عام آدمی کیا سوچ رہا ہے؟

09:23 AM, 1 Sep, 2026

انسانی رشتے بھی عجیب ہوتے ہیں۔ کہیں کوئی باپ اپنی بیٹی کو غیرت کے نام پر قتل کر دیتا ہے اور کہیں کوئی باپ اپنی بیٹی کی عزت پر اپنی جان قربان کر دیتا ہے۔ کہیں ماں اپنے بچے کی بھوک دیکھ کر خود بھوکی سو جاتی ہے اور کہیں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے گھروں میں کتنے ہی کھانے ضائع ہو جاتے ہیں مگر انہیں اس بچے کا خیال نہیں آتا جو رات کو خالی پیٹ سویا ہے۔ شاید یہی تضاد انسانی معاشرے کی سب سے بڑی حقیقت ہے کہ انسان اپنے بچوں سے صرف اس لیے محبت نہیں کرتا کہ وہ اس کی اولاد ہیں بلکہ اس لیے بھی کرتا ہے کہ وہ انہیں اپنے وجود کا تسلسل سمجھتا ہے۔ ہر باپ چاہتا ہے کہ اس کے بچے اس سے بہتر زندگی گزاریں، اچھے کپڑے پہنیں، اچھی تعلیم حاصل کریں، عزت سے جئیں اور وہ محرومیاں نہ دیکھیں جو اس نے دیکھی ہیں۔ لیکن جب اس خواب کی تعبیر کے راستے میں مسلسل دیواریں کھڑی کی جائیں تو ایک مقام ایسا بھی آتا ہے جہاں انسان یہ سوچنا شروع کر دیتا ہے کہ دیوار کس نے بنائی ہے اور اسے گرانے میں کیا کچھ ٹوٹے گا۔
پاکستان کا عام آدمی شاید دنیا کا سب سے صابر آدمی ہے۔ وہ صبح اندھیرے میں گھر سے نکلتا ہے، دن بھر دھوپ، گرد، ٹریفک، دفتروں، کارخانوں اور بازاروں کی خاک چھانتا ہے۔ جس کے بدلے شام کو چند نوٹ جیب میں ڈال کر گھر واپس لوٹتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ آج بچوں کے لیے روٹی، دودھ اور شاید کوئی چھوٹی سی خوشی خرید سکے گا۔ مگر گھر پہنچتے ہی بجلی کا بل، گیس کا بل، بچوں کی فیس، دوائی، کرایہ اور راشن اس کی جیب میں موجود چند نوٹوں کو اس طرح تقسیم کر دیتے ہیں جیسے وہ انسان نہیں بلکہ کسی حساب کتاب کی مشین ہو۔ اس شخص کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ نہیں کہ وہ غریب ہے بلکہ یہ ہے کہ اسے اپنی غربت کی قیمت بھی امیر لوگوں کے فیصلوں کے مطابق ادا کرنا پڑتی ہے۔ وہ مہنگی بجلی خریدتا ہے اور پھر بھی لوڈشیڈنگ برداشت کرتا ہے۔ وہ پٹرول پر ٹیکس دیتا ہے، خریداری پر ٹیکس دیتا ہے، اپنی آمدن پر ٹیکس دیتا ہے مگر جب بدلے میں ریاست سے بنیادی سہولت مانگتا ہے تو اسے ایک دفتر سے دوسرے دفتر اور ایک کھڑکی سے دوسری کھڑکی تک دھکے کھانا پڑتے ہیں۔
یہ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی اگر گرمی کی ایک بے رحم رات میں بجلی چلی جائے اور گھر کے چھوٹے بچے پسینے میں بھیگ جائیں تو ماں ہاتھ کا پنکھا جھلتے جھلتے تھک جاتی ہے اور باپ چھت کو گھورتا ہوا یہ سوچتا رہتا ہے کہ صبح مزدوری پر کیسے جائے گا تو پھر یہ صرف بجلی کی بندش کامسئلہ نہیں رہ جاتا۔ یہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کے رشتے میں ایک دراڑ بنا دیتا ہے۔ عام آدمی باغی نہیں ہوتا بلکہ بہت دیر تک باغی نہیں ہوتا اور اس سے بھی آگے جا کر سوچیں تو وہ باغیوں سے نفرت بھی کرتا ہے لیکن جب یہ سب کچھ اُس پر گزرتا ہے تو وہ پہلے خاموش رہتا ہے اور پھر مایوس ہو جاتا ہے۔ یہ مایوسی اُسے ریاستی امور سے لاتعلق کر دیتی ہے اور آخرکار اس کے اندر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس نظام میں میری زندگی کی کوئی قیمت نہیں میں اس نظام کے لیے اپنی جان، اپنا وقت، اپنی وفاداری اور اپنی محبت کیوں قربان کروں؟ اور یہی سب سے خطرناک سوال ہوتا ہے جو کسی بھی ریاست کیلئے زہر قاتل سے کم نہیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہر سوال کرنے والا باغی نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ سوال ہی اپنی ریاست کو بچانے کیلئے کرتا ہے کیونکہ ریاستیں صرف سرحدوں سے محفوظ نہیں رہتیں بلکہ انہیں شہریوں کے دلوں میں بھی محفوظ رہنا چاہیے۔
