امریکہ یاترا اور تازہ قربتیں 

09:30 AM, 30 Sep, 2025


میرا خیال تھا ہمارے پیارے حکمران سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کی کامیابی کے جھنڈے گاڑنے کے بعد وطن واپس آئیں گے اور کچھ دن یا کچھ وقت سیلاب زدگان کے ساتھ گزاریں گے ، نمائشی طور پر ہی سہی ا±نہیں یہ احساس دلائیں گے آزمائش یا مصیبت کی اس گھڑی میں وہ شانہ بشانہ ا±ن کے ساتھ کھڑے ہیں ، بیرونی مصروفیات شاید زیادہ اہم تھیں خصوصاً اقوام متحدہ سے خطاب کے اعزاز سے تو ظاہر ہے محروم نہیں رہا جاسکتا تھا ، وزیراعظم کا خطاب اچھا تھا ، بھارت کی جس انداز میں ا±نہوں نے ٹ±ھکائی کی اور جس انداز میں فلسطین کی آزادی کی انہوں نے بات کی وہ دل کو لگی ، البتہ ایک بات بڑی حیران کن تھی دوران خطاب فیلڈ مارشل عاصم منیر ان کے ساتھ کھڑے دیکھائی نہیں دئیے ، ایک میٹنگ میں وزیراعظم نے امریکی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی ، اس سے پہلے پاکستان میں کرپشن سے پاک ایک ایسا ماحول قائم کرنے کی ضرورت ہے جس میں صرف امریکی نہیں پاکستانی کمپنیاں بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا افضل سمجھیں اور اپنا سرمایہ باہر نہ لے جائیں ، ہم ہر حال میں پاکستان کی خیر اور ترقی چاہتے ہیں جو صرف اور صرف آئین اور قانون کی بالادستی سے جڑی ہوئی ہے ، بارہا عرض کرتا ہوں”کسی ملک کا بس نظام عدل درست ہو ا±س کے باقی سارے نظام خود بخود درست ہو جاتے ہیں “، ہمارے نظام عدل میں اتنے ”رد و بدل“ہوئے ہیں اب صرف رد و بدل دیکھائی دیتے ہیں عدل کہیں دکھائی نہیں دیتا ، اقوام متحدہ سے اپنے خطاب میں وزیراعظم شہباز عاصم شریف نے یہ بھی فرمایا ”جنگ جیت چ±کے ہیں اب امن جیتنا ہے“، امریکہ نے ہمیشہ صرف پاکستانی حکمرانوں کے مفادات کو اہمیت دی ، پاکستانیوں کے مفادات کو اہمیت دینا کبھی ا±س کی ترجیح نہیں رہی ، پاکستانی حکمران بھی شاید یہی چاہتے ہیں امریکہ صرف ا±ن کے ذاتی مفادات کو ہی اہمیت دیتا رہے اور ایسی سرپرستی ا±نہیں میسر فرماتا رہے جس کے نتیجے میں وہ نہ صرف آئین اور قانون کو روندنے میں ذرا خطرہ محسوس نہ کریں بلکہ اپنے عوام کے بنیادی حقوق کو روندنے میں بھی کسی مشکل کا سامنا ا±نہیں نہ کرنا پڑے، ہمارے میڈیا نے شہ سرخیوں میں اسے بڑا اعزاز بنا کر بتایا کہ امریکی صدر ٹرمپ سے ہمارے وزیراعظم شہباز شریف کی دو دنوں میں تین ملاقاتیں ہوئیں ، گزشتہ ہفتے ہونے والی ملاقات میں امریکی صدر نے فرمایا ہے ”پاکستانی وزیراعظم شاندار اور فیلڈ مارشل بہترین شخصیت کے مالک ہیں“ ، امریکہ ایک طاقتور ملک ہے ، اس طاقتور ملک کا سربراہ کچھ بھی کہہ لے ہم نے ہر حال میں ا±س کی ہر بات کو تسلیم کرنا ہے ، ہم تو اپنے طاقتوروں کی کوئی بات رد نہیں کرسکتے امریکہ تو پھر ہمارے طاقتوروں کا بھی مائی باپ ہے ، ہندوستان اس ”اعزاز“ سے بھی محروم ہے ا±ن کے وزیراعظم اور آرمی چیف ہر جگہ اکٹھے نظر نہیں آتے، جبکہ ہمارے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل اب ہر جگہ اکٹھے نظر آتے ہیں ، اللہ یہ جوڑی سلامت رکھے اور اسے نظر بد سے بچائے ، خصوصاً اسے پی