چاچا خیرو اور ٹماٹر کا انٹرویو!

09:18 AM, 30 Oct, 2025

چوپال سجی ہوئی تھی لیکن نجانے نتھو اورپھتو چاچا خیرو(فرضی نام) سے کیوں الجھ رہے تھے۔چاچا خیرو ویسے تو سبزی فروش تھے لیکن آج چوپال میں آئے ہوئے تھے اور نتھو،پھتو سے عجیب بحث ہورہی تھی جو کسی کی سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ اسی دوران چپ سائیں بھی آگئے، ان کو دیکھ کر سب خاموش ہوگئے۔ تھوڑی دیر کے بعد چپ سائیںبولے نتھو ، پھتو اور بھائی خیرو ۔۔ خیر تو ہے؟ کیا معاملہ ہے ؟، کس بات پر بحث ہورہی ہے۔ چپ سائیں نے پہلے چاچا خیرو کوبولنے کاموقع دیا۔۔ چاچا خیرو بولے۔۔ سائیں جی، نتھو اور پھتو نے مجھ سے مبلغ سو روپے  کے ٹماٹر دینے کا کہا،میں نے دو ٹماٹر ان کو تھما دیے۔۔ یہ دونوں مجھ سے الجھ پڑے چاچا یہ کیا؟، صرف دو ٹماٹر۔۔۔ بس اسی بات پر بحث شروع ہوگئی۔۔ اب میں کیا کروں؟۔۔ ٹماٹر اتنے مہنگے ہیں کہ سو روپے میں تو صرف دو یا تین ہی آئیں گے ناں!۔۔ اس پرچپ سائیں نے کہاکہ نتھو اور پھتو،بھئی خیر و ٹھیک ہی تو کہہ رہے ہیں، وہ اس میں کیا کرسکتے ہیں۔۔چپ سائیں کی بات سن کر نتھو اور پھتو چپ کرگئے اور معاملہ رفع دفع کردیا۔۔ چپ سائیں نے کہا بھائی خیرو یہ لو مسئلہ حل ہوگیا۔۔ اور سنائو!۔ چاچاخیرو نے ٹھنڈی آہ بھری اور کہا کہ سائیں جی ایک عجیب بات بتائوں۔۔ دو روز قبل یہ ٹماٹر میرے خواب میں آئے اور میں نے ان کا انٹرویو کیا۔۔ یہ بات سن کر سب ہنس پڑے اور چوپال کا ماحول بھی بہتر ہوگیا۔۔ چاچا خیرو کی بات سن کر چپ سائیں نے کہا کہ چوپال کے دوستو آج پھر ہم بھائی خیرو سے ٹماٹر کے بارے میں ہی سنتے ہیں۔۔ دیکھتے ہیں انٹرویو سے کیا نکلتا ہے؟۔۔ اس پر سب دوبارہ مسکرائے۔۔ چپ سائیں نے ہنستے ہنستے کہا۔۔ بھائی خیرو شروع ہوجائو اور سنائو اپنی روداد۔۔۔
چاچا خیرو نے کہاکہ بھائیو ملک میں آسمان سے باتیں کرتی ٹماٹر کی قیمتوں کی وجہ سے میرے تو خواب میں بھی ٹماٹر ہی آئے۔۔ ٹماٹر بہت مہنگے فروخت  ہورہے ہیں اوراس وجہ سے  میری تو’’ چاندی‘‘ ہوئی ہوئی ہے۔۔خیر میں ٹماٹر ٹماٹر کرتا سوگیا۔۔خواب میں دیکھا کہ بہت سارے ٹماٹرمحو 
رقص ہیں۔۔ میرا گول مٹول ٹماٹروں سے انٹرویو کرنے کو دل چاہا۔ میں نے آئو دیکھا نہ تائو۔۔۔جھٹ سے ٹماٹر سے  سوال کیا کہ بھائی تمہارے مہنگے ہونے کی وجہ کیا ہے؟۔ تو اس نے جواب دیا کہ بس کوئی خاص نہیں جب تک لوگ ہنڈیا میں ڈالنے کے لئے مجھے استعمال کرتے رہیں گے تو میری قیمتیں آسمان تک رہیں گی۔
میں نے ٹماٹر سے پھر سوال کیا ؟بھائی تم کس ملک میں کھانوں کی علامت ہو؟ گول مٹول ٹماٹر مسکرایا اور کہا کہ بھائی مجھے عام مت جانو میں اطالوی کھانوں کی علامت ہوں، میکسیکوکے کھانے میرے بغیر مکمل نہیں ہوتے اور برگر کاتو تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ میں تو ان کا من بھاتا کھاجا ہوں۔۔ٹماٹر دوبارہ بولا میری دریافت سب سے پہلے پیرو میں ہوئی تھی۔ ٹماٹر تھوڑا اترایا اور کہا کہ آج عالمی سطح پر مقبولیت اور مقامی کھانوں میں میرا لازمی استعمال ایک تا قابل تردید حقیقت ہے۔
