نظریات، پروگرام، رویوں میں گہرے تضادات کے باوجود (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی کا اتحاد سیاسی ضرورت بلکہ سیاسی مجبوری کی بنیاد پر ہے اس لیے ایک کی سیاسی پیش رفت دوسرے کی سیاسی ہزیمت کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے اس لیے پنجاب میں (ن) لیگ کی ناکامی، عوامی سطح پر عدم مقبولیت پیپلزپارٹی کی فطری خواہش اور کوشش ہوسکتی ہے اور گورنر پنجاب ،پیپلزپارٹی کے چودھری منظور ، حسن مرتضیٰ اور ندیم افضل چن ودیگر کے ذریعہ متذکرہ خراہش کی تکمیل کیلئے کوششوں کو بروئے کار لانے کا سلسلہ جاری ہے۔ جنوبی پنجاب کے نام سے الگ صوبہ اور جنوبی پنجاب کے حقوق کا نعرہ لگاکر پیپلزپارٹی پنجاب کی تقسیم کے ذریعہ حریف (ن) لیگ کی سیاسی طاقت کمزور کرنے اورپنجاب کے ایک بڑے حصے پر اپنی سیاسی گرفت مضبوط کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور اس مقصد برآری کے لیے (ن) لیگ کی حکومت کے وہ تمام اقدامات جو اس کی مقبولیت اور سیاسی پیش رفت کا ذریعہ بن سکتے ہیں عوامی سطح پر ان کے اثرات کو غیرمو¿ثر کرنے کی مہم جوئی ہی وہ پس منظر ہے جو ”پنجاب کی طرف بری نیت سے اٹھنے والی انگلی توڑ دوں گی“ کی صورت وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ردعمل کی میرے نزدیک بنیاد ہے۔
آصف زرداری کی جانب سے ”بلاول کو وزیراعظم دیکھنا میری زندگی کی آخری خواہش ہے “ شفقت پدری کے اس اظہار نے بلاول کو جاگتے ہوئے اس خواب کا اسیر کردیا ہے اور پیپلزپارٹی کے رہنما اس میں حقیقت کا رنگ بھرنے کیلئے مریم نواز کی تمام تر کامیابیوں کو ناکامیوں کی صورت دینے اور سیاسی مشکلات ورکاوٹیں قرار نہیں دیا جاسکتا، مریم نواز یا (ن) لیگ نے اس جنگ میں پیپلزپارٹی کو نامراد کرنے کے اعلیٰ کارکردگی، صوبے میں تعمیر وترقی عوام کی ہر نوعیت کی فلاح وبہبود کیلئے مسلسل اقدامات کی جوحکمت عملی اپنائی ہے وہ تعریف کے قابل اور عوام میں مقبولیت کا باعث ہوسکتی ہے لیکن اس حکمت عملی کو جاری رکھنے اورتحفظ کیلئے جن سیاسی داو¿ پیچ کا تقاضا ہے ان سے اغماض برتا جارہا ہے اسے اس مثال سے یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ ایک شخص لوگوں کو خوش کرنے کیلئے حلوہ بنائے اور اس کا مخالف لوگوں کو ورغلائے کہ یہ حلوہ نہ صحت بخش ہے نہ خوش ذائقہ ہے اس سے کہیں بہتر بھی بن سکتا تھا مگر انہیں کم سواد حلوہ پر ٹرخایا جارہا ہے تو حلوہ بنانے والا لامحالہ ردعمل کا شکار ہوگا بالخصوص ایسی صورت میں جو پورے لوازمات کے ساتھ بہتر سے بہتر حلوہ بنانے کی سرتوڑ کوشش کررہا ہو۔
