اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں 14 نومولود پھولوں کی وارڈ میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں ہلاکت ایک انتہائی درد ناک سانحہ ہے۔ ان بچوں کی ماوں نے کیسے نو ماہ تک انہیں اپنی کوکھ میں رکھا ہو گا۔ ہر ماں نے کس احتیاط کیساتھ تمام مہینے گزارے ہوں گے کہ بچہ بحفاظت رہے۔ ان بد نصیب ماوں کو کیا معلوم تھا کہ یہ ننھے پھول دنیا میں آنے کے چند دن بعد آگ اور دھوئیں کی نذر ہو کر واپس لوٹ جائیں گے۔ اطلاعات کے انبار میں یہ خبر بھی پڑھنے کو ملی کہ ایک بچے کے باپ نے بتایا کہ شادی کے برسوں بعد اس کے ہاں بچہ پیدا ہوا تھا۔ خیال آتا ہے کہ دعاوں ، آرزووں اور ارمانوں کے بعد پیدا ہونے والا بچہ اس ناگہانی افتاد کی نذر ہو کر موت کے منہ میں چلا گیا تو اس کے ماں باپ پر کیا بیتی ہو گی۔ دعا ہے کہ اللہ پاک ان بچوں کے والدین کو صبر عطا فرمائے۔ آمین۔ اس سارے واقعے میں نرس رضیہ کی انسان دوستی اور بہادری کو سلام۔ جس کی وجہ سے ایک نومولود بچے کی جان بچ گئی۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے رضیہ کیلئے ایک کروڑ روپے کا انعام اور سول ایوارڈ کے لئے نامزدگی نہایت عمدہ فیصلہ ہے۔ ایک عام ورکر کے جذبے کی حوصلہ افزائی ہونی ہی چاہیے۔ اب تک کی تحقیقات میں آگ لگنے کی تکنیکی وجوہات کا تعین نہیں ہو سکا ہے۔ البتہ فائر سیفٹی، ایمرجنسی اطلاع کے نظام، انخلاءکے راستے، منصوبہ بندی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی انتظامی تیاری کے ضمن میں سنگین خامیوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ ایسا واقعہ دنیا کے کسی ملک میں اس سے پہلے رونما نہیں ہوا۔ ہسپتالوں میں آگ لگنے اور اس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی ایک لمبی فہرست مرتب کی جا سکتی ہے۔ نہ صرف ترقی پذیر ممالک میں بلکہ امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا جیسے ترقی یافتہ ملکوں میں بھی ہسپتالوں کے انتہائی نگہداشت اور حساس یونٹس میں ایسے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔ مطلب یہ کہ حادثہ یا آگ لگنے کا واقعہ کہیں بھی ، کسی بھی وقت اور کسی بھی ملک میں ہو سکتا ہے۔ وجہ یہ کہ ہسپتال میں بیک وقت کئی پیچیدہ نظام اور مشینیں کام کر رہی ہوتی ہیں۔ ہزاروں برقی آلات، آکسیجن سیلنڈر، وینٹی لیٹرز، آپریشن تھیٹرز اور معلوم نہیں کیا کیا۔ کسی بھی شارٹ سرکٹ، برقی خرابی یا کسی تکنیکی وجہ سے آگ لگنے کا واقعہ پیش آ سکتا ہے۔ اصل چیز یہ ہے کہ اس قسم کے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لئے ہسپتال نے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ ہنگامی صورتحال میں کتنے لوگوں کی جان بچائی جا سکی؟ انتظامیہ اور عملے نے کتنی مستعدی اور تیز رفتار رد عمل کا مظاہرہ کیا؟
پمز میں ہونے والے واقعے کو بھی اس بنیاد پر پرکھا جانا چاہیے۔ آگ کیوں لگی اور کس خرابی کی وجہ سے لگی، اس سوال کا جواب تحقیقات کے بعد سامنے آ جائے گا۔ دیگر سوالوں پر غور ہونا چاہیے۔ آگ لگنے کے بعد ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے انتظامیہ کی کیا تیاری تھی اور عملے نے کس قدر مستعدی کا مظاہرہ کیا۔ آگ لگ گئی تھی تو اس سارے وارڈ میں سے صرف ایک بچے کو ہی کیوں بچایا جا سکا؟ بچائے جانے والے بچوں کی تعداد زیادہ بھی تو ہو سکتی تھی۔ یہ حقیقت تسلیم کہ صرف دو منٹ میں ہی وارڈ دوئیں سے بھر گیا۔ اس کے باوجود جو بہادری یا چابک دستی نرس رضیہ نے دکھائی ، وہ دیگر عملے نے کیوں نہ دکھائی؟ یہ اور ایسے کئی سوال جواب طلب ہیں؟
