’’عورتوں سے گھر نہ چھینو‘‘…

09:17 AM, 31 Aug, 2025

گھر کیا ہوتا ہے یہ کوئی عورت سے پوچھے؟ اس کیلئے یہ بھٹے کی اینٹوں سے بنی کوئی مرلے، کنال یا اراضی نہیں ہوتی اس کیلئے اس کے گھر کل کائنات ہوتا، اس کی جنت ہوتا ہے 88کے سیلاب والی صورتحال ایک مرتبہ پھر آنکھوں سے دیکھ رہی ہوں جب عورتیں بند روڈ پر چھتوں پر کھڑی گھر چھوڑنے سے انکار کررہی تھیں انتظامیہ اور ادارے بڑے بڑے لاؤڈ اسپیکر پکڑ کر پیغام اجل دے رہے تھے عورتوں کو گھر چھوڑنے پر آمادہ کررہے تھے مگر وہ ’’نمانیاںاپنے برتن بھانڈے چھوڑکر جانے کو تیار نہیں تھیں…ان کی چھوٹی چھوٹی جنتیں ان کی کمیٹیوں سے جمع کی ہوئی مگر گھربستیاں وہ سب چھوڑ کر کیسے سڑکوں پر بنے ہوئے سرکاری شامیانوں میں چلی جاتیں میں نے تو ایسی ایسی نیک بیبیاں بچپن میں دیکھیں جو ایک بار دلہن بن کر شامیانوں میں آئیں پھر تاعمر گھروں میں چھپی رہیں حتیٰ کہ ان کے جنازے انہی کپڑے سے بنے شامیانوں (ٹینٹ قناتیں) میں پڑھائے گئے اور وہ شام کے دھندلکے میں آخری رہائش گاہوں میں پہنچ گئیں…
وہی اعلانات آج بھی ہورہے ہیں نئی نئی بستیاں بن گئی ہیں ظالم ٹھیکیدار اپنے مالی مفاد کیلئے دریاؤں میں گھربنا کر بیچ گئے ہیں وہ گھر جوان عورتوں نے کانوں کی بالیاں میکے کے زیور اور منگنی کے چھلے بیچ کر بنایا ۔ ان ظالم حرص پرست ستر ستر سال کے بوڑھے پیسے کی طلب میں بھاگتے حریص غلیظ حرامخوروں نے لوگوں کے جذبات سے کھلواڑ کیا ماؤں کی بددعائیں لیں بہنوں کے جہیز پانیوں میں ڈبودیئے بیٹیوں کے کپڑے زیور بچوں کی کتابیں بوڑھوں کی دوائیاں سب پانی کی نذر کردیا سب کا مستقبل ڈبو کر یہ حریص ذہنی مریض ٹھیکیدار بستیاں بساتے نہیں بناتے رہے مال بنانے کیلئے انہوں نے وہ منظر نہیں دیکھا جب پانی کے ریلے میں عالیشان ماربل سے بنی قبریں بہہ گئیں  ۔کئی کچی قبروں کو پانی میں بہتے دیکھا تو اپنے آنسونہ ضبط کرسکی یا خدا یہ کن کے ماں باپ کن کے بھائی کن کے جگر گوشے ہیں جنہوں نے اپنی آخری آرام گاہیں بھی تبدیل کرلیں ہیں یہ قبروں کی نشانیاں بھی مٹ گئیں اب کوئی ان پر فاتحہ پڑھنے کیا راوی، چناب اور ستلج کے اندر جایا کرے گا۔ 
ارے اوظالمو …دیکھو خدا کیا کیا دکھاتا ہے یہ رقمیں جو تم نے کبھی دیکھی نہیں جو بینکوں ہی سے بینکوں میں منتقل ہو جاتی ہیں یہ تمہاری دولت دولت کے اعدادوشمار سے زیادہ مقام نہیں رکھتیں اور جو چھوٹے چھوٹے گھروں میں پردہ دار بیٹیوں کی بے پردگی تم نے کی ہے تمہیں خدا کبھی معاف نہیں کرے گا۔ 
