تیانجن : وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اپنے دورہ چین کے دوران تیانجن یونیورسٹی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پاکستانی طلبہ، اساتذہ اور یونیورسٹی انتظامیہ سے ملاقات کی اور ایک اہم خطاب کیا۔
اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین صرف سیاسی یا معاشی شراکت دار نہیں بلکہ تاریخی، ثقافتی اور تہذیبی رشتوں میں بھی بندھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس دوستی کو "شاہراہ ریشم" جتنی پرانی اور "شاہراہ قراقرم" جتنی مضبوط قرار دیا۔
وزیراعظم نے بتایا کہ اس وقت 200 سے زائد پاکستانی طلبہ تیانجن یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں اور انہیں چاہیے کہ وہ یہاں سے جدید تعلیم اور مہارت حاصل کر کے پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ:
"یہ طلبہ پاکستان کے سفیر ہیں، اور اب پاک چین دوستی کی مشعل ان نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔"
انہوں نے تیانجن یونیورسٹی کو علم و تحقیق کا ایک بڑا مرکز قرار دیا اور کہا کہ یہ ادارہ چین کی سائنسی، صنعتی اور تعلیمی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
وزیراعظم نے چینی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چین نے جس طرح کروڑوں افراد کو غربت سے نکالا، وہ دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔ صدر شی جن پنگ کا "مشترکہ خوشحالی" کا وژن دنیا بھر کے لیے ایک راہنما سوچ بن چکا ہے، اور پاکستان بھی اسی راستے پر چلنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت تقریباً 30 ہزار پاکستانی طلبہ چین میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جو تحقیق، سائنس، ٹیکنالوجی اور ووکیشنل ٹریننگ جیسے شعبوں میں مہارت حاصل کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے چینی کمپنیوں کے تعاون سے پاکستانی نوجوانوں کو تربیت دینے کے منصوبوں کو بھی سراہا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے آخر میں کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات وقت کے ساتھ مضبوط تر ہو رہے ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ نئی نسل اس رشتے کو مزید آگے لے جائے۔