پنجاب کی بھولی ترجیحات

09:22 AM, 1 Sep, 2026

پنجاب کی ایک پرانی کہاوت ہے کہ جس کسان کے پاوں پر مٹی نہ لگے، اس کے گھر کی ہانڈی زیادہ دیر نہیں پک سکتی۔ پنجاب کی معیشت پر بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ لاہور کی سڑکیں کتنی ہی چمک جائیں، فلائی اوور کتنے ہی خوبصورت بن جائیں، سرکاری تقریبات کتنی ہی شاندار ہوں اور سوشل میڈیا پر حکومتی کارکردگی کے کتنے ہی رنگین اشتہارات چلتے رہیں، اگر کھیت میں کسان پریشان اور فیکٹری میں صنعت کار بے یقینی کا شکار ہے تو صوبے کی معاشی بنیاد کمزور ہی رہے گی، یہی بنیادی مسئلہ دکھائی دیتا ہے۔ پنجاب بنیادی طور پر زرعی صوبہ ہے۔ محکمہ زراعت کے مطابق زراعت صوبائی معیشت میں 21 فیصد سے زیادہ حصہ ڈالتی اور تقریباً 47 فیصد افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتی ہے۔ یہی زراعت ٹیکسٹائل، خوراک، چاول، خوردنی تیل اور بے شمار دوسری صنعتوں کا خام مال بھی مہیا کرتی ہے۔ یعنی پنجاب میں زراعت اور صنعت دو الگ دنیائیں نہیں بلکہ ایک ہی معاشی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ کپاس کمزور ہو تو ٹیکسٹائل متاثر ہوتی ہے، گندم کاشت کرنے والا نقصان اٹھائے تو دیہی قوتِ خرید گرتی ہے، اور دیہات کی قوت خرید گرے تو شہروں کی تجارت بھی سکڑتی ہے۔
مگر فروری 2024 سے آج تک گندم کی کہانی دیکھیے۔ 2024 میں کسان نے 3900 روپے فی من کے اعلان کو سامنے رکھ کر گندم کاشت کی۔ مگر اس سے پہلے نگران دور میں تقریباً 36 لاکھ ٹن گندم درآمد کی جا چکی تھی۔ پھر مقامی فصل بھی شاندار ہو گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مارکیٹ میں ضرورت سے زیادہ گندم موجود تھی، سرکاری خریداری محدود ہوئی اور کسان کی گندم بعض علاقوں میں 2200 روپے فی من تک فروخت ہوئی۔ یہ محض قیمت کا مسئلہ نہیں تھا۔ چھوٹا کسان فصل گھر میں چھ ماہ رکھ نہیں سکتا۔ اسے کھاد والے کا قرض دینا ہوتا ہے، آڑھتی کا حساب چکانا ہوتا ہے، بچوں کی فیس ادا کرنا ہوتی ہے اور اگلی فصل کے لیے بیج خریدنا ہوتا ہے۔ اس لیے وہ فصل اترتے ہی مجبوراً فروخت کرتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پالیسی کی غلطی براہِ راست کسان کی جیب کاٹتی ہے۔ 2025 میں مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت صوبائی حکومتوں کے زرعی اجناس کی قیمتیں مقرر کرنے اور روایتی خریداری کے نظام سے نکلنے کا عمل شروع ہوا۔ پرانا نظام یقینا مثالی نہیں تھا۔ پنجاب گندم خریدنے کے لیے بینکوں سے بھاری قرض لیتا رہا اور 2023 تک اس مد میں واجبات تقریباً 680 ارب روپے تک پہنچ چکے تھے۔ خریداری کے نظام میں سیاسی اثرو رسوخ، بدعنوانی، ذخیرہ اندوزی اور بڑے زمینداروں کو ترجیح دینے کی شکایات بھی تھیں۔ لہٰذا پرانے نظام کی اصلاح ضروری تھی مگر پرانا پل توڑنے سے پہلے نیا پل بنانا بھی ضروری تھا۔
