پنجاب کے کئی اضلاع میں سیلاب کے باعث اسکول بند

07:32 PM, 31 Aug, 2025

لاہور: پنجاب کے متعدد اضلاع میں حالیہ بارشوں اور دریاؤں میں آنے والے سیلاب کی وجہ سے تعلیمی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے حفاظتی اقدامات کے تحت کئی سرکاری اور نجی اسکولوں کو بند رکھنے کے نوٹیفکیشنز جاری کیے ہیں۔

لاہور
ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسیٰ رضا کے مطابق شہر کے 45 اسکول متاثرہ علاقوں میں ریلیف کیمپس کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں، اس لیے وہ بند رہیں گے۔ دیگر تمام اسکول یکم ستمبر سے کھل جائیں گے۔

قصور
قصور میں بھی ستلج کے پانی سے متاثرہ علاقوں میں 107 اسکول تا حکم ثانی بند رکھنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ ان میں تحصیل قصور، چونیاں اور پتوکی کے اسکول شامل ہیں۔

نارووال
نارووال میں ڈپٹی کمشنر حسن رضا نے اعلان کیا ہے کہ یکم سے 5 ستمبر تک ضلع کے تمام متاثرہ اسکول بند رہیں گے۔

پاکپتن
دریائے ستلج میں طغیانی کے باعث ضلع پاکپتن کے 30 اسکول بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جن میں تحصیل پاکپتن اور عارفوالا کے ادارے شامل ہیں۔

شیخوپورہ (شرقپور)
شرقپور شریف میں دریائے راوی کے قریبی دیہات کے 10 اسکول سیلابی صورتحال کے باعث بند کر دیے گئے ہیں۔

منڈی بہاؤالدین
دریائے چناب کے کنارے واقع 18 دیہات میں قائم سرکاری اور نجی اسکول 7 ستمبر تک بند رہیں گے۔

وہاڑی
وہاڑی میں 60 اسکولوں کی تعطیلات بڑھا دی گئی ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق سیلاب کم ہونے کے بعد ہی تدریسی عمل دوبارہ شروع کیا جائے گا۔

ملتان
ضلع ملتان کے بیشتر اسکول کھل جائیں گے تاہم 23 ادارے بند رہیں گے، ان میں سے کچھ پانی سے متاثر اور کچھ ریلیف کیمپس میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

بہاولنگر
حکومتی ہدایات پر بہاولنگر میں تمام اسکول، اکیڈمیز اور ٹیوشن سینٹرز 5 ستمبر تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

رحیم یار خان
رحیم یار خان میں بھی سیلاب کی شدت کے پیش نظر 56 اسکول پانچ روز کے لیے بند رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے۔

 

انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بچوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے، اس لیے متاثرہ علاقوں کے تعلیمی ادارے عارضی طور پر بند رکھے گئے ہیں، اور حالات معمول پر آنے پر دوبارہ کھول دیے جائیں گے۔

مزیدخبریں