امن، طاقت اور سفارت کاری کا امتزاج

09:28 AM, 30 Sep, 2025


وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں جو تاریخی خطاب کیا وہ محض ایک تقریر نہیں بلکہ ایک ایسا سفارتی منشور تھا جس نے دنیا کو چونکا دیا۔ یہ خطاب اس وقت سامنے آیا جب دنیا طاقت کے توازن، عالمی قوانین کی پامالی، ماحولیاتی بحران اور بڑھتی کشیدگی کے دوراہے پر کھڑی ہے۔ شہباز شریف کے الفاظ نے باور کرایا کہ پاکستان جنگ نہیں بلکہ امن چاہتا ہے، اعتماد کی بنیاد پر تعلقات چاہتا ہے اور جارحیت کے بجائے تعاون کے راستے کا حامی ہے۔
وزیراعظم نے سب سے پہلے دنیا کی موجودہ صورتحال کا خاکہ کھینچا جہاں طاقتور ممالک اپنی مرضی کے قوانین چھوٹے ملکوں پر مسلط کر رہے ہیں۔ ترقی پذیر دنیا غربت، بدامنی اور ماحولیاتی تباہ کاریوں میں پسی ہوئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ موسمیاتی تبدیلی سب سے بڑا خطرہ ہے۔ پاکستان کے سیلابوں نے لاکھوں افراد کو بے گھر کیا اور کھڑی فصلیں تباہ ہوئیں، مگر یہ مسئلہ صرف پاکستان کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا ہے۔ صنعتی ممالک کی بے قابو سرگرمیوں کے نتیجے میں یہ بحران سنگین تر ہو چکا ہے اور اگر دنیا نے مل کر اس کا مقابلہ نہ کیا تو سب سے بھاری قیمت ترقی پذیر ممالک کو چکانا ہو گی۔ شہباز شریف نے کہا کہ آج کے بڑے چیلنجز کا حل صرف اور صرف کثیرالجہتی میں ہے۔ کوئی ملک تنہا ان مسائل سے نہیں نمٹ سکتا۔ اسی لیے انہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی روح کو زندہ کرنے کی اپیل کی جہاں مساوات، انصاف اور تعاون بنیادی اصول ہیں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی بھی انہی ستونوں پر کھڑی ہے۔ وزیراعظم نے باور کرایا کہ پاکستان طاقت رکھتا ہے مگر طاقت کا استعمال ہماری پالیسی نہیں، ہماری ترجیح امن، برداشت اور تعاون ہے۔ یہی توازن پاکستان کو ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔
جنوبی ایشیا کی صورتحال کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ خطہ وسائل سے مالا مال ہے مگر تنازعات نے ترقی کا راستہ روک رکھا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے بھارتی جارحیت کا جواب صرف اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے دیا، اور اگر دوبارہ حملہ ہوا تو جواب فیصلہ کن ہو گا۔ تاہم پاکستان کبھی جنگ کو ترجیح نہیں دیتا۔ انہوں نے دنیا کو یاد دلایا کہ کشمیر کا مسئلہ حل کیے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں۔ اقوام متحدہ کو اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرانا ہو گا تاکہ کشمیری عوام کو حقِ خود ارادیت مل سکے۔ وزیراعظم نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو غیر معمولی خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی ثالثی نے ایک ممکنہ بڑی جنگ کو روکا، جو ایٹمی تصادم میں بدل سکتی تھی۔ اسی لیے پاکستان نے ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا تاکہ دنیا کو یہ پیغام ملے کہ پاکستان امن قائم کرنے والوں کی قدر کرتا ہے۔ یہ اقدام پاکستان کی امن پسندی اور سفارت کاری کا عزم ظاہر کرتا ہے۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق وزیراعظم کا خطاب پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روح کی عکاسی ہے۔ پاکستان دنیا کو باور کرانا چاہتا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار ریاست ہے جو فوجی طاقت رکھنے کے باوجود امن کو ترجیح دیتی ہے۔ اگر بھارت جارحانہ پالیسی ترک کر دے اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرے تو خطے کا نقشہ بدل سکتا ہے۔ دفاعی بجٹ کا بڑا حصہ تعلیم اور ترقیاتی منصوبوں پر لگے تو کروڑوں عوام کی زندگیاں سنور سکتی ہیں۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ دنیا اب یک قطبی نہیں رہی بلکہ کثیر قطبی ہو چکی ہے، طاقت کے نئے مراکز ابھر رہے ہیں۔ ایسے میں درمیانے اور چھوٹے ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ اجتماعی آواز بلند کریں۔ پاکستان اس آواز کا ایک اہم حصہ ہے اور چاہتا ہے کہ ترقی پذیر دنیا کے مسائل عالمی سطح پر سنے جائیں۔ ان کا جملہ کہ ”ہم نے جنگ جیت لی لیکن اب امن کی جیت چاہتے ہیں“ پاکستان کے وژن اور سوچ کی عکاسی ہے۔
یہ خطاب اس لحاظ سے بھی منفرد تھا کہ پاکستان نے صرف اپنے مسائل نہیںاٹھائے بلکہ عالمی معاملات پر بھی آواز بلند کی۔ چاہے ماحولیاتی تبدیلی ہو، دہشت گردی یا عالمی قوانین کی خلاف ورزی، پاکستان نے ہمیشہ ایک اصولی مو¿قف اپنایا ہے۔ یہی اصول پسندی پاکستان کو عالمی برادری میں معتبر بناتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس خطاب کو ایک ”سفارتی دستاویز“ کہا جا رہا ہے جو آنے والے برسوں تک پاکستان کے مو¿قف کو اجاگر کرے گی۔ اپنی تقریر کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے دنیا کو یاد دلایا کہ پاکستان جنگ نہیں بلکہ امن چاہتا ہے، طاقت نہیں بلکہ اعتماد کی بنیاد پر تعلقات چاہتا ہے، جارحیت نہیں بلکہ تعاون کو ترجیح دیتا ہے۔ اگر عالمی برادری نے پاکستان کا ساتھ دیا تو نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا میں امن اور خوشحالی کے نئے در کھل سکتے ہیں۔ یہ خطاب اس بات کا اعلان تھا کہ پاکستان اپنی فوجی طاقت کو دفاع تک محدود رکھتا ہے مگر امن کے لیے سفارت کاری کو ہر حد تک لے جانے کے لیے تیار ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو جنرل اسمبلی کے فلور سے دنیا بھر میں گونجا اور تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔

مزیدخبریں