ٹی آئی کے اصل رہنماو¿ں کی نظر بد سے بچائے جو رات دن بس یہی خواب دیکھتے ہیں ”فیلڈ مارشل اور وزیراعظم ایک پیج پر نہیں رہے“ ، اللہ کا اپنا ایک نظام ہے پر اس وقت جو زمینی حقائق ہیں ا±ن کے مطابق یہ دونوں ایک پیج پر نہ بھی رہے عمران خان اقتدار میں آتے نظر نہیں آتے ،البتہ ا±ن کی پارٹی کو تھوڑا بہت حصہ ملتا رہے گا ، پی ٹی آئی کے بیرون ملک بیٹھے کچھ ”شر پسندوں“کا کہنا ہے اپنے دورہ امریکہ و برطانیہ میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے ہی وفادار وزیراعظم شہباز شریف پر کڑی نظر رکھی کہ وہ امریکی حکام سے کوئی ایسی میٹنگ ا±ن سے بالا بالا نہ کر لیں جس کا فیلڈ مارشل عاصم منیر کو کوئی نقصان ہو ، میرے نزدیک یہ صرف شر پسندی یا جیلسی ہے ، میری اطلاعات یہ ہیں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر میں اس قدر اتفاق ہے شہباز شریف کوئی بات ان سے نہیں چھپاتے ، حتی کہ جو باتیں صرف میاں نواز شریف کو بتانے والی ہوتی ہیں وہ باتیں بھی وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بتا دیتے ہیں ، وہ زمانہ گیا جب وزیراعظم شہباز شریف ہر مشورہ اپنے بڑے بھائی نواز شریف سے کرتے تھے اب اپنے سارے رشتے ا±نہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے جوڑ رکھے ہیں ،ایک زمانے میں کہا یا سمجھا جاتا تھا ”شہباز شریف کی سیاست صرف اور صرف نواز شریف کی وجہ سے چلتی ہے“، شہباز شریف ”قبولیت“کے جس درجے پر اب فائز ہیں یہ بات بھی اپنی اہمیت اب کھو چکی ہے کہ ا±ن کی سیاست اب ا±ن کے بڑے بھائی نواز شریف کی وجہ سے چلتی ہے ، بلکہ اب یہ کہا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا نواز شریف کی تھوڑی بہت سیاست جو چل یا رینگ رہی ہے وہ اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف کی وجہ سے رینگ رہی ہے اور یہ ان ہی کی خصوصی پلاننگ اور حکمت عملی کا نتیجہ ہے میاں نواز شریف اپنے تمام جھوٹے سچے عدالتی کیسوں سے باعزت بری ہو کر اب زیادہ تر فضاو¿ں میں رہتے ہیں ، الیکشن سے قبل وہ لندن سے باقاعدہ وزیراعظم بن کے پاکستان آئے تھے ، یہاں آکر ا±نہیں پتہ چلا بہت سے معاملات ا±ن سے بالا بالا طے ہو چکے ہیں جن کے مطابق اب ا±نہیں وزیراعظم نہیں بنایا جا رہا ، پھر بادل نخواستہ اپنی صاحبزادی کو وزیراعلیٰ پنجاب بنوا کر اپنے وزیراعظم نہ بنائے جانے کا غصہ ا±نہوں نے ت±ھوکنے کے بجائے ابھی تک منہ میں رکھا ہوا ہے ، ایک خاص پلاننگ کے تحت حکمرانی سیاست سے جس طرح انہیں آو¿ٹ کیا گیا ا±ن کا یہ دکھ مرتے دم تک قائم رہے گا، البتہ ا±ن کے کچھ پرانے ساتھیوں کو وفاقی و صوبائی کابینہ میں اکاموڈیٹ کر کے ا±ن کے اس دکھ کو کم کرنے کی کوشش ضرور کی گئی ہے ، س±نا ہے پچھلے دنوں وہ میرے پسندیدہ ملک سویٹزرلینڈ میں زیر علاج تھے ، اب پتہ نہیں وہ کہاں ہیں ؟ البتہ کچھ ذرائع سے یہ ضرور پتہ چلتا رہتا ہے آج کل وہ اکثر اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف کی کال کے منتظر رہتے ہیں ، اور شہباز شریف جس کی کال کے منتظر رہتے ہیں وہ صدر ٹرمپ کی کال کا منتظر رہتا ہے۔

مزیدخبریں