اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت معیشت کی بہتری، مالی استحکام اور دیرپا اقتصادی ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے اصلاحاتی پروگرام پر تیزی سے عمل درآمد کر رہی ہے۔
انہوں نے اسلام آباد میں ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار کی قیادت میں آنے والے وفد سے ملاقات کے دوران اظہارِ خیال کیا۔
ملاقات کے آغاز میں وزیراعظم نے وفد کا استقبال کرتے ہوئے پاکستان اور ورلڈ بینک کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط تعاون کو خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی معاشی اور سماجی ترقی میں ورلڈ بینک کی معاونت ہمیشہ قابلِ قدر رہی ہے اور پاکستان کی ترقیاتی کوششوں میں ادارے کی مسلسل شراکت قابلِ تحسین ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کا وفاقی آئینی ڈھانچہ، صوبوں کو حاصل اختیارات اور وفاق و صوبوں کے درمیان مسلسل رابطہ اور باہمی مشاورت ملکی استحکام اور ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔
اس موقع پر ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر نے "پاکستان میں مالیاتی وفاقیت کو مضبوط بنانے" کے عنوان سے تیار کی گئی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی اور اس کے اہم نکات سے آگاہ کیا۔
وفد نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ رپورٹ میں اٹھارہویں آئینی ترمیم اور ساتویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے بعد پاکستان میں مالیاتی اختیارات کی تقسیم اور اس کے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ میں محصولات کی وصولی، سرکاری اخراجات، وفاق اور صوبوں کے مالی معاملات، ادارہ جاتی تعاون اور قومی وسائل کے بہتر استعمال سمیت مختلف پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔
ورلڈ بینک کے نمائندوں نے مالیاتی نظم کو مزید مضبوط بنانے، سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال، عوامی خدمات کی کارکردگی بہتر بنانے اور وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان اشتراک کو فروغ دینے کے لیے متعدد سفارشات بھی پیش کیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے رپورٹ میں پیش کیے گئے تفصیلی جائزے اور بین الاقوامی کامیاب ماڈلز کی بنیاد پر مرتب کی گئی تجاویز کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی تحقیقی رپورٹس مؤثر فیصلہ سازی اور مستقبل کی پالیسیوں کی تشکیل میں اہم رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
انہوں نے رپورٹ کا ہر پہلو باریک بینی سے جانچنے کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت دی۔
وزیراعظم نے کہا کہ کمیٹی صوبائی حکومتوں سمیت تمام متعلقہ اداروں اور شراکت داروں سے مشاورت کرے گی اور پاکستان کے آئینی تقاضوں اور وفاقی نظام کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی قابلِ عمل سفارشات مرتب کرے گی جو قومی مفاد اور عوامی فلاح کے لیے سودمند ثابت ہوں۔