پنجاب نے الیکٹرانک ویئر ہاو¿س کا تصور متعارف کرایا۔ اصولاً یہ درست سمت تھی۔ کسان اپنی گندم منظور شدہ گودام میں رکھے، رسید حاصل کرے، اس رسید کے عوض بینک سے قرض لے اور فوری طور پر آڑھتی کے ہاتھوں سستی فصل فروخت کرنے پر مجبور نہ ہو۔ لیکن سوال یہ ہے کہ گودام کہاں تھے؟ بینکنگ نیٹ ورک کہاں تھا؟ چھوٹے کسان کو اس نظام تک پہنچانے کا انتظام کہاں تھا؟ کاغذ پر جدید نظام بن گیا، زمین پر کسان پھر آڑھتی کے سامنے کھڑا تھا۔ 2026 میں ایک اور تجربہ کیا گیا۔ نجی کمپنیوں کو بڑے پیمانے پر گندم خریدنے کے لیے سامنے لایا گیا اور تین ملین ٹن تک خریداری کا تصور پیش کیا گیا۔ پنجاب حکومت نے اپریل میں 3500 روپے فی من پر خریداری اور چھ ارب روپے کے مفت باردانے کا بھی اعلان کیا۔ مگر اصل مسئلہ پھر وہی تھا: زرعی پالیسی اپریل میں نہیں، اکتوبر میں بنتی ہے جب کسان بیج زمین میں ڈالتا ہے۔ اسے بوائی کے دن معلوم ہونا چاہیے کہ چھ ماہ بعد مارکیٹ کا بنیادی ڈھانچہ کیا ہو گا، خریدار کون ہو گا، فنانسنگ کیسے ہو گی اور ذخیرہ کہاں ہو گا۔
دوسری طرف مارچ 2026 میں مان نے اپنی حکومت کی چار سالہ کارکردگی پیش کرتے ہوئے مفت گھریلو بجلی، کسانوں کو دن کے وقت بجلی، نہری پانی کو 78 فیصد کھیتوں تک پہنچانے، سرکاری ملازمتوں، عام آدمی کلینکس اور علاج کی سہولتوں کو نمایاں کیا۔ مئی میں بھارتی وزیر زراعت اور بھگونت مان کے درمیان ملاقات کا مرکزی موضوع بھی کسان، پانی، فصلوں کی diversification اور زرعی پائیداری تھا، جبکہ 125 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریداری کا ہدف پورا کرنے کی بات کی۔ یہاں اصل نکتہ بھگونت مان کی تعریف نہیں، ترجیحات کا تقابل ہے۔ اُدھر گفتگو ہے کہ پانی کھیت تک کیسے پہنچے، کسان کو دن میں بجلی کیسے ملے، سرکاری سکول اور بنیادی صحت کیسے بہتر ہوں اور زرعی پیداوار کو کیسے برقرار رکھا جائے۔ اِدھر ہمارا کسان تین سال سے یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے کہ اگلی گندم آخر خریدے گا کون؟ اور صرف کسان نہیں۔ پنجاب کی دوسری معاشی شہ رگ ٹیکسٹائل انڈسٹری ہے۔ کپاس سے جننگ، سپننگ، ویونگ، پروسیسنگ، گارمنٹس اور برآمدات تک لاکھوں روزگار ایک زنجیر سے وابستہ ہیں۔ اگر کپاس کی پیداوار گرے، بجلی اور گیس مہنگی ہوں، فنانسنگ مہنگی ہو اور صنعت اپنی علاقائی مسابقت کھو دے تو لاہور کی خوبصورتی فیصل آباد، ملتان اور شیخوپورہ کے صنعتی یونٹس کے بند دروازے نہیں کھول سکتی۔ وزیراعلیٰ کو ہر ہفتے کسانوں، ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز، زرعی ماہرین، صنعت کاروں، آبپاشی انجینئروں اور بینکاروں کے ساتھ بیٹھنا چاہیے۔ صوبے کا اصل ڈیش بورڈ یہ ہونا چاہیے: فی ایکڑ پیداوار کتنی بڑھی؟ کپاس کتنی ہوئی؟ گندم کی پیداواری لاگت کیا ہے؟ نہری پانی کتنے کھیتوں تک پہنچا؟ کتنے صنعتی یونٹ چل رہے ہیں؟ کتنی نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں؟ اور کتنی برآمدات بڑھیں؟ کامیابی ان اعداد سے ناپی جانی چاہیے۔
گندم کا بحران حکومت کے کھاتے میں ڈالنا غلط ہو گا، گندم کا فرسودہ سرکاری نظام کئی دہائیوں کا مسئلہ تھا، 2024 کے بحران میں نگران حکومت کی درآمدات کا کردار تھا اور آئی ایم ایف کی شرائط نے صوبائی حکومت کے لیے پرانے ماڈل کو جاری رکھنا مزید مشکل بنایا البتہ حکومت کا کام مشکلات کی تاریخ سنانا نہیں، ان کا حل دینا ہے۔ اب اگلی بوائی سے پہلے واضح پالیسی چاہیے۔ گاو¿ں اور تحصیل کی سطح پر ویئر ہاو¿س قائم ہوں، رسید کے عوض فوری بینک فنانسنگ دستیاب ہو۔ چھوٹے کسان کو 90 دن کیلئے قرض، نجی خریداروں کی Credit lines فصل آنے سے پہلے منظور، پاسکوکا شفاف نظام ہو۔ ذخیرہ رکھنے والوں اور سٹاک کی رجسٹریشن لازم ہو۔

مزیدخبریں