ہم بخوبی آگاہ ہیں کہ ہسپتالوں میں نومولود بچے، وینٹی لیٹر پر لگے یا بے ہوش مریض ، اور معذور افراد کسی بھی ہنگامی صورتحال کا آسان ہدف ہوتے ہیں۔ حادثہ یا ہنگامی صورتحال سب سے پہلے انہیں دبوچتی ہے۔ دیگر مریض تو بھاگ کر اپنی جان بچا سکتے ہیں تاہم نومولود بچے، معذور، بے ہوش اور شدید بیمار ایسا کرنے سے عاجز ہوتے ہیں۔ ہسپتال کی عمارتیں بناتے وقت یہ اصول مدنظر رہتا ہے کہ ان وارڈز یا یونٹس میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے انتظامات دیگر مقامات کی نسبت زیادہ ہوں۔ دنیا بھر میں high risk patient evacuation planning کو ایک خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ کیا پمز میں بھی ایسا کوئی نظام موجود تھا ۔ کیا پاکستان میں ہم ہسپتال بناتے وقت ا س اصول اور منصوبہ بندی کو مدنظر رکھتے ہیں؟
پاکستان میں ہسپتالوں میں آتش زدگی کے واقعات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں۔ بچوں کے وارڈز، آپریشن تھیٹرز ،آئی۔ سی۔ یو سمیت حساس مقامات آگ لگنے سے متاثر ہوئے۔ ہلاکتیں بھی ہوئیں۔ پمز ہی کی طرح ایک جذباتی طوفان اٹھتا ہے۔ بلند بانگ اعلانات ہوتے ہیں۔ معطلیا ں ہوتی ہیں۔ تحقیقاتی کمیٹیاں تشکیل پاتی ہیں اور پھر چند دن کے بعد ہم سیاسی کھیل تماشوں میں کھو جاتے ہیں۔ میڈیا بھی اپنے اس پسندیدہ موضوع یعنی سیاست میں مگن ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ واقعہ قصہ پارینہ بن جاتا ہے
پمز کے سانحے کے بعد وزیر اعظم نے فوری نوٹس لیا ہے۔ ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی قائم کی ہے۔ نہایت اہم عہدیداروں کو معطل بھی کیا گیا ہے۔ امید ہے کہ چند دن کے بعد کوئی رپورٹ سامنے آ جائے گی۔ لیکن اس کے بعد کیا ہو گا؟ اس سے پہلے بھی ہسپتالوں میں کئی حادثے ہو چکے ہیں۔ ایک واقعے میں تو چوہے نومولود بچوں کو کتر بلکہ کھا گئے تھے۔ کیا اس کے بعد ہمار ے ہسپتالوں کی حالت زار پر کوئی فرق پڑا تھا۔ ہر سال اربوں روپے کا بجٹ شعبہ صحت کو دیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود سرکاری ہسپتالو ں میں مریض خوار ہوتے ہیں۔ ادویات دستیاب نہیں ہوتیں۔ ڈاکٹروں کی غیر حاضری کی شکایات رہتی ہیں۔ وغیرہ وغیرہ ۔ سوال اٹھتا ہے کہ اس بجٹ کا استعمال کیسے ہوتا ہے؟ کیا ہسپتالوں میں جوابدہی کا کوئی نظام موجود ہے بھی یا نہیں۔ کل ایک ویڈیو میری نگاہ سے گزری کہ پنجاب کے وزیر صحت خواجہ عمران نذیر کسی ہسپتال میں انتظامیہ پر الٹ رہے تھے کہ متعلقہ ڈاکٹر ڈیوٹی پر موجود کیوں نہیں ہیں۔ چند ماہ پہلے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوا زشریف نے بھی ایک سرکاری ہسپتال کا دورہ کیا اور اس کی انتظامیہ کی ڈانٹ ڈپٹ کی ۔ ہمارے سرکاری ہسپتالوں کی صورتحال اس قدر ابتر ہے کہ آئے روز کوئی نا کوئی افسوسناک واقعہ رونما ہوتا ہے۔
آج سب کو فوج کے ماتحت چلنے والے سی۔ ایم ۔ ایچ کی مثال یاد آرہی ہے۔ جہاں سپاہی سے جرنیل تک علاج کرواتے ہیں۔ حکومتوں کو بھی فوجی انداز میں ہسپتال بنانے اور چلانے کا درس دیا جا رہا ہے۔ اصولی طور پر تو سرکاری ہسپتالوں کو بھی ہر خاص و عام کیلئے علاج کی فراہمی کا ذمہ دار ہونا چاہیے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ کاش ہم پمز کے سانحے سے کوئی سبق سیکھیں ۔ صحت کے نظام میں جنگی اور فوجی بنیادوں پر تبدیلی لائیں۔ کتنا اچھا ہو کہ پمز سانحہ پاکستان کے ہسپتالوں کی مکمل اصلاح کا نقطہ آغاز ثابت ہو۔ ننھے پھولوں کی جانوں کے ضیاع کے بعد ہم یہ سبق سیکھ لیں اور ہسپتالوں کی اصلاح احوال کر سکیں تو آئندہ کوئی مریض ہسپتالوں میں حفاظتی غفلت کا شکار نہیں ہو گا۔
پمز سانحہ : کیا ہم کوئی سبق سیکھیں گے؟
11:10 AM, 31 Aug, 2026