برطانوی پارلیمنٹ نے دہشت گردوں اور سنگین جرائم سے جڑے افراد کی شہریت کی واپسی روکنے والا نیا قانون منظور کر لیا

10:12 PM, 30 Oct, 2025

لندن: برطانوی پارلیمنٹ نے ایک تاریخی قانون منظور کیا ہے جس کے تحت دہشت گردی، انتہا پسندی اور سنگین جرائم میں ملوث افراد کو برطانوی شہریت فوری طور پر واپس نہیں کی جا سکے گی۔ "ڈی پرائیویشن آف سٹیزن شپ آرڈرز ایکٹ 2025" کو 27 اکتوبر کو شاہی منظوری مل گئی ہے، اور یہ قانون اس قانونی خلا کو ختم کرتا ہے جو 2025 کے فروری میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پیدا ہوا تھا۔

اس نئے قانون کے تحت، کسی شخص کی شہریت صرف ابتدائی اپیل جیتنے پر بحال نہیں ہوگی، بلکہ اس وقت تک کوئی فیصلہ نافذ نہیں ہو گا جب تک تمام اضافی اپیلوں کا عمل مکمل نہ ہو جائے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی فرد قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے، تو حکومت اس دوران اُسے حراست میں رکھنے یا ملک میں واپس آنے کی اجازت دینے کی پابند نہیں ہوگی۔

اس قانون میں ایک اور اہم شق یہ شامل کی گئی ہے کہ کوئی شخص اپنی دوسری قومیتیں ترک کر کے محض برطانوی شہریت حاصل کرنے کا راستہ نہیں اپنائے گا، تاکہ وہ قانونی خلا کا فائدہ اٹھا کر دوبارہ شہریت نہ لے سکے۔

سیکیورٹی وزیر ڈین جاروس (Dan Jarvis) نے کہا کہ برطانوی حکومت کسی بھی صورت میں قومی سلامتی سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون دہشت گردی اور سنگین جرائم میں ملوث افراد کے لیے کسی بھی رعایت کی گنجائش ختم کر دیتا ہے۔

حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ اس قانون کا مقصد کسی شخص کے اپیل کرنے کے حق کو ختم کرنا نہیں ہے، اور نہ ہی شہریت سے محرومی کی بنیادوں میں کوئی تبدیلی کرنا ہے۔ یہ اقدام انسانی حقوق اور پناہ گزینی کے مقدمات کی طرح ہے، جہاں اپیل کے تمام مراحل مکمل ہونے تک حتمی فیصلے کو مؤخر رکھا جاتا ہے۔
 
 

مزیدخبریں