اُف یہ بیویاں!

10:31 AM, 31 Mar, 2025

ممکن ہے کچھ اور شادی شدہ لوگوں کے ساتھ مختلف معاملہ ہو لیکن یہ حقیت ہے کہ اپنی شادی سے پہلے میں اتنا معصوم اور بھولا بھالا تھاکہ شادی کے کچھ عرصہ بعد تک بھی میںیہی سمجھتا رہا کہ بیویوں کے حوالے سے جتنے بھی لطیفے ہیں وہ سب شادی شدہ مردوں کے گھڑے ہوئے فرضی قصے کہانیاں ہیں ۔ ان میں سے یہ چند ایک لطیفے شاید آپ نے بھی سنے ہوں’’اگر آپ دنیا کو بدلنا چاہتے ہیںتو یہ اس وقت کریں جب آپ کنوارے ہوں اس لئے کہ ایک بار آپ کی شادی ہو گئی تو آپ دنیا کیا اپنی مرضی سے ٹیلی ویژن چینل بھی تبدیل نہیں کر سکیں گے۔ایک شخص سے اس کی بیوی نے پوچھا ’’آپ کو میری کونسی خوبی زیادہ اچھی لگتی ہے؟‘‘۔ تو اس نے کہا’’تمہاری حس ِمزاح‘‘۔ایک دوست نے اپنی شادی شدہ خوشگوار زندگی کا راز اپنے دوست کو بتاتے ہوئے کہا’’میں اور میری بیوی ہمیشہ سمجھوتہ کرتے ہیں‘‘۔دوست نے پوچھا’’وہ کیسے؟‘‘۔دوست نے جواب دیا’’ میں ہمیشہ تسلیم کرتا ہوں کہ میں غلط ہوں اور میری بیگم ہمیشہ مجھ سے متفق ہوتی ہے‘‘۔میرے ایک دوست نے کہا کہ میاں بیوی کو اپنی محبت بڑھانے کے لیے ایک دوسرے کی تعریف کرنی چاہیے لیکن اس دوران اپنی ہنسی پر قابو رکھنا چاہیے۔شاعروں کو ضرور شادی کرنی چاہیے اگر بیوی اچھی مل گئی تو زندگی اچھی ہوجائے گی ورنہ شاعری اچھی ہوجائے گی‘‘۔قارئین کرام!اس سے پہلے کہ اس نازک موضوع پر گفتگو کو مزید آگے بڑھایا جائے میرا شادی شدہ دوستوں کو مشورہ ہے کہ آج کا یہ کالم اپنی بیگم سے اسی طرح چھپ کر پڑھیں جس طرح میں اپنی بیگم سے چوری چھپے یہ کالم لکھ رہا ہوں۔ اس حوالے سے مزید احیتاط یہ برتیںکہ اس کالم کو پڑھنے کے بعد فی الفور اسے ا سی طرح ضائع کردیںجس طرح شادی سے ہفتہ دس دن پہلے یا بعد میں آپ نے اپنے پرانے محبت نامے یا ’’لو لیٹر‘‘ خفیہ طور پرجلائے تھے۔یہ احتیاط اس لئے بھی ضروری ہے کہ آج عید کا دن ہے میں نہیں چاہتا کہ خدانخواستہ میرے اس’’ایڈونچر‘‘ اور آپ کے’’چسکے‘‘ کی وجہ سے’’ورہے کے ورہے دن‘‘  بھی گھر میںآپ پر کوئی تازہ ترین افتاد آن پڑے۔یہ بھی ٹھیک ہے کہ اس سے پہلے کونسا عید شبرات پر ہم جیسے شادی شدہ حضرات پر عزت افزائی کے لئے چادریں چڑھائی جاتی ہیں مگر میں آپ سب کی ہمدردی میں یہ کہوں گا میرے بھائیوپھر بھی احتیاط ہی بہتر ہے۔’’وہ مرد نہیں جو ڈر جائے حالات کے خونی منظر سے‘‘جیسے کاغذی نعروںکے چکر میں خوامخواہ کسی خطرے سے کھیل کراپنی شامت کو آواز دینا کہاں کی عقلمندی ہے۔ رہی بات آپ سب شادی شدہ حضرات کو عید کی مبارک باد دینے کی تو اس سلسلے میں عرض ہے میں چونکہ خود گذشتہ پچیس برس سے شادی شدہ زندگی گزار رہا ہوں اس لئے سارے حالات جانتے بوجھتے ہوئے بھی آپ کو جھوٹے منہ مبارک باد دینے کی منافقت کم از کم مجھ سے تو نہیں ہوتی البتہ میری طرف سے سبھی مائوں، بہنوں، بیٹیوں، بچوں اور کنوارے لڑکوں کو عید کی بہت بہت مبارک ہو۔اگر خوش قسمتی سے آپ ابھی تک غیر شادی شدہ ہیں تو غالب امکان ہے آپ میری ان باتوںکو سستی قسم کا لطیفہ سمجھ کر مسکرا دیں جس پر مجھے قطعی حیرانی نہیں ہوگی اس لئے کہ اپنی شادی سے پہلے رومینٹک فلمیں دیکھ دیکھ کر زندگی کی تلخ حقیقتوں سے میں بھی اتنا ہی ناآشنا تھا جتنے بے خبر آپ ہیں۔