پھیکی عید

10:15 AM, 31 Mar, 2025

عید الفطر جسے میٹھی عید بھی کہا جاتا ہے کے بارے میں اپنے بزرگوں سے سنا کرتے تھے ،عید الفطر کھادیاں سیویاں تھے لتھا فکر،آج اس میٹھی عید کو بھی پھیکی عید بنا دیا گیا ہے کیونکہ اس عید کے لازمی جزو چینی کو مافیا نے ریکارڈ مہنگا کر کے غریب عوام کی پہنچ سے دور کردیا ہے اور ہماری حکومت نے اس میں مداخلت کرنا مناسب ہی نہیں سمجھا ، اسے مداخلت کرنے کے لئے اور بہت معاملات ہیں جیسا کہ سیاسی مخالفین کی زندگیوں کو بے سکون بنانے کے لئے مداخلت کرنا ،جی حضوری نہ کرنے والے سرکاری افسروں کی ترقیاں روکنے کے لئے مداخلت کرنا اور حق سچ کی آواز بلند کرنے والے صحافیوں کی آواز بند کرنے کے لئے مداخلت کرنا۔ 
  رب رحمٰن کی رحمت ،مغفرت اور بخشش سے بھر پور ماہ رمضان ہم سے الوداع ہوا ، عید الفطر اللہ کے حضور شکر گذاری کا تہوار ہے ،ہماری پنجاب حکومت اچھے کام بھی کر رہی ہے مگر اس نے رمضان المبارک اور عید کے موقع پر منافع خوروں کو روکنا مناسب سمجھا نہ اس میں کوئی مداخلت کی ، غریب شہریوں کی جیب پر ڈاکہ زنی کی کھلی چھوٹ دی اور اس کام میں مداخلت کرنا بھی گوارا نہ کیا نتیجے میں منافع خوروں نے مقدس،مبارک اور متبرک تہوار عید الفطر  پر بھی اپنے ڈنگ تیز رکھے اور قوت خرید سے محروم ،مہنگائی کی چکی میں پستے غریب شہریوں کی رگوں سے خون کے آخری قطرے بھی نچوڑ لئے،اس چھینا جھپٹی میں منافع خوروں کی عید ’’عید سعید‘‘بن گئی اور غریب عید کے روز سوچ میں ڈوبے ہیں کہ ساری تنخوا ہ تو بچوں کو عید کی خوشیاں خرید کر دینے میں صرف ہو گئی اب باقی مہینہ کیسے گزرے گا ،یوں غریب کی عید کی خوشیوں کو منافع خور مافیا نے گہن لگا دیا مگر کسی حکومتی ادارے نے مداخلت نہ کی،ہرسال اسی روایت کو دہرایا جاتا ہے مگر وقت کی کسی حکومت نے اس روایت کا سر کچلنے کیلئے کوئی مؤثر اقدام نہ کیا نتیجے میں ہر آنے والی عید پر نئے نئے حربوں سے مہنگائی کا مصنوعی طوفان پیدا کر کے بحران کھڑا کیا جاتا ہے ،وجہ بے حسی،عوام سے لا تعلقی اور اشرافیہ کی من مرضی،حالانکہ اگر انتظامیہ کو فری ہینڈ دیا جائے تو اس روائت کو توڑنا مشکل نہیں۔
حکومت کو جہاں مداخلت کرنی چاہیے وہاں وہ خاموش رہتی ہے اور جہاں مداخلت نہیں کرنی چاہئے وہاں وہ بھر پور مداخلت کرنا کیوں پسند کرتی ہے؟  جمعہ جمعہ آٹھ دنوں کی بات ہے جب اعلیٰ افسروں کو ترقی دینے کے عمل میں من پسند اور سیاسی سفارشی افسروں کا قرعہ نکلا مگر اہل ،دیانتدار اور اپنے کام پر فوکس کرنے والے افسر منہ دیکھتے رہے،یوں تگڑی سفارش اور مداخلت سے بہت سے گھروں میں عید سے پہلے ہی چراغاں ہو گیا اور محروم رہ جانے والے عید کے دن بھی خوشی منانے کی بجائے وضاحتیں دینے میں مصروف ہیں،ترقی کے عمل میں بے ضابطگی ،زیادتی اوربے قاعدگی کو جواز وزیراعظم کا ہائی پاورڈ پرو وموشن بورڈ کی سربراہی سے ہی مل جاتا ہے،اگر چہ اس حوالے سے سالانہ خفیہ رپورٹ،خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹس،اور کارکردگی کی بنیاد پر ترقی دینے سے اس عمل کو غیر متنازع بنایا جا سکتا ہے،مگر افسروں کی خفیہ رپورٹس بھی اب سفارش،رشوت، پسند نا پسند کی بنیاد پر ترتیب پاتی ہیں،خفیہ ایجنسیاں ہر افسر کی رپورٹ کسی بھی عہدے پر تعیناتی کے دوران باقاعدگی سے مرتب کر کے جمع کراتی ہیں ،ضروی نہیں کہ تمام رپورٹس تسلی بخش ہوں،مگر جن کو ترقی دینا مقصود نہیں ان کی صرف ناپسندیدہ رپورٹس پر انحصار کیا جاتا ہے، سوال یہ ہے کہ حکمران کیوں سرکاری افسروں کو ریاست کا ملازم نہیں سمجھتے،ہر حکومت سرکاری ملازمین کو حکومتی ملازم کیوں تصور کر لیتی ہے؟
