کام نکلوانے کے قدیم طریقے

09:20 AM, 30 Oct, 2025

پروین شاکر نے کہا تھا ’’بچے ہمارے عہد کے چالاک ہوگئے‘‘ ، بعض اوقات ان بچوں کی چالاکیاں بڑے کام کی ہوتی ہیں ، ہمارے راستے کی کئی مشکلات دْور کر دیتی ہیں ، یا یوں کہہ لیں ہماری زندگیوں میں کچھ آسانیاں پیدا کر دیتی ہیں ، ویسے تو میرے بچے اب بڑے ہو گئے ہیں ، پچیس چھبیس سالہ بیٹے کو میں بچہ تو نہیں کہہ سکتا لیکن اولاد بوڑھی بھی ہو جائے والدین کے لیے بچے ہی رہتے ہیں ، کچھ دن پہلے ہماری معروف گلوکارہ نصیبو لعل کے شوہر نوید نے فون پر مجھے بتایا اْس کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے، میں نے سوچا اس نے شاید دوسری شادی کر لی ہوگی ، بیٹا دوسری بیوی سے پیدا ہوا ہوگا، مگر جب اْس نے بتایا نصیبو لعل جی ماں بنی ہیں میں نے سوچا عمر کے تقریباً آخری حصے میں بھی جس تیزی سے ہمارے کچھ ’’بڑے‘‘ بچے پیدا کر رہے ہیں کہیں ایسا نہ ہو ہمارے سارے بڑے ختم ہو جائیں ہمارے پاس صرف بچے ہی رہ جائیں، اگر ایسا ہوا مجھے یقین ہے پورا معاشرہ امن سکون شانتی والا ہو جائے گا ، کیونکہ ہمارے بچے ہمارے بڑوں کی طرح نہیں لڑتے ، اگر لڑیں بھی اْن کی لڑائیاں عارضی ہوتی ہیں ، کچھ ہی دیر بعد وہ پھر اک مک یعنی اکٹھے ہنستے کھیلتے ہوئے نظر آنے لگتے ہیں، وہ اپنے بڑوں کی طرح دلوں میں دشمنیاں یا بغض پال کر نہیں بیٹھ جاتے ، خیر میں اپنے صاحبزادے کی بات کر رہا تھا ، کچھ عرصہ پہلے اْس نے مجھ سے کہا ’’ابو جی یہ جو بے شمار لوگ آپ کو کھانوں کی دعوتیں دیتے ہیں آپ ان سب سے معذرت کر لیا کریں ، آپ ہر جگہ نہ چلے جایا کریں ‘‘، میں نے اْس سے اس کی وجہ پوچھی وہ کہنے لگا’’میں نے اکثر نوٹ کیا ہے ایک دن آپ کو کوئی کھانے پر بلاتا ہے اگلے ہی دن وہ اپنا کوئی نہ کوئی ناجائز کام لے کر آپ کے پاس آ جاتا ہے اور آپ اس پریشر میں آجاتے ہیں کہ رات کو اْس نے بڑا زبردست کھانا کھلایا ہے، اپنے گھر بْلا کر بڑی عزت دی ہے لہٰذا اس کا یہ کام کرنا اب مجھ پر فرض ہوگیا ہے ، آپ یہ نہیں سوچتے اْس نے ڈنر یا لنچ پر آپ کو ایک خاص مقصد کے لیے بْلایا تھا ‘‘ ، میں اْس کی یہ بات سْن کر مسکرایا، میں نے اْس سے کہا بیٹا یہ تمہاری غلط فہمی ہے کہ ایک دن پہلے مجھے کوئی کھانے پر بلاتا ہے اور اگلے دن ناجائز کام لے کر آجاتا ہے ، بے شمار لوگ اگلے دن کا انتظار ہی نہیں کرتے ، وہ اْسی وقت کھانے کی میز پر ہی کہہ دیتے ہیں ’’سر جی ہماری زمین پر قبضہ ہوگیا ہے سی سی پی او سے کہیں وہ ہم سے ’’معاملہ ‘‘ طے کر کے ہمارا قبضہ چھڑوا دے یا کروا دے ، سر جی فلاں تحصیل دار بڑا ’’مستحق‘‘ہے ، اْس کا تبادلہ اْس کی پسندیدہ جگہ پر کروا دیں ، سر جی فلاں انسپکٹر یا سب انسپکٹر بہت ’’ایماندار‘‘ ہے ، اْسے اْس کے پسندیدہ تھانے میں ایس ایچ او لگوا دیں ‘‘، ان سب عذابوں سے چْھٹکارے کے لیے اب اپنے بیٹے کی بات پلے باندھتے ہوئے میں کسی کے کھانے پر نہیں جاتا، میں بڑے ادب سے معذرت کر لیتا ہوں ، اگر کوئی اصرار کرے میں اْس سے گزارش کرتا ہوں’’آپ میرے گھر آجائیں ، جو دال ساگ بنا ہوگا ہم اکٹھے بیٹھ کر کھا لیں گے ‘‘، البتہ کچھ ایسے مخلص دوست یا کچھ ایسے عزیز و اقارب جو آپ سے بے لوث محبت کرتے ہیں، کوئی غلط کام تو دْور کی بات ہے جائز کام بھی سوچ سمجھ کر کہتے ہیں اْن کے کھانوں پر میں بخوشی چلے جاتا ہوں ، اگلے