میں سوچ رہا تھا کہ ہم اَپنے بچوں کو دو بالکل متضاد باتیں بتاتے ہیں۔ ا±ن کی وجہ سے ہمارے بچے د±نیا کے کنفیوز ترین بچے ہیں۔ ایک جانب ہم کہتے ہیں کہ اِسلام اَمن و آشتی کا دِین ہے۔ ہمارے نبی رحمة اللعالمین ہیں۔ قرآن ہمیں لوگوں کےساتھ نرمی کا سلوک کرنے کا درس دیتا ہے۔ د±وسری جانب ہم ا±نہیں اَپنی جو تارِیخ پڑھاتے ہیں ا±س میں سوائے تشدد، جنگ و جدل اَور اَندرونی سازشوں کے اَور کچھ نہیں ہے۔ ہمارے سارے ہیرو سپاہی تھے۔ ا±ن کی خوبی ہی یہ تھی کہ ا±نھوں نے د±شمنوں کو ناکوں چنے چبوا دئیے یا ا±ن کے علاقے فتح کرلیے۔ کوئی اَیسا شخص جس نے معاشرتی بہتری کے لیے کام کیے ہوں ہم ا±سے اَپنا ہیرو تسلیم کرنے کےلئے بہت مشکل سے تیار ہوتے ہیں۔ مجھ سے پوچھیں تو سوائے عبدالستار اِیدھی کے ہماری ڈکشنری میں کوئی اَیسا شخص نہیں پایا جاتا جس کی ہم اِس لیے عزت کرتے ہوں کہ ا±س نے معاشرے کی بہتری کے لیے کچھ کیا۔
اگر آپ دیکھیں تو ہمارے معاشرے میں تشدد بہت اَندر تک گھسا ہوا ہے۔ گھروں میں بچوں کی مار پیٹ، مدرسوں میں بچوں پر ہونے والا تشدد، سڑکوں اَور بازاروں میں ذرا ذرا سی بات پر لڑائی جھگڑے، ہمارے بچوں کے کھیل جو مارکٹائی پر مبنی ہوتے ہیں۔ جو بچہ اِس ماحول میں پرورش پائے گا ا±س نے متشدد اِنسان ہی بننا ہے۔ ہمارے خیال میں بچوں کو نظم کا پابند بنانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ا±نہیں مارا جائے۔ چنانچہ ہر طرف یہی ہورہا ہے۔
اِس سوچ کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہمارے اَندر سے نرمی آہستہ آہستہ نکل گئی۔ اَپنے افعال سے ساری د±نیا کو ہم یہ پیغام دیتے ہیں کہ ہم بات بات پرہتھے سے ا±کھڑ جاتے ہیں اَور مرنے مارنے پر تیار ہوجاتے ہیں۔ ہمارا مقصد صرف د±نیا پر اِسلام کا پرچم لہرانا ہے۔ ہم تمام غیر مسلموں سے شدید نفرت کرتے ہیں۔ ہمارا بس نہیں چلتا کہ ہم اِن سب کو روزِ حساب سے پہلے ہی کسی طرح جہنم میں جھونک دیں۔ یہ نفرت ہمارے تمام رویوں سے ظاہر ہوتی ہے۔ آپ نے کبھی سنا ہے کہ ہمارے مذہبی رہنماو¿ں نے عیسائیوں کو کرسمس کے موقع پر چاکلیٹ یا کیک بانٹے ہوں؟ ہم غیر مسلموں کی کسی بھی خوشی میں شریک ہونا غیراِسلامی اَور بعض اَوقات کفر تصور کرتے ہیں۔ ہم لوگوں نے د±وسرے ممالک میں پیسہ خرچ کرکے مسجدیں بنوائیں۔ ایک سے ایک شان دار مسجد۔ اِس کے مقابلے میں عیسائی مشنری کیا کرتے تھے؟ وہ د±وسرے ممالک میں سکول اَور ہسپتال بنواتے تھے۔ ہمارےاَپنے ملک میں کتنے ہی سکول، کالج اَور ہسپتال غیرمسلموں کے بنوائے ہوئے ہیں۔ وہ کام جس سے ہم د±وسروں کے دِلوں میں جگہ بنا سکیں وہ ہم سے نہیں ہوتے۔ غالباً وہ ہمیں فالتو لگتے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ ہم مسجدبنوائیں گے تو ہمارے لیے جنت میں ایک گھر بن جائے گا۔ چنانچہ مسجد بنوانا گویا جنت میں جانے کا ایک شارٹ کٹ ہے۔ لیکن اَیسی کوئی سوچ ہسپتال یا سکول کے حوالے سے ہمارے اَندر موجود نہیں ہے۔ تعلیمی اِدارے کے سلسلے میں ہم شاید کوئی دینی مدرسہ بنوانے پر تو توجہ دے دیں لیکن وہ تعلیمی اِدارہ جہاں جدید علوم کی تعلیم دی جاتی ہو، ہمارے دائرے سے باہر ہے کیونکہ ہمارے خیال میں ا±س کو بنانے پر جنت نہیں ملے گی۔
سختی اَورد±رشتی کے برے نتائج ہمیشہ نکلتے ہیں۔ چنانچہ ہمارے لیے بھی وہ نتائج نکل آئے ہیں۔ ساری د±نیا میں ہماری کوئی عزت نہیں۔ ہم نے د±نیا میں کوئی اَیسا کام کیا ہی نہیں جس کی بنیاد پر عزت کمائی جاسکتی ہو۔ د±نیا کے لوگ ہم سے ا±لفت اَور محبت بھی نہیں کرتے۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ غیروں کے اَندر ہماری محبت نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔ حالانکہ اَب بہت سے لوگ د±نیا میں اَیسے ہیں، اَور ا±ن کی تعداد دِن بہ دِن بڑھتی جارہی ہے، جو کسی مذہب کو نہیں مانتے۔ چنانچہ ا±ن کے روئیے مذہب کی بنیاد پر طے نہیں ہوتے۔ لوگ ہم سے بدکتے ہیں۔ یہ صورتِ حال آج سے دو سو سال پہلے تک نہیں تھی۔ آہستہ آہستہ ہماری سوچ اَور ہمارے رویے تبدیل ہوتے گئے۔ جوں جوں زمانہ ترقی کرتا گیا ہم ماضی میں جینا شروع ہوگئے۔ آج ہماری جن باتوں پر بحث ہوتی ہے وہ یہ ہیں کہ فلاں صحابی نے فلاں صحابی کے ساتھ کیا کیا۔ فلاں وقت کیا واقعہ پیش آیا تھا؟ پھر ہم نے اَپنے آپ کو علیحدہ نظر آنے کے لیے مستند باتوں کو بھی چیلنج کرنا شروع کردیا۔ چنانچہ ہماری ساری توجہ ماضی کی جانب ہوگئی۔ ہم نے ماضی کی شخصیتوں کے درمیان بعض فرضی اِختلافات پیدا کیے اَور ا±ن کے مطابق اَپنے اَندر بھی تقسیم پیداکرلی۔ کرنے والےکاموں کی جانب ہماری توجہ نہ جاسکی۔ چنانچہ د±نیا کے لوگ ہمارے بارے میں یہ رائے رکھتے ہیں کہ یہ لوگ بد نظم، جاہل، جھگڑالو، نرمی سے خالی اَور بے حد جذباتی ہیں۔ اگرآپ غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ تمام باتیں د±رست ہیں۔ جس اللہ تعالیٰ کی ہم عبادت کرتے ہیں ا±س کی تخلیقات میں بے پناہ نظم پایا جاتا ہے۔ وہ اَپنے عالم ہونے کا پرچار کرتا ہے اَور ہمیں علم حاصل کرنے کی جانب توجہ دلاتا ہے۔ وہ بندوں کے ساتھ نرم ہے اَور جھگڑوں کو پسند نہیں کرتا۔ ا±س کا کوئی کام جذبات کی بنیاد پر نہیں ہوتا بلکہ حکمت کے تحت ہوتا ہے۔ ا±س خدا کو ماننے والے اِن تمام خوبیوں سے عاری ہیں۔
