اگر یہ کہا جائے تو زیادہ غلط نہ ہو گا کہ پاکستان میں عام آدمی کی زندگی امتحانوں میں ہی گھری ر ہتی ہے۔ کبھی مہنگائی کا طوفان، کبھی بے روزگاری کا عذاب، کبھی دہشت گردی کا خوف، اور کبھی قدرتی آفات کا کڑا امتحان۔ ان سب آفات میں سب سے زیادہ تباہ کن دو آفات ہیں: سیلاب اور خشک سالی۔ کہنے کو تو یہ دونوں ایک دوسرے کے بالکل برعکس ہیں مگر بدقسمتی سے ہمارے عوام دونوں کے ہی اثرات سے متاثر رہتے ہیں۔
یہ کیسا المیہ ہے کہ ایک ہی ملک میں کہیں لوگ پانی میں ڈوب کر اپنی جانیں گنوا تے ہیں تو کہیںپانی کی بوند بوند کو ترستے رہتے ہیں۔ کہیں گھر اور کھیت بہہ رہے ہیں، اور کہیں زمین بنجر ہو کر چٹیل میدان میں تبدیل ہو چکی ہے اور انسان اور جانور ایک ہی جگہ پر جمع کردہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔
ہماری حکومتوں کی کارکردگی اور عوام کے معاملات میں ان کی دلچسپی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں یہی وجہ ہے کہ جب بارشیں ایک خاص حد سے زیادہ ہو جاتی ہیں یاگلیشر پگھلنے کے بعد پہاڑوں سے زیادہ پانی آ جاتا ہے تو دریاؤں کے کنارے ٹوٹ جاتے ہیں اورنہ صرف پورے کے پورے گاؤں پانی میں ڈوب جاتے ہیں بلکہ شہروں میں بھی زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ لوگ اپنی زندگی بھر کی محنت، اپنا گھر، اپنی فصلیں اور اپنے مویشی سب کچھ پانی کے بہاؤ میں کھو دیتے ہیں لیکن مجال ہے کہ حکومت میں شامل ہمارے ’عوامی نمائندوں‘ کے کان پر کوئی جوں بھی رینگتی ہو۔
خیبر پختونخواہ میں تو یہ منظر تقریبا ًہر سال دیکھنے کو ملتا ہے۔ دریائے سوات اور دیگر دریا جب بپھرتے ہیں تو اپنے ساتھ سب کچھ بہا لے جاتے ہیں۔ بچے اپنے سکولوں سے، کسان اپنی فصلوں سے، مزدور اپنی مزدوری سے، اور غریب اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ حکومت کے وزراء اور افسران ٹی وی پر آ کر دعوے کرتے ہیں کہ امداد پہنچائی جا رہی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ کئی کئی دن تک کھلے آسمان تلے بھوکے اور پیاسے بیٹھے رہتے ہیں۔ امداد اگر آتی بھی ہے تو اتنی کم ہوتی ہے کہ محرومی ختم ہونا تو درکنار کم بھی نہیں ہو پاتی۔
سیلاب کے بعد مصیبت میں پھنسے انسانوں کو بیماریاں آ لیتی ہیں۔ پانی جب گاؤں اور شہروں میں کئی دن کھڑا رہتا ہے تو گندگی اور بدبو پھیل جاتی ہے۔ مچھر بڑھ جاتے ہیں اور ڈینگی، ملیریا، ہیضہ اور آشوب چشم جیسی بیماریاں پھیلتی ہیں۔ ہسپتال پہلے ہی سہولتوں سے خالی ہیں، اوپر سے مریضوں کا رش بڑھ جاتا ہے۔ ایک بستر پر دو دو تین تین مریض پڑے ہوتے ہیں اور دواؤں کا فقدان الگ۔ متاثرہ خاندان اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے پیاروں کو مرتے دیکھتے ہیں لیکن کچھ نہیں کر پاتے۔ دوسری طرف دیکھیں تو ہمیں سندھ کے تھر اور بلوچستان کے کئی ایسے علاقے نظر آتے ہیں جہاں برسوں بارش نہیں ہوتی۔ وہاں کی عورتوں اور بچیوں کو پانی لانے کے لیے میلوں کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ وہ بھی گندا اور آلودہ ہوتا ہے جسے پینے سے پیٹ کی بیماریاں عام ہیں۔ وہاں کے کسان اپنے کھیتوں میں بیج ڈالتے ہیں لیکن بارش نہ ہونے سے بیج زمین میں ہی سوکھ جاتے ہیں۔ مویشی گھاس نہ ملنے کے باعث مر جاتے ہیں اور کسان کا سب سے قیمتی سرمایہ اس کے سامنے ختم ہو جاتا ہے۔