اے جعلی بستیاں سڑکیں پل بنانے والو خدا سے ڈرو کہ مخلوق خدا تمہارے باعث نہ صرف سسک سسک کر مررہی ہے بلکہ ٹینٹوں قناتوں شامیانوں میں بے آسرابے یقین بے گھر بیٹھی ہوئی ہے اسے سیلاب زردگان کے نام پرپیسہ کھانے والو ایک دفعہ سوچ لینایہ پیسہ کینسر سے بڑی بیماریوں میں نکلے گا رزق حرام کبھی نہیں بچ سکتا۔ 
منیر نیازی صاحب کا شعر یاد آگیا۔
فروغ اسم محمدؐ ہو بستیوں میں منیر
قدیم یاد نئے مسکنوں سے پیدا ہو 
اور نئی بستیوں کے نئے مسکن ہی اجڑ گئے تو قدیم یادیں بھی شکوہ کناں ہیں یہ کون لوگ ہیں انہیں اپنی اولادوں سے کیا جنون کی حدتک پیارہوتا ہے کہ لوگوں کا ان کی زندگی ان کے چولہے چوکے بیچ کر اپنی آٹھویں نسل تک کی عیاشی کا سامان کرلیتے ہیں کیا ہمیں اپنے  بچوں سے پیار نہیں جن کے لیے ہم نے رزق حرام کا ایک نوالا تک نہ ارینج کیا۔ 
کیا ہم لوگ ابنارمل ہیں جو اپنے نارمل سے حالات میں خوش ہیں یا یہ بستیاں بسانے والے اتنے گھاٹے کا سودا کرتے ہیں اور پھر ناجائز دھن کو کالے سے سفید کرنے کیلئے سینئر صحافیوں کو پلاٹ گھر بیرونی دورے ہیرے تحائف اور پیسے دے کر ویڈیوز بناتے ہیں۔ 
انسان واقعی خسارے میں ہے …اطمینان قلب دنیا کی سب سے بڑی دولت ہے جو رزق حلال میں ہے جو سچ بولنے میں ہے جو صبر میں ہے۔ 
یہ صبر ایسا ہے مشکل کوٹال دیتا ہے 
دکھوں کی دھوپ میں چپ کا کمال جاگتا ہے 
       (صوفیہ بیدار)
اور چپ کا کمال جب جاگتا ہے تو نابینکوں میں پڑی دولتیں کام آتی ہیں نہ باہر کے ویزے…
حرف آخریہی کہنا ہے ان جعلی بستیاں بنانے فراڈ پلاٹ بیچنے اور خراب گھر پل سڑکیں بنانے والوں سے کہ تم صرف لوگوں کی زندگیوں سے نہیں کھیلتے ۔ گھروں کو اجاڑتے ہو۔ وہ گھر جن کی دیواروں سے ماؤں بہنوں بیٹیوں کی آرزوئیں امنگیں چپکی ہوتی ہیں وہ گھر جو انہوں نے ہزار تمنائیں سلا کر  اینٹ اینٹ جوڑ کر بنائے ہوتے ہیں یہ لوگ وہی ہوتے ہیں یا ویسے ہی ہوتے ہیں جو اپنی عورتوں کو گھروں سے نکال دیتے ہیں طلاقیں دے کر دھکے دے کر جوتے مارکر سڑکوں پر کھڑا کردیتے ہیں۔ 
بابل دے ویہڑے وچ ویری 
ڈولی واپس لاجاندے نیں 
عورتوںسے ان کے گھر نا چھینو…ان  سے ان کے آنگن نا چھینو وہاں وہ سر چھپا کر اپنے ننھے ننھے بچے پالتی ہیں ۔
لاؤڈ سپیکر کے اعلانات ان کیلئے موت سے بڑھ کر ہیں  کچھ چیزیں زندگی سے بڑی ہوتی ہیں۔ 
آنسو بھری آنکھوںسے اپنے شعر درج کررہی ہوں۔ 
خوداپنے آپ کو ہاتھوں سے توڑکرجیسے 
بڑا کمال کیا تم کو چھوڑ کر جیسے
 اب ایسی کون سی دستک مجھے بلائے گی 
کہاں میں آؤں گی آتے ہیں دوڑ کر جیسے 
میں اس مکان  کو دل سے بھلا نہیں سکتی
ہراینٹ رکھی تھی اینٹوں پہ جوڑ کر جیسے  

مزیدخبریں