شان،ریما اورشاہ رخ،کاجل کی شادی پر ’’دی اینڈ‘‘ ہونے والی رومینٹک فلمیں دیکھ کر اپنے ہم عمر دوستوں کی طرح مجھے بھی یہی لگتا تھا کہ زندگی کی تمام تر مشکلوں کا حل صرف شادی ہے۔یہ تو شادی کے کچھ عرصے بعد آپ کی بیوی آپ کو بتاتی ہے کہ’’خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا‘‘ مگر تب تک توبہ اور واپسی کے سبھی دروازے بند ہوچکے ہوتے ہیں ۔تین بار ’’قبول ہے‘‘ کہنے کے نتیجے میں آپ کے ساتھ کیا ہاتھ ہوگیا ہوتا ہے بہت جلد بڑے بڑے پھنے خانوں کو پتا ہی نہیں بلکہ لگ پتا جاتاہے۔ چھوئی موئی اور نازک سی محبوبہ بیوی سے بیگم اور بیگم سے ڈول ڈھمکی اور تھانیدارنی قسم کی بے غم کیسے بنتی ہے بیچارے بندے کو پتا ہی نہیں چلتا۔ شادی شدہ مرد حضرات یقینا میری اس بات سے اتفاق کریں گے پڑھی لکھی اور اَن 
پڑھ کی تفریق کے بغیربیوی جتنی پرانی ہوگی اتنی زیادہ 
خطرناک ہوگی۔کسی عام شخص کے لئے یہ ایک عجیب بات ہوگی اسے سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ بندہ اچھا خاصا شادی شدہ ہو۔البتہ خواتین کے لئے یہ بات سمجھنا سر سے ممکن نہیں کیونکہ وہ قدرتی طور پر ایسی خوش قسمت واقع ہوتی ہیںکہ شادی کے بعد بھی اُن کی کوئی بیوی نہیں ہوتی۔ ایک بارمیں نے اپنے ایک شادی شدہ شاعر دوست سے دُکھ سُکھ کرتے ہوئے سوال کیا کہ اس نے شادی کیوں کی تھی تو اس نے مزید دُکھی سا منہ بنا کر کہا’’ دوست !زندگی میں خوشیاں ہی سب کچھ نہیں ہوتیں ‘‘۔کالم کے آخر میں اپنے پیاروں سے دور دیارِ غیر میں عید منانے والے پردیسیوں کے لئے اپنی ایک نظم’’پردیس میں عید!‘‘عید کا دن ہے /اور میں اپنے دیس سے کوسوں دور یہاں/پردیس میں تنہا/ہوٹل کے کمرے میں بیٹھا سوچ رہا ہوں/عید کا دن ہے/باپ مرے نے/ شہر سے آکر اپنے گھر میں عید منانے والے/ میرے سب یاروں سے/فرداً فرداً میرے بارے پوچھا ہوگا/اور پھر میرے بارے اُن کی لاعلمی سے/ڈھلتا سورج دیکھ کے اُس نے جانے کیا کیا سوچا ہوگا/میں جس لمحے گھر کے سب افراد کی خوشیاں لانے کی اک آس جگا کرسینے میں/گھر کے سب افراد کو پیچھے چھوڑ آیا تھا/اُس لمحے کو کوسا ہوگا/اور وہ ممتا ماری جس نے/ اپنے خون سے سینچ کے مجھکو یاں تک ہے پروان چڑھایا/جس کی گود سے سب کچھ سیکھا/جس نے ہے انسان بنایا/دن بھر اُس نے میرے بارے اک اک لمحہ سوچا ہوگا/شام ڈھلے پھر رات گئے تک/میرا رستہ دیکھا ہوگا/ماں نے میرے نہ آنے پر کب کچھ رات کو کھایا ہوگا/جھوٹی طفل تسلی دے کر گھر بھر نے سمجھایا ہوگا/تب بھی اُس کو نیند کہاں کی،چین کہاں سے پایا ہوگا/عید کا دن ہے/اور میں اپنے دیس سے کوسوں دور یہاں پردیس میں تنہا/ہوٹل کے کمرے میں بیٹھا سوچ رہا ہوں/بچوں کو نہلا دُھلا کر/ اچھے سے کپڑے پہنا کر/بیوی میری اب بھی میرے آجانے کی دل میں کوئی آس جگا کر/گھر والوں سے نظر بچا کر/باہر کے دروازے جانب/ چوری چوری تکتی ہوگی/اور پھر میرے نہ آنے پر/اُس کے دل میں کیا کیا خدشے ،کیا کیا شک نہ آتے ہوں گے/اُس نے یہ بھی سوچا ہوگا /میں پردیس میں جاکر شایدپہلے سے کچھ بدل گیا ہوں/ سارے وعدے،ساری قسمیں بھول گیا ہوں/اور میں جو اپنے گھر سے سب کی خوشیاں لینے نکلا ہوں/دیس سے کوسوں دور یہاں پردیس میں تنہا/ہوٹل کے کمرے میں بیٹھا/سوچ رہا ہوں /عید کا دن ہے /خالی ہاتھوں کیسے اپنے گھر کو جاؤں۔

مزیدخبریں