ہیں۔ نئے بجٹ کی تیاریاں ہیں۔ سرکاری ملازمین کیلئے نئے بجٹ میں مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں اضافے کی امید لگائے ہوئے ہیں جبکہ وزیر خزانہ نے قومی اسمبلی میں تحریری طور پر آگاہ کیا ہے کہ فی الحال سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔سرکاری ملازمین کیلئے خزانہ خالی ہے  دوسری جانب  وزیروں ،مشیروں نے تنخواہوں میں بھاری اضافے کروا لئے ہیں۔ ایک لاکھ لینے والا اب پانچ لاکھ لے گا۔ اس کے علاوہ کابینہ میں نئے وزراء اور وزراء مملکت کی انٹری بھی عوام پر بھاری پڑ رہی ہے۔ ان کے لئے اربوں روپے کی نئی گاڑیاں خرید جا رہی ہیں کیونکہ قرض میں ڈوبے ملک کی عوام کے نمائندوں کو پرانی گاڑیاں اچھی نہیں لگتیں۔ نئی 18 گاڑیاں خریدنے کے لئے کمیٹی بنا دی گئی ہے تاکہ نئے آنے والے وزراء اور مشیروں کے ذوق کی تسکین ہوسکے۔عوام کے نام پر لیئے جانے والے قرض پر عیاشیاں حکومت کرے اور سود سمیت قرض عوام ادا کرے یہی دستور وقت ہے۔ 25 کروڑ عوام کو جس طرح سے ہانکا جا رہا ہے وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ آزادی رائے کا جو حق آئین نے عوام کو دیا ہے پیکا ایکٹ جیسے ڈریکونین لاء کے ذریعے وہ بھی چھین لیا گیا ہے۔ آواز بلند کرنے کے سب راستے ایک ایک کر کے بند کئے جا رہے ہیں۔ حکمران ملک میں قبرستان کی سی خاموشی چاہتے ہیں اور اس جانب یہ سفر تیزی سے جاری ہے۔

مزیدخبریں