حقیقت یہ ہے کہ ریاست پاکستان کا اقتدار اعلیٰ تو اللہ رب العزت کے پاس ہے اور ہیڈ آف دی سٹیٹ یعنی ریاست کا سربراہ ریاست پاکستان کو اللہ کا نائب ہونے کے ناتے اللہ کے دئیے ہوئے اختیارات کے مطابق چلاتا ہے۔ سو اللہ کے بعد پاکستانیوں کی نظریں ریاست کی طرف ہی ہوتی ہیں کہ وہ ہر دکھ درد کا حل تلاس کرے گی۔ یہ کسی بھی شہری کا اپنی ریاست پر یقین کا آخری درجہ ہے۔ سیلاب نے ہماری ریاست کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں لیکن سیلاب گزر گیا اب بعد از سیلاب کے مسائل ہیں لیکن ہم انہیں اس سنجیدگی سے نہیں لے رہے جس کا یہ مطالبہ کر رہا ہے۔ کسی سماج کی اس سے زیادہ ذہنی پستی کیا ہو گی کہ لٹے پھٹے لوگ جب اپنے گھروں کو واپس گئے تو ان کے گھروں سے قیمتی سامان چرا لیا گیا تھا۔ ایسا تھیم پارک لاہور میں بھی ہوا تو پھر پیروالا کا تو اللہ ہی حافظ تھا۔ سیلاب نے دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کو صاحب استطاعت سے بھکاری بنا دیا۔ جو صبح خیرات بانٹ رہے تھے رات وہ لائن میں لگے بے سرو سامانی کے عالم میں اپنی جوان بچیوں کے ساتھ کسی گمنام سٹرک کے کنارے بستر کی چادروں کا سائبان بنائے بدتر زندگی گزار رہے تھے۔ یہ سب کچھ پلک جھپکتے ہی ہو گیا۔ لوگوں کو بچوں کے علاوہ کچھ بھی بچانے کی مہلت نہیں ملی۔ جمعرات کی دوپہر فلیٹیز ہوٹل لاہور میں المصطفیٰ ٹرسٹ نے سیلاب میں اپنی خدمات کے حوالے سے میڈیا بریفنگ رکھی تھی۔ برادرم نواز کھرل جو المصطفیٰ ٹرسٹ کے ترجمان ہیں ان سے میرا تعلق کالج کے زمانے سے ہے اور یہ وہ طلبا قائد تھے جن کا تعلق اے ٹی آئی سے تھا، نواز پنجاب کے جنرل سیکرٹری رہے اور اللہ نے انہیں کمال صلاحیت حوصلہ اور انتھک جدو جہد کے جذبے سے نواز رکھا ہے۔ چیئرمین المصطفیٰ ٹرسٹ برادرم عبد الرزاق ساجد سے بھی ضیا کے دورِ ستمگر کی آشنائی ہے اور مجھے یاد ہے کہ وہ ایک زمانے میں انجمن طلبا اسلام کے مرکزی صدر تھے جنہوں نے 1989 کے طلبا انتخابات میں پنجاب بھر میں بہترین کارکردگی
دکھائی۔ المصطفیٰ ٹرسٹ کا دستر خوان سال بھر لوگوں کی خدمت میں مصروف رہتا ہے اور میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ عبد الرزاق دراصل رزاق کا حقیقی بندہ ہے۔ جسے اللہ نے رزق بانٹنے پر مامور کر رکھا ہے۔ فلیٹیز ہوٹل میں وقتِ مقررہ پر صحافی دوستوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جن میں مجیب الرحمان شامی، عامر خاکوانی، نوید چوہدری، دلاور چوہدری، صوفیہ بیدار صاحبہ، سلمان غنی، مدثر اقبال بٹ، ہمارے بزرگ کالم نگار منشا قاصی، ناصف اعوان اور سعید بدر کے علاوہ صحافیوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ المصطفیٰ ٹرسٹ کی ایم ڈی محترمہ نصرت سلیم صاحبہ بھی اے ٹی آئی خواتین ونگ پاکستان کی صدر رہی ہیں، نے سیلاب کے حوالے سے ایسی معلومات فراہم کیں جو یقینا دل ہلا دینے والی تھیں۔ ان کی بریفنگ کے مطابق 80 لاکھ سے زائد لوگ اس سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ ان کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ کیوں کہ یقینا یہ وہ لوگ ہیں جو سیلاب سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں لیکن ان متاثرین کے وہ عزیز و اقارب جن تک سیلاب نہیں پہنچا ان تک یہ متاثرین ضرور پہنچیں گے اور یہ بڑا بوجھ ابھی ان پر آئے گا۔ المصطفیٰ ٹرسٹ کے 6 ہزار پانچ سو رضا کاروں نے سیلاب کے ساتھ ساتھ اپنا سفر کیا یوں انہوں نے کے پی کے پنجاب اور سندھ تک اپنی خدمات کو پھیلائے رکھا۔ بریفنگ تک پاکستان کے 27 اضلاع اور 2 سو سے زائد مقامات پر المصطفیٰ کا ریلیف آپریشن جاری رہا۔ جس میں انہوں نے 10 لاکھ سے زائد انسانوں میں کھانا تقسیم کیا 25 میڈیکل کیمپ لگائے جن میں 12770 مریضوں کا علاج کیا گیا اور انہیں ادویات فراہم کی گئیں 10 خیمہ بستیوں قائم کیں جن میں 5 ہزار سے زائد بے گھر افراد کو پناہ دی گئی۔ مویشیوں کیلئے 60 ہزار کلو سے زائد چارہ تقسیم کیا گیا 20 کشتیوں کے ذریعے گہرے پانیوں میں پھنسے خاندانوں کو نکالنے اور ان تک امداد پہنچانے کیلئے آپریشنز کیے گئے۔ پنجاب کے 21 اضلاع میں المصطفیٰ ٹرسٹ کی سرگرمیاں عروج پر تھیں جس کیلئے میں روزانہ کی بنیاد پر المصطفیٰ کا پیج وزٹ کرتا رہا ہوں۔ جو بھی سماجی خدمات سر انجام دے وہ ہمیشہ قابل عزت ہوتا ہے۔ اللہ علم اور دولت سزا کے طور پر دے دیتا ہے لیکن علم اور دولت بانٹنے کی توفیق ہمیشہ اللہ اپنے پسندیدہ بندوں کو عطا کرتا ہے۔ سیلاب نہ بھی ہو تو المصطفیٰ کی خدمات جاری رہتی ہیں کہ مصطفیؓ کے دستر خوان پر تو ساری کائنات بیٹھی ہے۔ سلام ہے ان ماو¿ں کو جنہوں نے ایسے بیٹے پیدا کیے ہیں جو بدترین حالات میں اپنے لوگوں کو بہترین سہولتیں فراہم کرتے ہیں۔ المصطفیٰ ٹرسٹ اب ان لوگوں کیلئے بھی کام کر رہا ہے جو اس سیلاب کی وجہ سے بہت سی نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ گھروں کو واپس جانے والوں کو ایک ماہ کا راشن اور نقد رقم بھی دے رہا ہے کہ وہ زندگی کو پھر سے شروع کر سکیں کہ گھروں میں سوائے اللہ کے نام کے کچھ نہیں بچا۔ ان تنظیموں کی مدد ہم سب کا اخلاقی، سماجی، انسانی اور مذہبی فریضہ ہے۔ ہمیں المصطفیٰ ٹرسٹ کے ہمرکاب پورے قد کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا کہ یہ غیر سیاسی تنظیم وہ سب کام کر رہی ہے جو ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ جب ریاست اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتی تو پھر اللہ عبد الستار ایدھی اور عبد الرزاق ساجد جیسے لوگ پیدا کر دیتا ہے کہ انسا ن کو بچایا جا سکے۔ اگر یہ لوگ بھی نہ ہوں تو سوچئے کہ ایسے مصیبت کے ماروں کا کیا حال ہو؟ سیلاب کے بعد کی صورت حال کا گہرا مطالعہ ابھی کر لینا چاہیے کہ کسانوں اور فصلوں کی بربادی کے بعد اس کا سارا بوجھ بڑے شہروں پر بھی آئے گا جو مہنگائی اور بیروزگاری کی بدترین شکل میں ہو گا۔ صحافیوں نے اس میڈیا بریفنگ کو غور سے سنا بھی اور مفید مشورے بھی دیئے لیکن حکومتوں کو چاہیے کہ اگر وہ ابھی کرکٹ اور جلسوں میں مصروف ہیں تو سیلاب متاثرین کی ذمہ داری ایسی تنظیموں کو دے دیں جو ناگفتہ بہ حالات میں بھی بہترین نتائج دے رہی ہیں۔ سیلاب کے بعد ہمیں دیر تک اپنے ان مصیبت زدہ بھائیوں کے دکھ سکھ میں شریک رہنا ہو گا کہ ریاست پر اعتماد ہی ریاستی بقا کی حقیقی گارنٹی ہوتی ہے امید ہے کہ صاحب اقتدار اور صاحب استطاعت اس پر سوچیں گے کہ وقت بڑا بے رحم ہوتا ہے کچھ معلوم نہیں جو صبح خیرات بانٹ رہا ہو شام ہوتے ہیں خود ہی کسی خیراتی لائن میں لگا ہو۔
سیلاب اور صاحبِ استطاعت بھکاری
09:22 AM, 30 Sep, 2025