پاکستان کا عام آدمی اپنی فوج سے محبت کرتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ سرحد پر کھڑا سپاہی اس کے گھر، اس کے بچوں اور اس کے وطن کے دفاع کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر رکھتا ہے۔ وہ فوجی قربانیوں کی قدر کرتا ہے مگر اسی آدمی کا واسطہ روزانہ حکومتی مشینری سے پڑتا ہے۔ اسے تھانے، عدالت، ہسپتال، سرکاری دفاتر اور ٹریفک پولیس سے واسطہ پڑتا ہے۔ جب ہر جگہ اسے عزت کے بجائے تحقیر ملے تو اس کے ذہن میں ایک سوال ضرور جنم لیتا ہے کہ ریاست آخر ہے کہاں؟ ٹریفک پولیس کی ایک سخت آواز، تھانے میں ایک دھکا، کسی سرکاری اہلکار کا تحقیر آمیز لہجہ، کسی دفتر میں فائل روکنے کا معمولی سا حربہ، یہ سب بظاہر چھوٹے واقعات ہیں لیکن شہری کی عزتِ نفس پر لگنے والے یہ چھوٹے زخم مل کر اسے لہولہان کر دیتے ہیں۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ طاقتور کے لیے قانون کا راستہ نرم اور کمزور کے لیے پتھریلا ہے تو قانون پر اس کا یقین کمزور ہونے لگتا ہے۔ جعلی پولیس مقابلوں کی خبریں ہوں، مقدمات کے برسوں تک فیصلے نہ ہوں، بااثر ملزمان کا بچ نکلنا ہو یا غریب کا معمولی جرم بھی ناقابلِ معافی بن جانا، یہ سب واقعات عام آدمی کو ایک ہی سبق دیتے ہیں کہ قانون کتاب میں برابر ہے زندگی میں ہرگز نہیں۔سب سے زیادہ خوفناک صورت حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب بچے محفوظ نہ رہیں۔ جس ملک میں والدین اپنے بچوں کو سکول بھیجتے ہوئے یہ سوچیں کہ واپسی پر بچہ صحیح سلامت گھر پہنچے گا یا نہیں، وہاں ترقی کے بڑے بڑے دعوے اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔ بچوں کے ساتھ جنسی تشدد، اغوا اور قتل کے واقعات صرف جرائم نہیں، یہ پورے معاشرے کے ضمیر پر فردِ جرم ہیں۔ حیرت یہ ہے کہ فوری انصاف کے دعوے موجود ہیں، فورسز موجود ہیں، ادارے موجود ہیں، قانون موجود ہے، عدالتیں موجود ہیں، میڈیا موجود ہے مگر مجرم کے دل میں خوف موجود کیوں نہیں؟ یہ سوال صرف حکومت سے نہیں، پورے نظام سے ہے۔ حکمرانوں کو شاید یہ غلط فہمی ہے کہ عوام خاموش ہیں تو مطمئن بھی ہیں حالانکہ خاموشی ہمیشہ رضامندی نہیں ہوتی۔ کبھی خاموشی تھکن ہوتی ہے، کبھی خوف، کبھی بے بسی اور کبھی یقین کہ بولنے سے کچھ تبدیل نہیں ہو گا۔ پاکستانی عوام آج حکومت مخالف نعرے سے زیادہ ایک بہتر زندگی چاہتے ہیں۔ انہیں انقلاب کے بڑے بڑے منشور نہیں چاہیے۔ انہیں اپنے بچے کے لیے محفوظ سکول چاہیے، گھر میں بجلی چاہیے، بازار میں مناسب قیمت پر اشیائے ضرورت چاہیے، ہسپتال میں علاج چاہیے، تھانے میں عزت چاہیے، عدالت میں بروقت انصاف چاہیے اور سرکاری دفتر میں انسان سمجھا جانا چاہیے۔
ریاست اگر یہ بنیادی مطالبات پورے نہیں کر سکتی تو پھر اسے یہ ضرور سوچنا ہو گا کہ عام آدمی کے دل میں کیا چل رہا ہے۔ آج عام آدمی شاید یہ سوچ رہا ہے کہ میں نے اپنی پوری زندگی اس ملک کو دی مگر اس ملک کے نظام نے مجھے کیا دیا؟ یہ سوال اگر آج ایک مزدور کے ذہن میں ہے تو کل ایک دکاندار کے ذہن میں بھی ہو گا، پرسوں ایک استاد کے ذہن میں بھی اٹھے گا اور پھر یہ سوال معاشرے کے ہر طبقے میں گردش کرے گا سو اس لیے ابھی وقت ہے۔

مزیدخبریں