شہبازاسپیڈ کی ضرورت

09:15 AM, 31 Aug, 2025

خیبرپختونخوا کے بعد اب پنجاب سیلاب کی زد میں ہے۔سیلاب آنا اب ہمارے خطے میں معمول بن رہاہے۔پہلے اسی کی دہائی میں تباہ کن سیلاب کا سامنا پاکستان نے کیا تھا اس کے بعد دوہزار دس میں سیلاب آیا جس سے پاکستان میں ایک کروڑ کے قریب لوگ متاثر ہوئے۔اکیلے پنجاب میں پچاس لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے۔دولاکھ مویشی مرگئے۔چودہ ہزاردیہات میں پانی نے نقصان کیا۔چھ لاکھ چھتیس ہزار گھروں کو مکمل نقصان پہنچا۔چودہ لاکھ ایکڑ پر کھڑی فصل تباہ ہوگئی اور اس سیلاب میں دوہزارافراد جاں بحق بھی ہوئے۔ اس طرح کل چالیس ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔ اس سیلاب کی بھی بہت سی انکوائریاں ہوئیں۔ کسی ایک کو بچانے کے لیے دوسروں کوماردیا گیا۔کسی بااثر شخص کے ڈیرے کو محفوظ رکھنے کے لیے کسی گاؤں کو ڈبودیا گیا وزیراعلیٰ شہبازشریف نے لاہورہائی کورٹ کے جج سید منصور علی شاہ کی سربراہی میں ایک رکنی فلڈ کمیشن بنایا جس نے ایک تفصیلی رپورٹ لکھ دی یہ رپورٹ کیا ہے مکمل کتاب ہے جوآج بھی لاہورہائی کورٹ کی ویب سائیٹ پر موجود ہے۔ اس کا عنوان ہے ’’رووڈ اویکنگ‘‘۔
جسٹس صاحب نے رپورٹ میں لکھا کہ سیلاب کی تباہی کے بعد متاثرین کی بحالی اور مالی امداد کیلئے جو کچھ حکومت نے کیا وہ بہت ہی بہترین اورحوصلہ افزا ہے لیکن سیلاب کی روک تھا م کے لئے اقدامات اور دوران ایمرجنسی وی وی آئی پیز کے دورے ریسکیوکے کام میں رکاوٹ بنتے ہیں ۔یہ کام آٹومیٹک ہونے چاہئیں۔
اس رپورٹ میں انہوں نے اس وقت کے سیکریٹری آبپاشی رب نوازکو پنجاب میں سیلاب کی روک تھام نہ کرنے کا مجرم قراردے کر ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی لیکن ان کا تعلق طاقتور بیورو کریسی کے ڈی ایم جی گروپ سے تھا اس لیے مقدمہ تو دور کی بات ان کے خلاف کوئی محکمانہ کارروائی بھی نہ کی گئی بلکہ انہیں اسی وقت پنجاب سے پیپلزپارٹی نے وفاق میں سیکرٹری لگادیا۔کمیشن نے سختی سے پابندکیا کہ دریاؤں اور آبی گزر گاہوں کے قریب لوگوں کو آباد نہ ہونے دیا جائے کیونکہ ایک تو یہ پانی کے گزرنے میں رکاوٹ بنتے ہیں اور دوسرا یہ لوگ ان پر ملکیت کا دعویٰ کردیتے ہیں اور عارضی بستیاں مستقل دیہات کی شکل اختیار کرلیتی ہیں۔
جسٹس منصور علی شاہ نے اس رپورٹ کا زیادہ حصہ حکومتی غفلت اور سیلاب سے روک تھام کیلئے کیے جانے والے پیشگی اقدامات کی سفارشات پر لکھا۔
اس رپورٹ اور انکوائری کے بعد ملک میں کئی ایک سیلاب دوبارہ آچکے ہیں۔اس سے پہلے دوہزار بائیس کے سیلاب کے اثرات ابھی تک موجود ہیں۔سندھ میں اس سیلاب کے نتیجے میں تباہ ہونے والے گھر دبارہ بناکر ابھی پوری طرح اور مکمل تعدا د میں متاثرین کے حوالے نہیں کیے جاسکے کہ ہمیں ایک اور سیلاب کا سامنا ہے۔خیبر پختونوا میں پانچ سو کے قریب لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں۔پنجاب میں سیلاب ہے لیکن اللہ کا شکر یہ ہے کہ جانی نقصان خیبرپختونخوا کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے لیکن مالی نقصان بہرحال ہوا ہے۔ ہندوستان کی طرف سے آئے ہوئے پانی نے یہاں بارشوں کی کثرت کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے تباہی مچائی ہوئی ہے۔اس کے نتیجے میں یہاں پنجاب کے ہزاروں دیہات زیر آب ہیں وہیں کرتارپور راہداری بھی بند کرنی پڑی اور گورودوارہ کرتار پور صاحب کے احاطے میں بھی پانی جمع ہوااس پر وزیراعلیٰ پنجاب، وزیراعظم شہبازنے فوری نوٹس لیا ۔جمعہ کو فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے کرتارپورکادورہ کیا اور جمہ کی شام تک صرف دودن کے اندراندر کرتار پور صاحب کے احاطے سے پانی نکال کر صفائی کا کام کردیا گیا۔ اس اقدام پرپاکستان کے ساتھ ساتھ بھارتی پنجاب کی سکھ برادری نے بھی پاکستان کو خراج تحسین پیش کیاہے۔
