سیلاب کی تاریخ، نقصانات اور حل

09:16 AM, 31 Aug, 2025

1947 سے آج (اگست 2025) تک پاکستان میں بڑے سیلابوں کی تاریخ، نمایاں نقصانات، بنیادی وجوہات، اور آئندہ کے حل کے لئے تجزیہ ضرور ہے تاکہ ہماری حکومتیں بہتر منصوبہ بندی کر سکیں۔ اگر ماضی کے تاریخی جھلک کو دیکھا جائے تو آزادی پاکستان سے آج تک جو سیلاب آئے ان کا تذکرہ ضروری ہے جس میں 1950 سے 1990 کے دوران برِصغیر کے مون سون اور دریائے سندھ کے حوض میں وقفے وقفے سے بڑے سیلاب آئے خاص طور پر 1973، 1976، 1988، 1992 میں سیلاب نے لاکھوں افراد کو متاثر کیا اور زرعی/انفراسٹرکچر کو بھاری نقصان پہنچایا۔ عالمی ادارے ان سالوں کو ‘‘کیٹاسٹروفک’’ یا ‘‘سپر فلڈز’’ کے طور پر نوٹ کرتے ہیں۔ اسی طرح 1992 (جہلم, چناب/آزاد کشمیر-پنجاب سیلاب) تقریباً 2,000 سے 2,500 اموات، 9.3 ملین افراد متاثر، لاکھوں ایکڑ زیرِ آب، بڑے پیمانے پر پل/سڑکیں تباہ ہوئیں۔2010 (ملکی سطح کا تاریخی سیلاب) 1,985 اموات، 14 سے 20 ملین افراد متاثر، ملک کا تقریباً پانچواں حصہ پانی میں ڈوبا؛ سڑکیں، صحت و تعلیم کی سہولیات اور رہائش کو بڑے پیمانے پر نقصان۔ 2011 سے 2014 جنوبی پنجاب/سندھ میں بار بار سیلاب، 2014 میں جہلم، چناب بیسن میں شدید طغیانی؛ انفراسٹرکچر اور فصلوں کو بھاری نقصان ہوا۔ 2022 (آب و ہوا سے شدت پانے والا سپر فلڈ) مجموعی مادی نقصانات ? 14.9 بلین ڈالر، معاشی نقصانات 15.2 بلین ڈالر؛ بحالی کی کم از کم ضرورت 16.3 بلین ڈالر، سندھ/بلوچستان خصوصاً متاثر؛ 1,700 اموات اور 2 ملین گھر تباہ/نقصان زدہ کے تخمینے عالمی و ملکی اداروں نے جاری کیے۔ 
ماضی میں جو سیلاب آئے ان کی بنیادی وجوہات (ساختی اور غیر ساختی) قدرتی عوامل ہیں جس میں مون سون کی شدت و بے قاعدگی، برفانی و برف پگھلاؤ، اور چند سالوں میں ‘‘اسٹالڈ’’ مون سون سسٹمز, دریائے سندھ کے میدان میں ہموار/پھیلا علاقہ، پہاڑی ندی نالوں کے اچانک سیلاب (ہِل ٹورنٹس), دریا کے کناروں/قدرتی فلڈ پلینز پر تجاوزات، ناقص اربن ڈرینیج (نالہ لئی/شہری علاقوں 
کی مثالیں)، کمزور زوننگ/عمل درآمد، واٹر شیڈ مینجمنٹ کی کمی۔  نقصانات کی اقسام کے جو بار بار دیکھی گئیں جن میں جانی نقصانات جن میں ہزاروں اموات/زخمی، خصوصاً اچانک آنے والے سیلابوں اور کمزور رہائش کی وجہ سے۔ لاکھوں مکانات، ہزاروں سکول/کلینکس کو نقصان، پانی سے جڑی بیماریوں میں اضافہ, کھڑی فصلیں، نہریں/ بیراجز/ سڑکیں/ پل متاثر, 2010 اور 2022 جیسے واقعات میں اربوں ڈالر کے نقصانات ہوئے۔
سیلاب کی روک تھام کے لئے جامع حل درج ذیل ہے دریائی/نالہ بیسنز کے لئے ریڈ/ امبر/گرین زون کی قانونی درجہ بندی؛ تجاوزات کے خاتمے اور محفوظ تعمیرات کے قواعد۔ ون ونڈو فلڈ رسک اتھارٹی, (NDMA/PDMA)، آبپاشی، لوکل گورنمنٹ کے ڈیٹا/فیصلہ سازی کا انضمام؛ ضلعی DRM پلانز کی سالانہ اپڈیٹس۔ ہائی ریٹرن اَپر بیسن لوکیشنز پر سٹرٹیجک مضبوطی، کرٹیکل مقامات پر ریئل ٹائم اسٹریس مانیٹرنگ اپسٹریم ریگولیشن/ریزرورائر آپریشن کے SOPs کی جدیدیت؛ بڑے منصوبوں کے ساتھ قدرتی حل, ہِل ٹورنٹس مینجمنٹ (ڈی جی خان/ وزیرستان/ بلوچستان), چیک ڈیمز، ڈائیورشن اسپِل ویز۔ نالہ پروٹیکشن کوریڈور، اسٹریٹ-لیول پرمی ایبل سرفیسز، پمپنگ اسٹیشن اپگریڈ، اور 100 سے 200 سالہ واپسی مدت کے مطابق ڈیزائن اسٹینڈرڈز، ہائی رزولوشن ریڈار/ درجہ حرارت/بارش، ہائیڈرولوجی ماڈل: رَن آف/ فلڈ فارکاسٹنگ میں 48 سے 72 گھنٹے پہلے قابلِ عمل الرٹس؛ مقامی زبان میں براڈ کاسٹ/ SMS/ واٹس ایپ۔ گلیشیئر/ گلاف مانیٹرنگ، ہائی الٹیٹیوڈ اسٹیشنز، جھیلوں کے سرویز، خطرناک جھیلوں پر کنٹرولڈ ڈرینیج، شارٹ ڈوریشن اقسام، کراپ کلینڈر شفٹس، فلڈ ٹالرنٹ چارہ/ چاول، بیج/کھاد کی ایمرجنسی سپورٹ لائینز۔ مائیکرو انشورنس/کیش ٹرانسفر، موسمی انڈیکس پر مبنی ادائیگی تاکہ کسان/محنت کش مالی جھٹکا برداشت کر سکیں۔ سندھ میں آف چینل اسٹوریج، ویٹ لینڈ ریسٹوریشن (انڈس فلڈ پلین)، طغیانی میں اضافی پانی جذب، خشک مہینوں میں ماحولیات کو سپورٹ۔ جنوبی پنجاب/ بلوچستان ہِل ٹورنٹ پائلٹس، 50 سے 100 چیک ڈیم/ ڈائیورشنز؛ 3 سے 5 سال میں فصل/گاؤں محفوظ۔ PMD/Hydrology انضمام، مقامی زبان میں ہنگامی ہدایات، انکروچمنٹ کلیئرنس۔ ڈیٹا پر مبنی قبل از وقت خبرداریاں, قدرتی حلوں کے ساتھ انجینئرڈ اقدامات, آب و ہوا کے مطابق نئے ڈیزائن سٹینڈرڈز ۔
پاکستان کی تاریخ کا پہلا بڑا سیلاب 1950 میں آیا۔ اس میں تقریباً 2,000 سے زائد اموات ہوئیں اور لاکھوں ایکڑ زرعی زمین زیرِ آب آگئی۔ ابتدائی برسوں میں انتظامی ڈھانچہ کمزور تھا، اس لئے بچاؤ کے اقدامات ناکافی ثابت ہوئے۔1973 کا سیلاب سندھ اور پنجاب میں بڑے پیمانے پر آیا۔ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور زرعی معیشت کو زبردست دھچکا لگا۔ تین سال بعد 1976 میں ایک اور شدید سیلاب آیا جسے تاریخ کا بدترین سیلاب قرار دیا گیا۔ اس میں بھی ہزاروں اموات ہوئیں اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔ 1988 میں شمالی علاقوں اور پنجاب میں شدید بارشوں سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ سب سے زیادہ تباہ کن سیلاب 1992 میں آیا جس نے کشمیر، پنجاب اور خیبرپختونخوا کو اپنی لپیٹ میں لیا۔ اس میں دو ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے اور نو ملین سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے۔ ہزاروں مکانات اور پل تباہ ہوئے۔ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اور تباہ کن سیلاب 2010 میں آیا۔ دریائے سندھ کے کنارے آباد تقریباً دو کروڑ افراد متاثر ہوئے، قریب دو ہزار افراد جاں بحق ہوئے اور ملک کا پانچواں حصہ پانی میں ڈوب گیا۔ معیشت کو تقریباً 10 بلین ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا۔ زرعی زمینیں، مکانات، سڑکیں اور ہسپتال سب متاثر ہوئے۔ ہر سال جنوبی پنجاب اور سندھ میں بار بار سیلاب آیا۔ خاص طور پر 2014 میں چناب اور جہلم بیسن میں طغیانی سے کئی اضلاع میں تباہی ہوئی۔پاکستان کی تاریخ کا ایک اور تباہ کن سیلاب 2022 میں آیا جسے موسمیاتی تبدیلی کی ایک بڑی مثال قرار دیا گیا۔ اس میں 1,700 سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے، 20 لاکھ سے زائد مکانات تباہ یا جزوی طور پر متاثر ہوئے اور 30 ملین سے زیادہ لوگ براہِ راست متاثر ہوئے۔ عالمی بینک کے مطابق 30 بلین ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان ہوا۔

مزیدخبریں