کرکٹ اور دیگر کھیلوں کے مقابلے ہوا کرتے ہیں۔ کھلاڑی بھی جذباتی رویے دکھایا کرتے ہیں لیکن سپورٹس مین سپرٹ ہی کھلاڑی کا اصل اور اصلیت ہوا کرتی ہے۔ گریٹ محمد علی عالمی چیمپئن پریکٹس نہ کر سکے اور ایک سٹریٹ فائٹر قسم کے ہیوی ویٹ چیمپئن جس کا اتنا نام نہیں تھا پوائنٹس پر ایک مقابلہ ہار گئے۔ لیون سپنکس نام تھا اُس کا۔ گریٹ محمد علی نے ہار کا اعلان سننے کے بعد اس کو مخاطب کیا اور کہا کہ آج تم نے دنیا کو تہہ و بالا کر دیا۔ سپنکس نے جواب دیا کبھی تم بھی کیا کرتے تھے۔ گریٹ محمد علی نے کہا کہ میں پھر کروں گا اور پھر انہوں نے اس کو دوبارہ مقابلے میں عبرت ناک شکست دی اور اپنا اعزاز واپس لیا۔ سپورٹس مین سپرٹ بہت بڑا اثاثہ ہوا کرتی ہے کسی بھی کھلاڑی کا۔ مگر بدقسمتی ہمارا حالیہ مقابلہ انتہائی گھٹیا حریف سے تھا اور مودی اصلیت کے اعتبار سے انتہائی چھوٹا، کینہ پرور، جھوٹا اور ناکام ترین سیاستدان ہے اس نے کرکٹ میچ کی کامیابی کو آپریشن سندور سے جوڑ دیا۔ پاک بھارت جنگ کو کرکٹ کے میدان میں حکومتی سطح پر ایک سلسلے کے طور پر جوڑا گیا۔ مودی 9/10 مئی کی رات چار گھنٹے میں اٹھائی جانے والی ہزیمت، اس کے بعد ٹرمپ کے ہاتھوں ذلت، پھر عالمی تنہائی کے صدمے سے اتنا چڑچڑا ہو گیا کہ ڈر ہے کہیں اوپر نیچے صدمات سے کوئی ایسی حرکت نہ کر بیٹھے جس سے خطے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ جائے لہٰذا مودی کا رویہ انسانیت، کھیل اور حمیت و غیرت کے اصولوں کے خلاف ہے۔ اس کو مقبوضہ کشمیر کے مظلوموں کی بددعاﺅں نے پاگل کر دیا ہے۔ اپنے ہاتھ اپنے دانتوں سے کاٹتا پھرتا ہے مگر سامنے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر شاہ ہیں۔ واپس آتے ہیں کرکٹ ٹیم کے رویے اور کھیل کی طرف، دبئی میں کھیلے گئے حالیہ ایشیا کپ کے دوران بھارتی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی نے جہاں شائقین کو سنسنی خیز مقابلے فراہم کیے، وہیں کھیل کے آداب اور سپورٹس مین سپرٹ پر کئی سوالات بھی اٹھائے۔ کرکٹ کو ہمیشہ جینٹلمینز گیم کہا جاتا ہے، مگر بھارتی کھلاڑیوں کے بعض رویے اور حکمتِ عملیوں نے اس تاثر کو کمزور کیا۔ میدان کے اندر اور باہر ہونے والے واقعات نے واضح کیا کہ جیت کی خواہش میں کھیل کے بنیادی اصول نظرانداز کیے جا رہے ہیں۔ سب سے پہلے بھارتی کپتان کے بعض فیصلے زیرِ بحث آئے۔ یہ روش سپورٹس مین سپرٹ کے خلاف تھی اور نوجوان شائقین کے لیے منفی مثال بنی۔ مزید برآں، بھارتی فیلڈرز کی جانب سے غیر ضروری سلیجنگ بھی دیکھنے کو ملی۔ اگرچہ یہ کرکٹ میں نیا نہیں، لیکن اس بار اس کی شدت غیر معمولی تھی۔ زبانی جھڑپیں اور مخالف بلے باز کو دباو¿ میں لانے کی کوششیں کھیل کے معیار کو گرا رہی تھیں۔ شائقین صرف چوکے چھکے نہیں دیکھنا چاہتے بلکہ اس جذبے کو بھی محسوس کرتے ہیں جو صحت مند مقابلے سے جڑا ہوتا ہے، مگر بھارتی ٹیم کا رویہ اس توقع پر پورا نہ اترا۔ یہ رویے صرف کھیل تک محدود نہیں بلکہ بھارت کے وسیع تر سیاسی ماحول سے بھی جڑے دکھائی دیتے ہیں۔ کرکٹ ہمیشہ قومی جذبات کا استعارہ رہی ہے، اور حالیہ برسوں میں سیاسی قیادت نے اسے قومی بیانیے اور سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے۔ بڑے میچز سے قبل حکومتی بیانات میں قومی وقار کی جنگ جیسے الفاظ استعمال ہوئے، جس نے کھیل کو سفارتی یا عسکری مقابلے کی شکل دے دی۔ اس رجحان نے کھلاڑیوں پر غیر ضروری دباو¿ ڈالا اور کھیل کے اصل مقصد یعنی دوستانہ مقابلہ اور عوام کو قریب لانے کو متاثر کیا۔ عالمی سطح پر بھی کھیل کو سیاسی عزائم کا حصہ بنانے کے نقصانات دیکھے گئے ہیں۔ جیت کو سفارتی کامیابی اور ہار کو قومی ناکامی سمجھنے سے کھیل اپنی اصل روح کھو دیتا ہے اور کھلاڑی دباو¿ میں آ جاتے ہیں۔ ایشیا کپ میں بھارتی ٹیم پر یہی دباو¿ نمایاں تھا، جس نے کھیل کے وقار کو متاثر کیا۔ بعض بھارتی میڈیا اداروں نے ایشیا کپ کو سیاسی بیانیے سے جوڑنے کی کوشش کی، جب کہ سوشل میڈیا پر مخالف ٹیموں اور شائقین کے خلاف سخت زبان استعمال ہوئی۔ اگرچہ ٹیم براہِ راست اس کی ذمہ دار نہیں تھی، مگر کھلاڑیوں اور بورڈ کی جانب سے خاموشی نے منفی رجحانات کو تقویت دی۔ بھارتی کرکٹ تاریخ میں ایسے مواقع بھی آئے جب ٹیم نے کھیل کے اعلیٰ ترین اصول قائم کیے۔ سچن ٹنڈولکر، راہول ڈریوڈ اور انیل کمبلے جیسے کھلاڑیوں نے ہمیشہ باوقار رویہ اپنایا۔ یہ صرف رنز اور وکٹوں کے ہیرو نہیں بلکہ کھیل کی اصل روح کے نمائندے تھے۔ آج کے کھلاڑیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ انہی روایات کو زندہ کریں۔ جیتنے کا جذبہ اہم ہے، مگر یہ کھیل کی روح پامال کر دے تو کامیابی کھوکھلی رہ جاتی ہے۔ دیگر ممالک کی مثالیں بھی موجود ہیں: جنوبی افریقہ نے بعد از نسلی امتیاز دور میں کرکٹ کو قومی یکجہتی کا ذریعہ بنایا، اور نیوزی لینڈ نے دہشت گرد حملے کے بعد اپنے طرزِ عمل سے دنیا کو دکھایا کہ کرکٹ انسانی قدروں کو مضبوط کر سکتا ہے۔ کرکٹ محض رنز اور وکٹوں کا کھیل نہیں بلکہ کردار اور وقار کا نام ہے۔ کھیل کو سیاست کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا نہ صرف کھیل بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ بھارتی ٹیم اور قیادت کو اپنی حکمتِ عملی اور رویے میں وہ شائستگی واپس لانا ہو گی جو اس کھیل کا اصل حسن ہے، ورنہ جیتنے کے باوجود عزت کھو دینا سب سے بڑا نقصان ہو گا۔
سپورٹس مین سپرٹ سے عاری بھارتی رویہ
09:26 AM, 30 Sep, 2025