سیلاب آنا اب معمول ہوگیا ہے ۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں کوئی بھی مسئلہ اسی وقت بہت بڑ الگتا ہے جب وہ مسئلہ ہمیں درپیش ہوتا ہے جونہی وہ مسئلہ ٹلتا ہے یا شدت کم ہوتی ہے تو ہم اگلے مسئلے میں الجھ کر پچھلا مسئلہ باقی مسائل والی طاق نسیاں میں رکھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں ۔ اس وقت بھی سیلاب بہت بڑا مسئلہ ہے لیکن پانی اترے گا تو پھر یہ سیلاب صرف انہی لوگوں کا مسئلہ رہ جائے گا جن کے گھر بار اس سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوئے ہیں۔
اس مسئلے کا حل اس وقت نہیں بلکہ ہمیں اس وقت کرنا ہے جب سیلاب نہیں ہوگا۔کیونکہ جنگ کی تیاری زمانہ امن میں کی جاتی ہے ۔جنگ کے دنوں میں تیاری نہیں صرف جنگ لڑی جاتی ہے ہم اس وقت سیلاب کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں اور حکومت اپنی بساط کے مطابق بہترین لڑرہی ہے لیکن ہمیں اب سوچ لینا چاہئے کہ کیا اس سیلاب کا بندوبست کرنا ہے مستقل بنیادوں پر یا ہر سال کشتیا ں لے کر لوگوں کو ریسکیو کرتے زندگی گزارنی ہے۔وزیراعظم شہبازشریف نے معرکہ حق کی فتح کے بعد کہا تھا کہ ہندوستان ہمار اپانی روکنے کی کوشش کرے گا تو بھی نقصان ہمارا ہے لیکن اگر وہ برسات میں پانی چھوڑے گا تو بھی نقصان ہمارا ہے اس لیے اس پانی کامستقل بندوبست کرنا ضروری ہے۔اب ایک بار پھر انہوں نے اپنے اس عزم کودہرایا ہے اور ساتھ ہی خبر یہ بھی ہے کہ انہوں نے حکم کردیا ہے کہ جونہی یہ ریسکیو کا کام ختم ہوتا ہے تو چاروں وزرائے اعلیٰ کے ساتھ بیٹھ کر وہ ایک جامع منصوبہ بندی کریں گے جس میں نئے آبی ذخائر بنانا اولین ترجیح ہوگی ۔اگر وزیراعظم پاکستان یہ پانی کی منجمنٹ والا کام کرجائیں تو یہ ان کا اس ملک پر اور آنے والی نسلوں پر ایک احسان ہوگا۔
کرنے کے کام اس میں دوتین بنیادی ہیں۔ایک تو راوی اور ستلج کواوریجنل حالت میں بحال کیا جائے۔دریا کے ساتھ دریاوالا سلوک کیا جائے اس کو عزت دی جائے ۔آبی گزر گاہ کا راستہ روکنے سے پانی اپنا راستہ بناتا ہے اور پھر یہ سیلاب بنتے ہیں۔اس لیے پانی کو راستہ نہ صرف دینا ہے بلکہ جہاں راستہ نہیںہے وہاں اس کو راستہ بناکردینا ہے۔ایک مرتبہ حد بندیاں کرکے اس پر پہرہ دیا جائے ۔دریا میں پانی ہویا نہ ہو اس میں تجاوزات پر سزائیں دی جائیں ۔ لوگوں کو اس حد بندی کے قریب بھی نہ آنے دیا جائے اور پھر ساتھ چھوٹے بڑے ڈیم بناکر پانی کو محفوظ کیا جائے ۔یہاں نئی نہروں کی ضرورت ہے وہاں نہریں بنائی جائیں۔پاکستان میں مون سون کے نتیجے میں جتنا پانی ہر سال آتا ہے اس کا آدھابھی ہم محفوظ کرنے کی صلاحیت حاصل کرلیں تو ہم اپنے بارانی علاقوں کو گل وگلزار بناسکتے ہیں۔ہماری آبادیاں محفوظ ہوسکتی ہیں اور زرعی پیدار بھی کئی گنا بڑھ سکتی ہے ۔ اب ہمارے پاس مزید اس کام کو لٹکانے کی گنجائش باقی نہیں بچی ہے ۔ابھی نہیں تو کبھی نہیں والی صورتحال آگئی ہے اس لیے اس کام کو بھی شہبازاسپیڈ کی ضرورت ہے۔

مزیدخبریں