سعید تاج! ہمہ جہت شخصیت!!!

08:14 AM, 1 Aug, 2026


کردار کی وہ خوشبو جسے اداکاری کی ضرورت نہیں ہوتی! زندگی کا سب سے بڑا امتحان اچھا انسان بننا ہے اور سب سے آسان کام اچھا انسان دکھائی دینا۔ کردار اور اداکاری کے درمیان یہی وہ باریک لکیر ہے جہاں اکثر لوگ ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔ بعض لوگ اپنی شخصیت کو مذہبی، سماجی یا اخلاقی لبادوں میں اس طرح لپیٹ لیتے ہیں کہ بظاہر وہ پارسائی کا پیکر محسوس ہوتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ان کا اصل مکروہ چہرہ سامنے آ جاتا ہے۔ تسبیح، مذہبی اصطلاحات، قرآنی آیات یا الہامی حوالہ جات دلکش گفتگو کسی انسان کے کردار کا معیار نہیں ہوتیں۔ کردار کا اصل پیمانہ اس کا باطن، اس کی دیانت، اس کا اخلاق، اس کی امانت داری، انسان دوستی اور کمزور انسانوں کے ساتھ اس کا رویہ ہوتا ہے۔ اصل نیکی وہ ہے جسے ثابت کرنے کے لیے دلیلیں نہ دینا پڑیں، جسے اشتہار کی ضرورت نہ ہو، اور جس کے لیے انسان کو ہر لمحہ کوئی کردار ادا نہ کرنا پڑے۔ سچا کردار اپنی خوشبو خود بکھیرتا ہے۔ جیسے پھول اپنی مہک کا اعلان نہیں کرتا، ویسے ہی نیک انسان اپنی نیکی کا چرچا نہیں کرتا۔ لوگ خود اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں، اس پر اعتماد کرتے ہیں اور اس کے سامنے اپنے دل کے زخم کھول دیتے ہیں۔ میں نے زندگی میں ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان کی ضرورت اور اوقات سے کہیں زیادہ نوازا، مگر ان کی خواہشات ختم نہ ہوئیں۔ ان کی نگاہ دوسروں کے حصے کے رزق پر ہی رہی۔ دولت بڑھتی گئی مگر دل تنگ ہوتے گئے۔ ایسے لوگوں کے دروازوں پر ظاہری خوشحالی تو ہوتی ہے مگر سکون نہیں، وسائل تو ہوتے ہیں مگر وسیع القلبی نہیں۔ ضرورت مند ان کے پاس جانے سے پہلے کئی بار سوچتا ہے، کیونکہ اسے ڈر ہوتا ہے کہ کہیں مدد سے پہلے اس کی عزتِ نفس زخمی نہ ہو جائے۔ نیکی، فراخ دلی، خدمت خلق اور انسان دوستی شاید جینز میں ہوتی ہے جو کسی بخیل اور بدخواہ منافق و بد فطرت کو نصیب نہیں۔ نہ ہی کسی احسان فروموش اور گھٹیا دنیا دار کے مقدر میں لکھا۔ اس کے برعکس کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے پاس دولت سے زیادہ دل ہوتا ہے۔ ان کے پاس آنے والا شخص اگر خالی ہاتھ بھی لوٹے تو خالی دل نہیں لوٹتا۔ وہ اگر کسی کی مدد کر سکتے ہوں تو خاموشی سے کر دیتے ہیں، اور اگر کسی مجبوری کے باعث نہ کر سکیں تو بھی اس کی عزت کو مجروح نہیں ہونے دیتے۔ یہی وہ اخلاق ہے جسے اسلام 
نے ایمان کی روح قرار دیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اختیار ملنے پر لوگ بدلتے نہیں بلکہ ان کا انکشاف ہوتا ہے کہ ان کی اصلیت و فطرت کیا ہے۔ ایسے ہی اوصاف جب کسی شخصیت میں جمع ہو جائیں تو اسے مصنوعی عظمت کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس کی پہچان اس کا کردار بن جاتا ہے۔ گوجرانوالہ کی معروف سماجی، کاروباری اور عوامی شخصیت سعید تاج انہی خوش نصیب لوگوں میں شمار ہوتے ہیں جنہیں اچھا ثابت کرنے کے لیے کبھی اداکاری نہیں کرنا پڑی۔ ان کا کردار ان کی سب سے بڑی سند ہے۔ ان کی شرافت، وضع داری، خوش اخلاقی اور انسان دوستی کسی تشہیر کی محتاج نہیں۔شہروں کی اصل شناخت وہ انسان ہوتے ہیں جو اپنے کردار سے اپنے شہر کا نام روشن کرتے ہیں۔ گوجرانوالہ بھی برصغیر کے ان شہروں میں شامل ہے جس کی پہچان صرف صنعت اور تجارت نہیں بلکہ ایسے لوگوں کی وجہ سے بھی ہے جنہوں نے اپنی محنت، خدمت اور اخلاص سے اس شہر کو وقار بخشا۔ سعید تاج اسی روایت کے امین ہیں۔ انہوں نے گوجرانوالہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر کی حیثیت سے تاجروں کی نمائندگی کی، واپڈا ٹاو¿ن گوجرانوالہ کی قیادت کی، اور آج گوجرانوالہ میڈیکل کالج و ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کے مینجمنٹ بورڈ کے چیئرمین کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ ممبران کی نامزدگیاں بیوروکریسی یا ادارہ کرتا ہے جبکہ چیئرمین منتخب ہوتا ہے لہٰذا یہ انتخاب کے نتیجہ میں چیئرمین منتخب ہوئے، مکمل طور پر بورڈ ممبران نے تائید کی۔ یہ محض عہدے نہیں بلکہ اعتماد کی علامت ہیں، کیونکہ اعتماد ہمیشہ کردار پر کیا جاتا ہے، صرف صلاحیت پر نہیں۔ لیکن اگر ان کی شخصیت کا کوئی پہلو سب سے زیادہ قابلِ ذکر ہے تو وہ ان کی خاموش خدمتِ خلق ہے۔ سفید پوش خاندانوں کی مدد، یتیموں کی کفالت، مریضوں کے علاج میں تعاون، طلبہ کی حوصلہ افزائی اور ضرورت مندوں کے مسائل حل کرنا ان کی زندگی کا معمول ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ وہ اس خدمت کو کبھی اپنی شہرت کا ذریعہ نہیں بناتے۔ انہیں معلوم ہے کہ نیکی کا اصل حسن اس کے اخفا میں ہے۔ قرآنِ مجید اہلِ ایمان کو بار بار تلقین کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق میں دوسروں کا بھی حق ہے۔ اسلام نے مال کو جمع کرنے کے بجائے اسے گردش میں رکھنے اور انسانوں کی آسانی کا ذریعہ بنانے کی تعلیم دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی معاشرے کی اصل دولت اس کے بینک بیلنس نہیں بلکہ اس کے صاحبِ کردار لوگ ہوتے ہیں۔چند روز قبل امریکہ میں مقیم میرے عزیز دوست ڈاکٹر اعجاز خاور خواجہ، بین الاقوامی ڈینٹسٹ، سے سعید تاج کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔ انہوں نے ایک جملہ کہا جو میرے دل میں اتر گیا: ہماری معاشرت ابھی اچھے لوگوں سے خالی نہیں ہوئی۔ شاید یہی جملہ سعید تاج کی شخصیت کا بہترین تعارف بھی ہے۔ میں نے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے ان کے بارے میں دریافت کیا۔ الفاظ مختلف تھے، مگر مفہوم ایک ہی تھا۔ سب نے انہیں نرم خو، بااخلاق، تعلق نبھانے والا، روزگار پیدا کرنے والا اور دوسروں کی کامیابی پر خوش ہونے والا انسان قرار دیا۔آج ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا بحران معاشی نہیں، اخلاقی ہے۔ حسد، خود غرضی، ریاکاری اور دکھاوے نے خلوص کی جگہ لے لی ہے۔ لوگ کردار سے زیادہ تشہیر پر سرمایہ خرچ کر رہے ہیں۔ نیکی بھی کیمرے کے سامنے اور خدمت بھی خبروں کی زینت بننے کے لیے کی جا رہی ہے۔ ایسے ماحول میں سعید تاج جیسے لوگ امید کی کرن معلوم ہوتے ہیں۔ سیاسی وابستگیاں ہر شخص کا حق ہیں، مگر کسی انسان کی اصل شناخت اس کی سیاست نہیں بلکہ اس کا کردار ہوتا ہے۔ سعید تاج کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ضرور ہے، لیکن لوگوں کے دلوں میں ان کی جگہ ان کے سیاسی نظریات نے نہیں بلکہ ان کے حسنِ اخلاق، خدمتِ خلق اور انسان دوستی نے بنائی ہے۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ مزید قیمتی ہوتا جاتا ہے۔بزرگوں نے کہا ہے کہ انسان کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ لوگ اس کے سامنے اس کی تعریف کریں، بلکہ یہ ہے کہ اس کی غیر موجودگی میں بھی اس کے لیے خیر کی گواہی دیں۔ سعید تاج کے بارے میں سننے والوں کی زبان پر اچھے الفاظ اور دل میں نیک جذبات اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ کردار کی خوشبو کو کسی مصنوعی خوشبو، کسی اشتہار اور کسی اداکاری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر اسرار احمدؒ کہتے ہیں، آپ متقی، پرہیزگار، غازی سب کچھ ہیں مگر نیک نہیں نیک تب ہیں اگر کسی کی کوئی بھلائی کر سکیں ضرورت پوری کر دیں تو آپ نیک ہیں۔ سعید تاج ایسے لوگ معاشرت کا اثاثہ ہیں۔ قوموں کی تعمیر صرف قوانین، منصوبوں اور عمارتوں سے نہیں ہوتی؛ قومیں ایسے باکردار انسانوں کے دم سے زندہ رہتی ہیں جو خاموشی سے دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں، دل جوڑتے ہیں اور اپنے عمل سے ثابت کرتے ہیں کہ حقیقی عظمت دکھاوے میں نہیں، کردار میں ہوتی ہے۔

مزیدخبریں