غزہ امن منصوبہ: امریکا کے مسودے میں پاکستان کی ترامیم شامل نہیں، فیصلہ اعلیٰ قیادت کرے گی: اسحٰق ڈار

فلسطین پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں مؤثر آواز بلند کی، انڈونیشیا کی 20 ہزار امن فوج کی پیشکش

08:04 PM, 30 Sep, 2025

اسلام آباد : نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ غزہ میں امن فوج بھیجنے سے متعلق فیصلہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ انڈونیشیا نے 20 ہزار اہلکاروں پر مشتمل امن فورس کی پیشکش کی ہے، اور پاکستان اس پر غور کر رہا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران اسحٰق ڈار نے وضاحت کی کہ امریکہ کی طرف سے پیش کردہ غزہ امن منصوبے کے مسودے میں پاکستان کی ترامیم شامل نہیں کی گئیں، تاہم پاکستان نے بنیادی نکات برقرار رکھتے ہوئے تجاویز دی تھیں، جو بعد میں دیگر مسلم ممالک سے مشاورت کے بعد قبول کی گئیں۔

اسحٰق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مسئلہ فلسطین کو جرات مندی سے اٹھایا۔ ان کے مطابق فلسطین، ترکیہ اور دیگر ممالک نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، انڈونیشیا، یو اے ای اور دیگر ممالک نے غزہ میں سیزفائر، اسرائیلی انخلا، انسانی امداد اور دو ریاستی حل پر مبنی مشترکہ اعلامیہ جاری کیا، جسے فلسطینی اتھارٹی نے خوش آئند قرار دیا ہے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ بعض حلقے فلسطین امن منصوبے پر بلاجواز تنقید کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھاکیا تنقید کرنے والے چاہتے ہیں کہ وہاں لوگ مرتے رہیں؟ معصوم بچے بھوک سے جان دیتے رہیں؟ یہ وقت سیاست کا نہیں، انسانیت کی بات کرنے کا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ تمام تنقید کے باوجود پاکستان نے مسلم دنیا کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ موقف اختیار کیا ہے، اور اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی فورمز پر فلسطینی عوام کا مقدمہ مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔


اسحٰق ڈار نے بتایا کہ جنرل اسمبلی اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور 8 مسلم ممالک کے رہنماؤں کے درمیان متعدد خفیہ ملاقاتیں ہوئیں، جن میں تجاویز کاغذی صورت میں تبادلہ کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تجاویز بعد ازاں منظور ہوئیں اور اعلامیے کا حصہ بنیں۔

مزیدخبریں