گلوکار محمد رفیع کو مداحوں سے بچھڑے 45 سال بیت گئے

03:39 PM, 31 Jul, 2025

لاہور : محمد رفیع، جنہیں "شہنشاہ گلوکاری" کہا جاتا ہے، آج سے 45 سال پہلے ہم سے جدا ہوئے، لیکن ان کی آواز آج بھی دلوں میں زندہ ہے۔ 24 دسمبر 1924 کو لاہور کے محلے بھاٹی گیٹ میں پیدا ہونے والے رفیع صاحب کی آواز میں ایک خاص بات تھی جو لوگوں کو فوراً اپنی طرف کھینچ لیتی تھی۔

رفیع صاحب نے اپنے کیریئر کا آغاز 1941 میں ممبئی سے کیا اور چند ہی سالوں میں بھارتی فلم انڈسٹری پر راج کیا۔ انہوں نے اپنے 36 سالہ سفر میں تقریباً 36,000 گانے گائے، جن میں ہر قسم کے گانے شامل تھے—محبت کے گانے، غمگین گانے، بھجن، نعتیں اور ترانے۔ ان کی آواز ایسی تھی کہ ہر اداکار پر جچتی تھی، چاہے وہ دلیپ کمار ہو یا امیتابھ بچن، ان کی گائیکی نے فلموں کو چار چاند لگا دیے۔

محمد رفیع کا ہر گانا گویا ایک الگ جذبہ، ایک الگ کہانی سناتا تھا۔ انہوں نے 100 سے زائد موسیقاروں کے ساتھ کام کیا، اور ان کی آواز کا جادو ایسا تھا کہ ان کے گانے ہمیشہ یادگار بن جاتے تھے۔

رفیع صاحب کو پانچ بار فلم فیئر ایوارڈ اور ایک نیشنل ایوارڈ بھی ملا، اور ان کی آواز آج بھی ہمارے ساتھ ہے۔ 31 جولائی 1980 کو 56 برس کی عمر میں رفیع صاحب کا انتقال ہوا، مگر ان کا سنگیت ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گا۔ ان کی گائیکی صرف ایک فن نہیں، بلکہ ایک ایسا اثاثہ ہے جسے صدیوں تک یاد رکھا جائے گا۔

مزیدخبریں