پشاور کے معروف شاعر اور محقق ڈاکٹر نذیر تبسم انتقال کر گئے

02:53 PM, 31 Aug, 2025

پشاور : پشاور کے ادبی منظرنامے کی ایک روشن اور معتبر آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔ معروف شاعر، محقق اور استاد پروفیسر ڈاکٹر نذیر تبسم ہفتے کی شب ایک مشاعرے کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 75 برس تھی۔

ڈاکٹر نذیر تبسم کا اصل نام نذیر احمد تھا۔ وہ 4 جنوری 1950 کو پشاور کے علاقے مچھی ہٹہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم یہیں سے حاصل کی، پھر پشاور یونیورسٹی سے اردو ادب میں ایم اے کیا، اور بعد میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کا تحقیقی مقالہ "سرحد کے اردو غزل گو شعرا: قیام پاکستان کے بعد" علمی دنیا میں ایک اہم دستاویز کے طور پر جانا جاتا ہے۔

تعلیم و تدریس کے شعبے میں بھی ان کا کردار نمایاں رہا۔ انہوں نے اسلام آباد اور پشاور کے مختلف تعلیمی اداروں میں پڑھایا، اور 1978 سے لے کر 2010 تک پشاور یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے وابستہ رہے۔ ان کے سیکڑوں شاگرد آج ملک بھر میں علمی اور ادبی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ڈاکٹر نذیر تبسم کے تین شعری مجموعے "تم اداس مت ہونا"، "کیسے رائیگاں ہوئے ہم" اور "ابھی موسم نہیں بدلا" شائع ہو چکے ہیں۔ ان کی شاعری میں ذاتی احساسات، معاشرتی مسائل اور پشاور کی تہذیبی جھلک خوبصورتی سے جھلکتی ہے۔ انہوں نے کئی ادبی مضامین اور تنقیدی تحریریں بھی لکھیں جو مختلف جرائد کی زینت بنیں۔

وہ بزمِ سخن، حلقۂ اربابِ ذوق اور انجمن ترقی پسند مصنفین جیسی ادبی محفلوں میں ایک فعال اور محترم شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔

ادبی حلقوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نذیر تبسم کی وفات صرف پشاور نہیں، پورے اردو ادب کا نقصان ہے۔ وہ ایک ایسے انسان تھے جو علم، ادب اور تہذیب کا پیکر تھے، اور ان کا خلا آسانی سے پُر نہیں ہو سکے گا۔اللہ تعالیٰ انہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے، اور ان کے اہلِ خانہ و شاگردوں کو صبر عطا فرمائے۔

مزیدخبریں