کالعدم ایکشن کمیٹی کا پاکستان دشمن کردار 

08:14 AM, 1 Aug, 2026

سمجھ نہیں آتی کہ پاکستان میں کون سی سیاست شروع ہو گئی ہے کہ جس میں اختلاف حکومت سے نہیں بلکہ ریاست سے کیا جاتا ہے اور حکومت کو نہیں بلکہ ریاست کو نشانہ پر رکھ لیا جاتا ہے ۔ یہ سب کیوں ہو رہا ہے اس پر بات کریں گے اور اس کی تفصیل بھی بتائیں گے لیکن پہلے اس وقت آزاد کشمیر میں جو صورت حال ہے اس پر بات کرتے ہیں ۔ 27جولائی کو عین اس دن کہ جب آزاد کشمیر میں انتخابات کا پہلا مرحلہ تھا اس دن میر پور سے راولا کوٹ کی جانب لانگ مارچ کی کال دی گئی جو کامیاب نہیں ہوئی اور یہی وجہ ہے کہ پورے میر پور ڈویژن میں الیکشن پر امن طریقے سے ہوئے اور الیکشن میں جو گڑ بڑ ہوتی ہے وہ چند جگہ پر یقینا ہوئی لیکن کالعدم ایکشن کمیٹی کی کال پر کچھ نہیں ہوا ۔ اس کے بعد آزاد کشمیر میں دوسرے مرحلہ میں مظفر آباد میں الیکشن ہونا تھے تو اس کے بعد راولا کوٹ سے مظفر آباد کی کال دے دی گئی لیکن اتنے شور شرابے کے باوجود بھی کالعدم ایکشن کمیٹی اتنے لوگ جمع نہیں کر سکی کہ جو پولیس کی رکاوٹیں توڑ کر مظفر آباد کی جانب مارچ کرنے کے لئے راولا کوٹ سے ہی نکل سکیں ۔ اب ہو کیا رہا ہے کہ ایک جانب ایک ہی وقت میں پاکستان میں نورین نیازی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتی ہیں اور دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کھل کر ریاست مخالف بیانیہ پر آ گئی ہے اور سردار ابراہیم اور سردار عبد القیوم دونوں کو غدار کہنے کی جسارت کی گئی ۔ سردار ابراہم اور سردار عبد القوم خان دونوں آزاد کشمیر کی سیاست کے انتہائی با عزت اور متحرک کردار تھے اور دونوں ایک دوسرے کے خلاف سیاست کرتے تھے ۔ سردار عبد القوم خان مسلم کانفرنس کے سربراہ تھے اور ان کی وفات کے بعد اب ان کے بیٹے سردار عتیق احمد خان مسلم کانفرنس کے سربراہ ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی شروع دن سے مسلم کانفرنس کے خلاف الیکشن لڑتی ہے لیکن اس نے کبھی سردار عبد القیوم خان کو غدار قرار نہیں دیا۔ کالعدم ایکشن کمیٹی والے بھی ان کی ذات پر تنقید کرتے لیکن یہ اس وقت ہوتا کہ اگر نیت نیک ہوتی لیکن جب ایجنڈا ریاست پاکستان کے خلاف ہو تو پھر سب ایسے ہی ہوتا ہے۔
آزاد جموں و کشمیر کی دھرتی ہمیشہ سے غیور، امن پسند اور تحریک آزادیِ کشمیر کے پروانوں کا مسکن رہی ہے، جہاں کے باسیوں نے ہمیشہ کشمیر کاز کے ساتھ اپنی لازوال محبت کا ثبوت دیا ہے لیکن انتہائی افسوس ناک امر یہ ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے ”کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی“ کے نام پر سرگرم کچھ عناصر نے اپنے ہی خطے میں تخریب کاری، غنڈہ گردی اور بدامنی کا وہ بازار گرم کر رکھا ہے جس نے کشمیر کاز کے دشمنوں کے ایجنڈے کو تقویت دی ہے۔ جو لوگ خود کو عوام کا خیر خواہ اور حقوق کا علمبردار کہلاتے تھے، آج وہ دراصل کشمیری کاز کی پیٹھ میں چُھرا گھونپ رہے ہیں اور اس مقدس تحریک کو دنیا بھر میں بدنام کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ ایکشن کمیٹی کی یہ نام نہاد تحریک اب پُرامن احتجاج کا روپ چھوڑ کر ایک ایسے خوفناک ناسور میں بدل چکی ہے جس کا ہر ہتھکنڈا عام آدمی کی زندگی کو اجاڑنے اور تحریکِ آزادی کے بنیادی نظریے کو نقصان پہنچانے کے لیے وقف ہے۔ یہ تاثر سراسر بے بنیاد ہے کہ ریاست نے مذاکرات سے گریز کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے پیش کردہ 38 مطالبات میں سے 36 پر پہلے ہی عملدرآمد کیا جا چکا تھا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ریاست مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی تھی۔ جہاں تک 12 نشستوں کے تنازع کا تعلق ہے، اس کا حل مکمل طور پر آئینی، قانونی اور جمہوری دائرہ کار کے اندر موجود تھا۔ تاہم، اس آئینی اور جمہوری راستے کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے سڑکوں کی سیاست، احتجاج اور انتشار کو ترجیح دی گئی۔
اس سوچ کی حقیقی عکاسی اس وقت ہوئی جب عمر نذیر کشمیری نے برملا یہ اعلان کیا کہ اگر 12 نشستوں کا مسئلہ حل ہو بھی جائے، تب بھی ہم سڑکوں پر ہی نکلیں گے۔ ایسے بیانات اس دعوے کو مزید کمزور کرتے ہیں کہ احتجاج کا واحد مقصد عوامی مسائل کا آئینی حل تلاش کرنا تھا۔ جون کو ان مسلح جتھوں نے سی ایم ایچ راولاکوٹ جیسے طبی ادارے پر حملہ کیا۔ 5 جولائی کو کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 20 سے 25 نقاب پوش دہشت گردوں نے انجمن تاجران ارجہ کے سیکرٹری جنرل سردار ناصر ارباب اور کزن حسام پر 6 گھنٹے تک وحشیانہ تشدد کیا۔ راولاکوٹ کے متیال میرہ بس ٹرمینل کے قریب 14 جولائی کی صبح کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں کی جانب سے شہری آبادی پر بلااشتعال فائرنگ کی گئی۔ اس نام نہاد تحریک کے مظاہرین اور مسلح جتھوں کی طرف سے آئے روز کی ہڑتالیں، زبردستی کاروبار کی بندش اور شاہراہوں کی طویل بندش نے نہ صرف عام شہریوں کا جینا محال کر دیا ہے بلکہ خطے کی معیشت کو بھی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ کشمیر کی سر زمین پر انتشار پیدا کر کے نہ صرف یہ کہ دشمن کے ایجنڈے کو پورا کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں بلکہ کشمیری عوام سے بھی دشمنی کر رہے ہیں۔ اگر کالعدم ایکشن کمیٹی کو یقین ہوتا کہ عوام ان کے ساتھ ہیں تو وہ دھرنا بھی دیتے اور احتجاج بھی کرتے اپنے مطالبات بھی پیش کرتے لیکن الیکشن میں حصہ ضرور لیتے۔ اب ان کا کام صرف انتشار پیدا کرنا اور ریاست مخالف ہندوستان کے بیانیہ کا پرچار کرنا ہے لیکن یہ کوشش نہ پہلے کامیاب ہوئی اور نہ اب ہو گی۔

مزیدخبریں