جی میل کا چھپا ہوا فیچر، جو غلطی سے بھیجی گئی ای میل واپس لینے میں مدد دیتا ہے

07:41 PM, 31 Jul, 2026

کیلیفورنیا: جی میل استعمال کرنے والے بہت سے افراد کو اکثر اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ ای میل بھیجنے کے چند لمحوں بعد احساس ہوتا ہے کہ پیغام غلط ای میل ایڈریس پر چلا گیا ہے یا اس میں کوئی اہم غلطی رہ گئی ہے۔

کئی مرتبہ آٹو کریکٹ بھی تحریر کے الفاظ تبدیل کر دیتا ہے، جس کے باعث پیغام کا مطلب بدل جاتا ہے اور صارف بعد میں اسے درست نہ کر پانے پر پریشانی محسوس کرتا ہے۔

اگرچہ اس مسئلے کا حل خود جی میل میں موجود ہے، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ بڑی تعداد میں صارفین آج بھی اس سہولت سے لاعلم ہیں۔

جی میل کا "Undo Send" فیچر صارفین کو ای میل بھیجنے کے فوراً بعد اسے روکنے اور دوبارہ ایڈٹ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

یہ فیچر سب سے پہلے مارچ 2009 میں تجرباتی سروس Gmail Labs کے ذریعے متعارف کرایا گیا تھا، جہاں اسے استعمال کرنے کے لیے الگ سے فعال کرنا پڑتا تھا۔ بعد ازاں 2015 میں گوگل نے اسے مستقل طور پر تمام جی میل صارفین کے لیے دستیاب کر دیا۔

اس کے باوجود، دنیا کی مقبول ترین ای میل سروس ہونے کے باوجود، بہت سے لوگ اس کارآمد فیچر کے بارے میں نہیں جانتے۔

اگر ای میل بھیجنے کے بعد محسوس ہو کہ اس میں ترمیم کی ضرورت ہے، غلط وصول کنندہ منتخب ہو گیا ہے یا پیغام بھیجنے کا فیصلہ بدل گیا ہے تو Undo Send کے ذریعے اسے فوری طور پر واپس لیا جا سکتا ہے۔

ای میل بھیجتے ہی اسکرین کے نچلے بائیں حصے میں مختصر وقت کے لیے Undo کا آپشن ظاہر ہوتا ہے۔ اس پر کلک کرتے ہی ای میل وصول کنندہ کے ان باکس میں پہنچنے سے پہلے ہی رک جاتی ہے اور دوبارہ ترمیم کے لیے کھل جاتی ہے۔

اس فیچر کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اگر مقررہ وقت کے اندر ای میل واپس لے لی جائے تو سامنے والے شخص کو اس کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوتی۔

جی میل میں اس فیچر کے لیے ابتدائی طور پر پانچ سیکنڈ کا وقت مقرر ہوتا ہے، تاہم صارفین Settings میں جا کر اس دورانیے کو بڑھا کر 30 سیکنڈ تک کر سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ Undo Send جی میل کے سب سے مفید فیچرز میں سے ایک ہے، کیونکہ یہ غلط ای میل بھیجنے، تحریری غلطیوں یا آخری لمحے میں فیصلہ بدلنے کی صورت میں صارفین کو اپنی ای میل روکنے اور ضروری تبدیلیاں کرنے کا قیمتی موقع فراہم کرتا ہے۔

مزیدخبریں