میاں ٹماٹر یہ بتاؤ کہ تمہارا سفر کب اور کہاں سے شروع ہوا؟میں نے اگلا سوال کیا۔ٹماٹر نے کہا کہ بھائی یہ  بات حتمی طور پر کوئی بھی نہیں کہہ سکتا کہ میں پیرو سے میکسیکو کب اور کیسے پہنچاالبتہ میں نے اپنے بڑوں سے سنا ہے کہ ہسپانوی فاتح ہرنان کو رٹز نے ہمیں پندرہ سو میں  سپین میں متعارف کرایا تھا۔ چین سے ہم اٹلی اور پھر فرانس پہنچے۔ ہمارے مختلف  زبانوں میں  مختلف نام ہیں جیسے کہ  سپین میں پوم دی مورو(مورز کا سیب)، اٹلی میں پومی داورو (سنہری سیب) اور فرانس میں پوم دآمور (محبت کا سیب)۔ٹماٹر خوشی سے نہال تھا اور بیان کرتا جارہاتھا کہ ساتھ ہی سارے ٹماٹرکہہ رہے تھے کہ ’’ آخا ٹماٹر بڑا مزیدار۔۔۔ـ‘‘۔وہی ٹماٹر دوبارہ بولا ہماری اولین اقسام پیلے رنگ کی تھیں کیونکہ اطالوی اسے سنہرا کہتے تھے۔ وہ اتراتے ہوئے بولا انگریزی میں مستعمل نام تو میٹل کے قریب ترین ہے۔
دوستو!میں نے اگلا سوال ٹماٹر سے یورپ اور برطانیہ کے سفر کے بارے میں کیا؟۔سرخ ٹماٹر نے اپنے مخصوص انداز میں جواب دیا کہ بھائی جنوبی یورپ میں ہماری مقبولیت کے باوجود شمالی یورپ کے لوگ شروع میں ہمارے استعمال سے گریزاں تھے۔ اس کی وجہ شاید تھی کہ ہم اسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جس سے زہر یلے پودوں''نائٹ شیڈ'' اور'' مینڈریک'' کا تعلق ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ ہم یورپ میں کھائے جانے لگے اور انگریز سمجھتے تھے کہ ہمار اذائقہ اور خوشبو نا خوشگوار ہے۔ ٹماٹر نے کہا کہ موت اور ذائقہ کے بارے میں خدشات پر جلد ہی قابو پالیا گیا اورپھر ہم برطانیہ کے باورچی خانوں کی زینت بن گئے۔
میں نے ٹماٹر سے اس کے پیسٹ یعنی کیچپ کے بارے میں پوچھا کہ وہ کب اور کس نے بنایا؟ گول مٹول ٹماٹر نے کہا کہ مجھے میری دادی نے ایک بار بتایا تھا کہ ہمارے مورخین نے اپنی کتابوں میں یہ لکھا تھا کہ سولہویں صدی میں جب برطانوی فوجی چین کے ساحل پر اترے تو انہیں'' کیچی ایپ یا کیٹسیپ' نامی چیز پیش کی گئی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ برطانیہ نے اس سوس کوقبول کیااور اس میں تبدیلی کی اور اسے''کیچ اپ'' کی شکل دی۔ٹماٹر نے کہا کہ ہمارا سفر تو جاری وساری ہے ۔۔۔لوبھائی گڈ بائے  اب میں توچلا اگلی منزل پر۔۔۔’’آخا ٹماٹربڑے مزیدار۔۔۔‘‘ سب ٹماٹر یہ کہتے کہتے ایک دم سے غائب ہوگئے اور پھر میری آنکھ کھل گئی۔ 
بھائیو! میں ٹماٹر کا انٹرویو کرنے کے بعد سوچ میں پڑ گیا۔۔ کیونکہ وہ تو ہر طرح کے کھانوں میں اس طرح رچ بس گیا ہے کہ گھرکی ہنڈیا ہو یابازاری اشیاء ، یہ چاہے مہنگا ہی کیوں نہ ہے؟ اس کے بغیر مزہ تو ادھورا ہے اور کمبخت کے بارے میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس سے خون بنتا ہے۔۔دوستو !اس کاحسینہ کی طرح اترانا، رقص کرنا اورادائیں دکھانا تو بنتا ہے۔ سائیں جی آپ کی اجازت سے  اس موقع پر اکبر الہ آبادی کا شعریاد آگیا مجھے۔۔۔
حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا
حسینوں کو بھی کتنا سہل ہے بجلی گرا دینا
چپ سائیں سمیت سب ہنس دیے۔۔۔ چپ سائیں نے کہا واہ بھئی خیرو آج توچوپال میں خوب رونق لگادی۔۔ خوش رہیں، سلامتی کی ڈھیروں دعائیں۔۔ باقی رہے نام اللہ کا!۔

مزیدخبریں