روز ایک صاحب اوکاڑہ سے آئے ، اتنے فروٹ اور مٹھائیاں لے کر آئے جیسے میں نے فروٹ اور مٹھائیوں کی کوئی دکان کھولنی تھی ، کچھ دیر ادھر اْدھر کی باتیں کرنے کے بعد کہنے لگے ’’ہمارے ایک دشمن کو سی سی ڈی سے کہہ کر مقابلے میں پار کروا دیں‘‘ ، میں نے عرض کیا ’’سی سی ڈی ایسے کام نہیں کرتی‘‘، وہ بولے ’’مفت میں واقعی نہیں کرتی ، ہم اس کی منہ بولی رقم دیں گے ‘‘ ، میں نے اْن کی اس بات پر بالکل یقین نہیں کیا اور اْن کے سارے فروٹس اور مٹھائیاں اْن کی گاڑی میں واپس رکھوا کر اْنہیں چلتا کیا ، اپنے جائز ناجائز کام کروانے کے لیے لوگ صرف آپ کو کھانے پر ہی مدعو نہیں کرتے یا صرف قیمتی تحائف لے کر ہی آپ کے پاس نہیں پہنچ جاتے ، ایک تیسرا ’’طریقہ واردات‘‘ بھی ہے ، پچھلے دنوں ایک پرانے دوست مجھ سے ملنے آئے کہنے لگے ’’میں کل اپنے بیٹے یعنی آپ کے بھتیجے سے کہہ رہا تھا ‘‘ آپ کے انکل توفیق بٹ بہت بڑے کالم نویس ہیں ، عطا الحق قاسمی اور حسن نثار وغیرہ اْن کے سامنے کچھ بھی نہیں ہیں ،آپ کے بھتیجے کو میں نے یہ بھی بتایا’’بطور اْستاد بھی تمہارے انکل توفیق بٹ کا مقام بڑا بلند ہے ، گورنمنٹ کالج لاہور کے ڈاکٹر نذیر احمد مرحوم کو بطور اْستاد بہت آئیڈیل سمجھا جاتا تھا مگر تمہارے انکل توفیق بٹ کا مقام اْن سے بھی بہت بلند ہے ، دنیا تمہارے انکل توفیق بٹ کی دیوانی ہے ، وہ جہاں جاتے ہیں اْن کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے لوگ پتہ نہیں کہاں کہاں سے امڈ اتے ہیں ‘‘، میں نے اپنے اس دوست کی یہ ساری جھوٹی باتیں بڑے تحمل سے سْنی اور عرض کیا’’جناب اب آپ نے مجھے اسی یقین میں مبتلا رہنے دینا ہے کہ میں حسن نثار اور عطاء الحق قاسمی سے بڑا کالم نگار اور ڈاکٹر نذیر احمد سے بڑا اْستاد ہوں اور دنیا میں لوگ میری ایک جھلک دیکھنے کے لیے پتہ نہیں کہاں کہاں سے اْمڈ آتے ہیں ، اب آپ نے مجھ سے کام کوئی نہیں کہنا ‘‘، میری بات سن کر وہ تھوڑے شرمندہ اور خفا سے ہو گئے، کہنے لگے ’’کیا مطلب ؟ آپ کا کیا خیال ہے میں آپ کی یہ ساری تعریفیں آپ سے اپنا کوئی کام نکلوانے کے لیے کر رہا ہوں ؟ وہ ناراض ہو کر اْٹھ کر جانے لگے میں نے اْن سے معافی مانگی اور بڑی مشکل سے اْنہیں دوبارہ بیٹھے پر راضی کیا ، چائے وغیرہ پینے کے بعد وہ رخصت ہونے لگے، میں نے بڑی عزت سے اْن کی گاڑی کا دروازہ کھولا ، وہ جب جانے لگے میں نے سوچا کتنی بْری بات ہے، میں نے اْنہیں کتنا غلط سمجھا ، وہ بیچارے تو ایسے ہی مجھ سے بغیر کسی کام کے ملنے آئے تھے ، اگر کوئی کام ہوتا وہ مجھ سے کہہ نہ دیتے‘‘ ، میں ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا اْنہوں نے اپنی گاڑی کا شیشہ نیچے کیا اور کہنے لگے’’بٹ صاحب  یاد آیا ایچی سن کالج میں اپنا کوئی واقف ہے ؟ ایک بچہ داخل کروانا ہے ، آپ کسی سے کہہ دیں گے ؟‘‘، میں نے کہا ’’بالکل کہہ دْوں گا ، مگر میری شرط یہ ہے کچھ دیر پہلے آپ نے میری جو جھوٹی تعریفیں یا خوشامد کی تھی پہلے وہ سب واپس لیں‘‘، وہ بولے ادھر گاڑی میں ہی بیٹھ کے واپس لْوں یا واپس ڈرائنگ روم میں جا کر واپس لْوں ؟، میں نے سوچا دْنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی مگر اپنا کام یا مطلب نکلوانے کے لئے لوگوں کے طریقے نہیں بدلے ، جیسے کچھ عورتوں کے پرس رکھنے کی جگہ ابھی تک نہیں بدلی۔

مزیدخبریں