ہماری سختی یہاں تک پہنچی کہ غیر مسلموں کے علاوہ ہم نے آپس میں ایک د±وسرے کو کاٹ کر پھینکنے کا وتیرہ اِختیار کرلیا۔ ذرا ذرا سی بات پر ہم الگ ہوتے گئے۔ ہیپی برتھ ڈے کہنا بھی کفر قرار پاگیا۔ کیک کاٹنا ایک عذاب ہوگیا۔ لوگ کیک کاٹنے پر د±وسرے کی گردن کاٹنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ اَور اِن تمام باتوں کے ساتھ ہم یہ کہتے نہیں تھکتے کہ ہم رحمة اللعالمین کے ا±متی ہیں۔ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ رحمة اللعالمین کا کیا مطلب ہے۔ ہم نے خود سے فرض کرلیا ہے کہ عالمین سے مراد مسلمین ہے۔ لیکن آپ کے در سے تو کوئی کافر اَور مشرک بھی خالی نہیں گیا۔ آپ سے تو ہر ایک کو صرف محبت اَور رحمت ہی ملی۔ وہاں توکوئی سختی نہیں تھی۔ سیرتِ پاک میں کوئی ایک واقعہ بھی اَیسا نہیں ملتا جب آپ نے میدانِ جنگ کے باہرکسی کافر یا مشرک کے ساتھ سختی کی ہو۔ آپ نے ہر ایک کے ساتھ محبت و رواداری کا معاملہ ہی فرمایا۔ اگر اَیسا نہ ہوتا تو لوگ کیونکر اِسلام قبول کرتے؟ سب جانتے ہیں کہ زیادہ تر لوگوں نے آپ کے اخلاق سے متاثر ہوکر ہی اِسلام قبول کیا۔ اَور ہم ا±متیوں کا یہ معاملہ ہے کہ ہم اَپنے سوا ہر ایک کو آگ لگا دینا چاہتے ہیں۔ ہمارا بس نہیں چلتا کہ کس طرح ہم د±نیا سے تمام کافروں اَور مشرکوں کا خاتمہ کردیں۔ اِس سلسلے میں ہم نے ہزاروں بے گناہ غیر مسلموں کا خون بہایا۔ ا±ن کی جان لی۔
ہماری سختی ، ہٹ دھرمی اَورجذباتیت کی وجہ سے د±نیا کے اکثر ممالک مسلمانوں کے خلاف ہو گئے ہیں۔ سیاسی حکومتیں تو الگ رہیں، عام لوگ بھی مسلمانوں کو پسند نہیں کرتے۔ اِس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ کافر ہیں اَور ہم مسلمان ہیں بلکہ اِس کی وجہ ہماری سختی اَور تنگ نظری ہے۔ ہم نے غیروں کو اَپنا بنانے کا گر ہی نہیں سیکھا۔ ہمارے آباءو اجداد نے حیرت انگیز طور پر غیروں کو اَپنا بنایا تھا۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ پورے اجمیر اَور ا±س کے آس پاس کے علاقوں میں واحد مسلمان تھے۔ لیکن ا±نہوں نے اَپنے محبت کے روئیے سے کیسے ہندوو¿ں کو اَپنا گرویدہ بنایا۔ حضرت سید علی ہجویریؒ لاہور اَور اِ س کے آس پاس کے علاقے میں ہندوو¿ں میں گھرے ہوئے تھے۔ ا±ن سے تو کسی نے مسلمان ہونے کی وجہ سے نفرت نہیں کی۔ بلکہ ا±ن سے محبت ہی کی کیونکہ ا±نہوں نے لوگوں کو اَپنے اخلاق، نرمی، محبت اَور خلوص سے اَپنا گرویدہ بنایا تھا۔ ہم اِن لوگوں کو یاد تو کرتے ہیں، اِن کے جشن بھی مناتے ہیں لیکن اِن کی سیرت پر عمل کرنے کے لیے ہم تیار نہیں ہیں۔ اِس کا جو نتیجہ نکلناچاہیے تھاوہ ساری د±نیا میں نکل آیا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم اَب بھی سمجھنے اَور سیکھنے کےلئے تیارنہیں ہیں۔ ہم نے اَپنے ہر معاملے میں نرمی کو خیرباد کہہ دِیا ہے۔ اَب مسلم اَور سخت گیرایک ہی سکے کے دو ر±خ ہیں۔
ہماری نرمی کدھر گئی؟
09:27 AM, 30 Sep, 2025