ترقی کسی بھی افسر کا خواب ہوتی ہے،لیکن حکومت مداخلت کر کے ان کے دیرینہ خواب سے تعبیر چھین لیتی ہے ،یہ ترقی نہ پانے والے اہل افسروں کیساتھ نہیں بلکہ انصاف، اخلاقیات، آئین،متعلقہ قوانین کا جنازہ نکالنے کے مترادف ہے،بلکہ کارکردگی پر یقین رکھنے والے افسروں کی حوصلہ شکنی ہے اور انہیں یہ باور کرانا ہے کہ حب الوطنی ،قواعد کی قید سے نکلو اور جو حاکم وقت کہے اس پر سر تسلیم خم کر دو اور موج کرو ،ترقی بھی پائو،مراعات بھی لو،عدل کی سادہ سی تعریف ہے حقدار کو اس کا حق دینا یا دلانا،لیکن اگر وہ افسر جو ریاست کے نمائندے ہوتے ہیں ، حکومت اور عوام کے درمیان رابطے کا پل ہوتے ہیں وہی آئینی حق سے محروم کر دئیے جائیں تو ریاست سے اعتماد اٹھ جاتا ہے ،ریاست کا درجہ ماں کا سا ہوتا ہے اگر ماں اور اولاد میں اعتماد ڈول جائے تو نقصان کا تخمینہ لگانا ممکن نہیں،حالیہ ترقی کے عمل میں بہت سے افسروں سے خوابوں کی تعبیر ہی نہیں چھینی گئی ان کے ارمانوں کابھی خون کیا گیا اور انصاف کو بھی رگید دیا گیا۔
اسی مداخلت کا نتیجہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہے،ریاست سے بھاری تنخواہ لینے والوں کو کار آمد بنا کر ان سے کوئی کام لینے کو تیار نہیں،ہر سیاستدان اپنی بڑی بڑی تصویریں لگا کر بغیر کچھ کئے کریڈٹ لینے کے چکر میں ہے،مقدس مہینے میں روزے کیساتھ روزہ داروں کو ڈھٹائی سے لوٹا گیا مگر سرکاری مشینری کہیں دکھائی نہیں دی،مہنگائی نے ایک جمپ رمضان کے شروع میں لیا اور سبزی ،پھل،سحر و افطار میں استعمال ہونے والی اشیا کی قیمت آسمان سے جا لگی،عید قریب آتے ہی دوسرا جمپ لیا اور روز مرہ استعمال کی اشیا کے ساتھ جوتے کپڑے اور بچوں کے استعمال کی اشیا بھی مہنگی کر دی گئیں،کہیں انتظامی مجسٹریٹ دکھائی دئیے نہ ڈپٹی کمشنر کے آفس کا عمل کہیں منافع خوروں کو لگام دیتا نظر آیا،لگتا تھا حکومت نے تاجروں کو رضاکارانہ لوٹ مار کی اجازت دے دی ہے،ہر کسی نے اپنی مرضی کے نرخ مقرر کر رکھے تھے،عید پر چینی،چکن،گائے بکرے کا گوشت سب غریب کی قوت خرید سے باہر ہے، ضلعی انتظامیہ کو ٹاسک دیا گیا نہ صدیوں سے آزمودہ مجسٹریسی نظام کو فعال اور متحرک کیا گیا،انہی سطور میں بارہا گزارش کی گئی ہے کہ ڈپٹی کمشنر اور مجسٹریسی نظام کو اسکی روح کے مطابق مکمل طور پر بحال کر کے افسروں کو ٹاسک دیا لیکن اگر ترقی اور اہم عہدوں کی بندر بانٹ اسی طرح سفارش اور پسند نا پسند پر ہوتی رہی تو آنے والے کل میں انتظامیہ کی حالت اس سے بھی زیادہ پتلی ہو گی،ریاست کا وجود کمزور ہو جائے گا،حکومت اور شخصیات مضبوط ہو جائیں گی،آئین قانون قواعد سب قصہ ماضی بن جائیں گے اور ’’ظل الٰہی‘‘ کے منہ سے نکلا ہر لفظ قانون کا درجہ اختیار کر جائے گا اور اب تو عدالتوں پر بھی کسی کو اعتماد نہیں رہا،حالیہ دو سال میں عدلیہ کیساتھ جو برتائو کیا گیا اور جیسے جج صاحبان کو بے اختیار کیا گیا اس کی مثال نہیں ملتی،اگر چہ ماضی بھی کچھ ایسا تابناک نہیں مگر اب تو دور دور تک کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا ۔
رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھئے رکے
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں

مزیدخبریں