حکومت کا مقصد عوام کی فلاح و بہبود ہونا چاہیے، نہ کہ چند افراد کے مفادات کی تکمیل، چیئرمین پنجاب گروپ میاں عامر محمود

12:31 PM, 30 Oct, 2025

پشاور: ایپ سپ کی جانب سے سیکاس یونیورسٹی پشاور میں ’’2030 کا پاکستان، چیلنجز، امکانات اور نئی راہیں‘‘ کے موضوع پر ایک اہم آگاہی سیشن منعقد کیا گیا، جس میں چیئرمین پنجاب گروپ میاں عامر محمود نے خطاب کیا۔

میاں عامر محمود نے پاکستان کے اداروں کی کمزوریوں اور کرپشن کی موجودگی پر کھل کر بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’پاکستان کے ادارے کمزور ہیں اور یہی کمزوری کرپشن کی جڑ ہے۔ اگر ادارے مضبوط ہوں تو طاقتور افراد کا ہاتھ روکا جا سکتا ہے، مگر جب ادارے کمزور ہوں تو ناانصافی کا شکار ہمیشہ غریب اور مڈل کلاس لوگ ہوتے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’’پاکستان کے قیام کے 79 سال بعد بھی ہم ترقی کی دوڑ میں پیچھے ہیں۔ بھارت نے بھی ہمارے ساتھ آزادی حاصل کی تھی، مگر انہوں نے ترقی کی راہ پر قدم رکھا اور آج وہ ہم سے آگے ہیں۔ اس کے برعکس، ہم نے وقت ضائع کیا، اور اب چین دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور بننے کی سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔‘‘

میاں عامر محمود نے پاکستان کے فیڈریٹنگ نظام پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’پاکستان میں چار صوبے ہیں اور یہ سب اس کی بنیاد ہیں۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ حکومت کا مقصد عوام کی فلاح و بہبود ہے، نہ کہ چند افراد کے مفادات کی تکمیل۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ میں پاکستان کے آئندہ 100 سال کے حوالے سے ایک پیش گوئی کی گئی ہے جس میں کہا گیا کہ ہمارے ادارے کمزور ہیں اور ہمیں انہیں مضبوط کرنا ہوگا۔‘‘

انہوں نے پاکستان کے ایلیٹ طبقے کے بارے میں بھی تنقید کی اور کہا کہ ’’ملک میں ایک چھوٹا سا ایلیٹ طبقہ ہے جو ہر شعبے میں موجود ہے اور ان کی زندگی سوئٹزرلینڈ سے بھی بہتر ہے۔ یہ طبقہ عوام کے وسائل کو اپنے مفاد میں استعمال کرتا ہے اور اس سے ملک کی ترقی کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔‘‘

پاکستان کے صوبوں کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے میاں عامر محمود نے کہا کہ ’’پنجاب کا رقبہ پاکستان کے 52 فیصد کے برابر ہے، جو باقی تین صوبوں سے بہت بڑا ہے۔ یہ فیڈریٹنگ یونٹس کے توازن کو متاثر کرتا ہے۔ بلوچستان جیسے بڑے صوبے کو کوئٹہ سے سنبھالنا بہت مشکل ہے اور ہم وہاں امن و امان قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔‘‘

انہوں نے آخر میں کہا کہ ’’پاکستان کی ترقی کے لیے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا بہت ضروری ہے تاکہ ہر صوبہ اپنے وسائل اور حکومتی معاملات کو بہتر طریقے سے سنبھال سکے۔‘

مزیدخبریں