خواجہ خورشید انور کو مداحوں سے بچھڑے 41 برس ہو گئے

02:57 PM, 30 Oct, 2025

لاہور : پاکستان کے عظیم موسیقار خواجہ خورشید انور کو دنیا سے رخصت ہوئے آج 41 برس گزر گئے۔ خواجہ صاحب نے اپنی زندگی کے بیشتر حصے میں موسیقی کی دنیا کو لازوال دھنوں سے سنوارا۔ 21 مارچ 1912 کو میانوالی میں پیدا ہونے والے خواجہ خورشید انور نے ابتدا میں گورنمنٹ کالج لاہور سے فلسفے میں ایم اے کیا، اور پھر سول سروس میں شمولیت اختیار کی، مگر ان کی حقیقتاً پہچان موسیقی میں تھی۔

انہوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز 1939 میں آل انڈیا ریڈیو سے کیا، اور 1940 کی دہائی میں ممبئی سے لاہور منتقل ہونے کے بعد انہوں نے مجموعی طور پر 28 فلموں کی موسیقی تخلیق کی۔ ان کی دھنوں میں نہ صرف محبت اور رومان تھا، بلکہ ایک منفرد تخلیقی صلاحیت بھی تھی۔ خواجہ صاحب نے ماچس کی ڈبیا جیسے سادہ سے ساز پر بھی دلوں کو چھو جانے والی دھنیں تخلیق کیں۔

ان کے مشہور گیت "سن ونجلی جی مٹھڑی تال وے" نے انہیں خاص طور پر شہرت دی۔ اسی طرح فلموں "ہمراز"، "چنگاری" اور "گھونگھٹ" میں بھی ان کی موسیقی نے منفرد رنگ بھرا۔ بطور ہدایت کار بھی خواجہ خورشید انور کا نام بڑا عزت سے لیا جاتا ہے۔ ان کی ہدایت میں بنی کئی فلموں نے کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔

1980 میں حکومتِ پاکستان نے انہیں ستارہ امتیاز سے نوازا، جبکہ 1982 میں انڈین فلم انڈسٹری نے انہیں "فانی انسان لافانی گیت ایوارڈ" سے عزت دی۔

خواجہ خورشید انور کا تعلق ایک ایسے دور سے تھا جہاں ادیب اور فنکار آپس میں گہری دوستی رکھتے تھے۔ ان کی دوستی استاد دامن، فیض احمد فیض اور راجندر سنگھ بیدی جیسے بڑے ادیبوں سے تھی، جس کا اثر ان کے فن میں صاف دکھائی دیتا تھا۔

30 اکتوبر 1984 کو وہ ہم سے رخصت ہو گئے، مگر ان کی موسیقی اور گانے آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ ان کی تخلیقات کا اثر ہمیشہ رہے گا، کیونکہ وہ نہ صرف موسیقار بلکہ ایک مکمل ثقافتی شخصیت تھے۔

مزیدخبریں