بلاول کا یہ مطالبہ کہ پنجاب سمیت پورے ملک میں سیلاب متاثرین کیلئے امداد بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعہ تقسیم کی جائے اور عالمی اداروں سے امداد کی اپیل بھی کی جائے اس مطالبہ میں یہ ہنر کاری پنہاں ہے کہ رقوم تو وفاقی حکومت اور عالمی اداروں سے ملے گی تقسیم کرکے لوگوں کو اپنا ممنون پیپلزپارٹی کرسکے گی اس پر وزیراعلیٰ مریم نواز کا یہ ردعمل ”وہ اپنے مشورے اپنے پاس رکھےں ہم پنجاب سنبھال لیں گے، اس ہنرکاری کے ادراک کا اظہار ہے کچھ خیرخواہوں نے مریم کو ہاتھ ہلکا رکھنے کا مشورہ دیا ہے لیکن میرے ذاتی رابطوں کی روشنی میں پنجاب کی بڑی اکثریت نے اس پنجاب کی جانب سے پہلی توانا للکار قرار دیا ہے کیونکہ ماضی کے ہردور میں بری نیت سے انگلی اٹھانے والوں کو جیسا منہ ویسی چپیڑ کا جواب دینے کی بجائے اول روز سے پنجابیوں نے خود کو بڑے بھائی کے رتبہ پر فائز کرکے سرجھکا کر گالیاں اور گولیاں کھانے، دشنام طرازی کے تیر سہنے کا رویہ اختیار کررکھا تھا تاہم اب مریم نواز نے کھلا پیغام دیا ہے کہ پنجاب کے بڑے بھائی کے کردار میں کوئی کجی نہیں آئے گی کسی صوبے میں کوئی آفت آئی پنجاب اپنے تمام وسائل اور انتظامی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اس کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ لیکن بری نیت سے انگلی اٹھانے کی اجازت بھی نہیں دی جائے گی۔
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پیپلزپارٹی کیلئے سیاسی حمایت حاصل کرنے کا بڑا ذریعہ ہے اس کی موجودہ چیئرپرسن روبینہ خالد کا دعویٰ خلاف حقیقت ہے کہ اس پروگرام کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں ہے اگر یہ پیپلزپارٹی کی ذیلی تنظیم نہیں تو قیام کے اول روز سے آج تک اس کا چیئرمین یا چیئرپرسن پیپلزپارٹی سے وابستہ ہی کیوں ہوتا ہے اگر یہ قومی ادارہ ہے تو دیگر پارٹیوں کی اس میں نمائندگی کیوں نہیں ہے اس ملازمتیں پیپلزپارٹی کے لوگوں کو ہی کیوں ملتی ہیں اس کے کارڈ پیپلزپارٹی کے ایم این اے ، ایم پی اے اور لیڈروں کی سفارش سے ہی کیوں بنتے ہیں اگر مقصد عام اور غریب لوگوں کی محض خدمت یا امداد دینا ہی ہے تو عمران حکومت کی جانب سے احساس انکم سپورٹ پروگرامکا نام دیئے جانے کو پی ڈی ایم کی حکومت سازی کا حصہ بننے کی شرط پر نام دوبارہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کیوں تبدیل کرایا گیا۔
پیپلزپارٹی کی جانب سے پنجاب میں سیاسی گڑ بڑ پھیلانے کی کوششوں پر پیپلزپارٹی کو مریم نواز نے ان الفاظ میں آئینہ دکھایا ہے ”سندھ کا کیا حال ہے اس پر ابھی بات نہیں کرنا چاہتی “ ۔
بلاخوف تردید مریم نواز اور ان کی ٹیم مریم اورنگزیب ، عظمیٰ بخاری اور کابینہ کے تمام ارکان کی شب وروز محنت اور فلاح وبہبود کے عملی اقدامات نے پنجاب کے نوجوانوں کی سوچ کو انقلابی تبدیلی سے ہمکنار کیا ہے بھارت کی پاکستان دشمنی کے نتیجے میں پنجاب میں تاریخ کا جو بدترین سیلاب آیا اس میں متاثرین علاقوں کے لوگوں کے تحفظ اور بحالی کیلئے جس مستعدی کا درددل اور بہترین صلاحیتوں کے ساتھ کوششیں کی گئیں وہ بھی تاریخی نوعیت کی ہیں بہرحال آنے والے دنوں میں پیپلزپارٹی پنجاب میں سیاسی گرفت اور (ن) لیگ کو ناکام بنانے کی کوششوں میں تیزی لاسکتی ہے دیکھنا مریم اور ان کی ٹیم اس سے کیسے نمٹیں گے ۔
پنجاب سے پہلی توانا للکار!
09:30 AM, 30 Sep, 2025