خشک سالی میں سب سے زیادہ عورتیں اور بچے متاثر ہوتے ہیں۔ عورتیں خون کی کمی کا شکار ہو جاتی ہیں، بچے کمزور ہو جاتے ہیں۔ کئی بچے تو پانچ سال کی عمر سے پہلے ہی غذائی قلت کے باعث دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ سیلاب ہو یا خشک سالی، سب سے زیادہ متاثر کسان ہی ہوتا ہے۔ اگر پانی زیادہ آجائے تو اس کی فصل بہہ جاتی ہے اور اگر پانی بالکل نہ ہو تو کھیت بنجر ہو جاتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں کسان دیوالیہ ہو جاتا ہے۔ بینکوں سے قرضہ لینے کے بعد وہ مزید مشکلات میں پھنس جاتا ہے ۔ حکومتیں وعدے تو کرتی ہیں کہ کسانوں کو پیکج ملے گا، ان کے قرضے معاف ہوں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ صرف چند طاقتور اور بااثر لوگ ہی اس امداد تک پہنچ پاتے ہیں عام کسان کا حال وہی رہتا ہے۔
ان آفات کے اثرات صرف کھیتوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ شہروں میں بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔ جب سیلاب آتا ہے تو سبزیوں اور اناج کی کمی ہو جاتی ہے، جس سے قیمتیں آسمان پر پہنچ جاتی ہیں۔ اور جب خشک سالی ہوتی ہے تو پیداوار اتنی کم ہوتی ہے کہ غریب کے لیے روٹی کمانا مشکل ہو جاتا ہے۔ یوں دونوں صورتوں میں مہنگائی عوام کی کمر توڑ دیتی ہے۔ سیلاب اور خشک سالی کا ایک بڑا اثر تعلیم پر بھی پڑتا ہے۔ سیلاب میں بچوں کے گھر اور سکول بہہ جاتے ہیں اورسیلاب کے بعد جب سکول دوبارہ کھلتے ہیں تو کئی بچے واپس نہیں آ پاتے کیونکہ ان کے والدین کے پاس ان کے اخراجات پورے کرنے کے پیسے نہیں رہتے۔ خشک سالی میں بچے پانی بھرنے یا مزدوری کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یوں ایک پوری نسل اپنے خواب کھو رہی ہے۔
یہاں یہ سوال سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ سب کچھ کیوں ہوتا ہے؟ کیا قدرت ہمارے خلاف ہے؟ تو اس کا جواب نفی میں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری اپنی حکومتیں ناکام اور ہم سے لاتعلق ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک ایسے ہیں جہاں بہت زیادہ بارشیں ہوتی ہیں لیکن اس کے باوجود وہاں سیلاب نہیں آتا ۔ شائد اس لیے کہ ان کے پاس اچھی منصوبہ بندی اور مضبوط نظام موجود ہے۔ وہ ڈیم بناتے ہیں، نہروں کو بہتر رکھتے ہیں اور پانی کو اچھے انداز میں ذخیرہ کرنے کے انتظامات کرتے ہیں۔ اسی طرح کئی ممالک میں بارشیں کافی کم ہوتی ہیںلیکن ان لوگوں نے قسمت کو کوسنے کے بجائے جدید طریقوں کو استعمال میں لاتے ہوئے اپنے مسائل کا حل تلاش کیا ہے۔ وہ دستیاب پانی کو محفوظ کرتے ہیں اور ٹیکنالوجی کی مدد سے زمین کو بنجر ہونے سے بچاتے ہیں۔ ہمارے ہاں نہ سیلاب روکنے کا کوئی نظام ہے اور نہ خشک سالی سے نمٹنے کی تیاری: یہ ہے ہماری حکومتوں کی کارکردگی کا خلاصہ۔
ہمارے ہاں تو حکمرانوں کا کام صرف سیاست کرنا ہے۔ لوٹ مار اور کرپشن کے علاوہ ان کا کام ایک دوسرے پر الزام لگانا اور کبھی جلسوں جلوسوں میں جھوٹے وعدے کرنا ہے۔ وفاقی حکومت ہو یا خیبر پختونخواہ کی حکومت دونوں کے پاس عوام کے دکھ بانٹنے کے لیے صرف بیانات ہی ہیں۔
اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنی حکومتوں پر دباو ڈالیں کہ وہ سیلابوں اور خشک سالی سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔ اگر اب بھی ایسا نہ ہوا تو خاکم بدھن یہ دکھ نسل در نسل چلتا رہے گا، کبھی سیلاب ہمیں مارے گا، کبھی خشک سالی۔ حکمران مزے کرتے رہیں گے اور عوام پستے رہیں گے۔
کبھی سیلاب ، کبھی خشک سالی
09:15 AM, 31 Aug, 2025