کراچی: بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ اور مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کی سالگرہ آج منائی جا رہی ہے۔ پاکستان کی آزادی کی تحریک اور بعد ازاں قومی تعمیر میں ان کی گراں قدر خدمات کو اس موقع پر یاد کیا جا رہا ہے۔
فاطمہ جناح 31 جولائی 1893 کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1919 میں کلکتہ یونیورسٹی سے ڈینٹل سرجری کی ڈگری حاصل کی اور پیشہ ورانہ زندگی میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
بعد ازاں وہ قائداعظم محمد علی جناح کی قریبی رفیق بن کر تحریکِ پاکستان میں سرگرم رہیں۔ انہوں نے برصغیر کی مسلمان خواتین میں سیاسی شعور پیدا کرنے اور انہیں تحریکِ آزادی کا حصہ بنانے کے لیے بھرپور جدوجہد کی، جس کے باعث انہیں قوم کی جانب سے "مادرِ ملت" کا خطاب ملا۔
پاکستان کے قیام کے بعد انہوں نے خواتین کی فلاح و بہبود اور مہاجرین کی امداد کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔ ویمنز ریلیف کمیٹی کے ذریعے انہوں نے متاثرہ خاندانوں کی بحالی اور سماجی خدمت کے مختلف منصوبوں میں حصہ لیا۔
1960 کی دہائی میں بھی فاطمہ جناح نے جمہوریت، آئین کی بالادستی اور عوامی حقوق کے لیے اپنی آواز بلند رکھی۔ ان کی استقامت، قیادت اور قومی خدمات آج بھی پاکستانی قوم کے لیے باعثِ فخر سمجھی جاتی ہیں۔
مادرِ ملت کی سالگرہ کے موقع پر ملک بھر میں مختلف تقریبات اور پیغامات کے ذریعے ان کی سیاسی، سماجی اور قومی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