پاکستان ہمیشہ زندہ باد والا ، فیلڈ مارشل

09:16 AM, 30 Oct, 2025

خاندان اور خاندان کی تربیت کا اندازہ ہر انسان کی عملی زندگی میںاسکے عمل سے ہوتاہے ، میں نے اپنی زندگی میںبے شمار لوگوں کا مشاہدہ کیا ہے انکے عمل سے انکی خاندانی تربیت کا اندازہ ہوا ، پست سوچ کے مالک اپنی خاندانی پستی کا منہ بولتا ثبوت ہوتے ہیں وہ چاہے کسی بھی عہدے پر ہوں کیسے ہی اجلے لباس میں ملبوس ہوں انکا ایک ایک عمل انکی تربیت کی نشاندہی کرتا ہے، اسکا عمل اسے مزید پستی کا شکار کردیتا ہے انکا عمل انکی خاندان کی تربیت کا چیخ چیخ کر بتاتاہے ۔ جب مختلف لوگوںکے عمل پر نظر ڈالیں تو ایک اعلیٰ خاندان اور مذہبی خاندان کے فرد فیلڈ مارشل عاصم منیر پر جا کر نظر ٹھہر جاتی ہے جو 1968ء کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے انکے والد محترم مرحوم سرور منیر شاہ ایک مذہبی رہنما اور سکول ٹیچر کے طور پر خدمات دیا کرتے تھے اس زمانے میں انکے دوست آج بھی مرحوم سرور شاہ کے اصولوں اور بہادری کو یاد کرتے ہیں انکی تربیت نے آج محافظ پاکستان فیلڈ مارشل عاصم منیر کو دنیا میں اعلیٰ مقام دیا ہے، سعودی عرب میں لیفٹیننٹ کرنل کی حیثیت میں پاکستانی سفارت خانے میںملٹری اتاشی رہے ہیں سعودی عرب میں اپنی تعیناتی کے دوران انہوں نے اللہ کی خوشنودی حاصل کی اور قرآن جو وہ پہلے حفظ کر چکے تھے اس کو دہرایا وہ واحد آرمی افسر جو آرمی چیف کے عہدے سے قبل انٹر سروسز اور ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ رہے ان کے عروج اور ان کے کرداروں کے پورٹ فولیو نے انہیں پاکستان کی فوج اور سکیورٹی اپریٹس میں ایک کلیدی کھلاڑی بنا دیا ہے۔ 
فیلڈ مارشل کے لیے ان کی ترقی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان شدید کشیدگی اور فوجی جھڑپوں کے بعد ہوئی۔جس میںانکی قیادت نے بھارت کو چند ہی دنوں میں گھر بیٹھنے ، پاکستان پر بری نظر رکھنے سے باز رکھنے، اور دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا انکے اقدامات اورحکمت عملی نے بین الا اقوامی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی ہے۔ پاکستان کے قیام سے لیکر اب تک پاکستان کے اٹھارہ صدور یا وزرائے اعظم نے سرکاری یا نجی حیثیت میں امریکہ کے 42 دورے کیے ہیں۔ ۔لیکن صدر ٹرمپ جس طرح فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بلائیں لیتے ہیں اسکی مثال نہیں ملتی۔انکے اعزاز میں وائٹ ہائوس کا لنچ ہو یا عالمی سربراہی فورم پر انکی عدم موجودگی میں انکا تذکرہ، فیلڈ مارشل کے ’’محبوب و مقبول‘‘ہونے کا تاثر پختہ ہوا ہے۔ امریکہ ہو یا عرب دنیا، یورپ ہو یا مشرقِ وسطیٰ،سب انہیں ایک متوازن، مضبوط اور زیرک فوجی رہنما کے طور پر دیکھتے ہیں۔یہ محض ایک اتفاق نہیں کہ انہیں مغربی میڈیا ''darling field marshal'' کے نام سے یاد کرتا ہے۔ دراصل ان کی قیادت کا وہ انداز جو نہ جارحانہ ہے نہ مفاداتی، بلکہ اصولی، شفاف اور قومی مفاد پر مبنی ہے، یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن، ریاض، قاہرہ اور بیجنگ سب کے ساتھ ان کے تعلقات غیر معمولی توازن رکھتے ہیں۔ امریکی پینٹاگون کے حکام انہیں a man of resolve and integrityکہتے ہیں۔عاصم منیر کی کامیابی یہ ہے کہ وہ اس تاثر کو توڑنے میں کامیاب رہے کہ پاکستان کا ہر آرمی چیف امریکہ کا تابعِ فرمان ہوتا ہے۔بلکہ انہوں نے تابع کے بجائے برابری کی سطح پر باوقار انداز میں معاملات سرانجام دیئے ہیں۔ انہوں نے کرپشن، سمگلنگ اور بدعنوانی کے خلاف بھرپور اقدامات کئے۔ انکے دور میں پہلی بار یہ احساس پیدا ہوا کہ فوج کا مقصد محض اقتدار نہیں بلکہ استحکام ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس نے عالمی برادری کو انکے حق میں متوجہ کیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا معاملہ مختلف ہے۔ انہوں نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو صرف اس شرط پر مضبوط کیا کہ پاکستان کی خودمختاری متاثر نہ ہو۔ 
وہ ایک طرف سعودی عرب اور چین کیساتھ گہرے اقتصادی روابط رکھتے ہیں،دوسری طرف واشنگٹن کیساتھ سٹرٹیجک ہم آہنگی بھی قائم ہے۔ انکے بیانات اور اقدامات یہ واضح کرتے ہیں کہ وہ نہ کسی طاقت کے تابع ہیں نہ کسی دبائوکے محتاج۔ وہ جانتے ہیں کہ نئے عالمی نظام میں طاقت کی تعریف بدل چکی ہے، اب بندوق سے زیادہ اعتماد اور وژن کی ضرورت ہے۔امریکہ میں انکی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ انکا غیر متنازع کردار ہے۔ وہ کسی سیاسی جماعت یا نظریاتی گروہ کے آدمی نہیں بلکہ ریاستِ پاکستان کے نمائندہ ہیں۔ واشنگٹن کے تھنک ٹینکس انہیںthe stabilizer generalکہتے ہیں یعنی وہ شخص جس نے پاکستان میں سیاسی درجہ حرارت کو قابو میں رکھا اور معیشت کو دوبارہ سمت دینے کی کوشش کی۔یہ درست ہے کہ ہر دور میں کوئی نہ کوئی جنرل امریکی پسندیدہ کہلاتا رہا، مگر فیلڈ مارشل عاصم منیر پہلی شخصیت ہیں جنہیں امریکہ نے احترام دیا اور پاکستانی عوام نے محبت۔
 ان کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے فوجی قیادت کو سفارتکاری کے نئے دور میں داخل کر دیا ہے جہاں تلوار کی جگہ تدبر، اور اقتدار کی جگہ کردار نے لے لی ہے۔ فیلڈ مارشل کے تد بر کی اگر ہمارے سیاست دان گرہ باندھ لیں تو قائد اعظم کا یہ پاکستان ایک جنت سے کم نہیں ، سیاست دانوںکا دست و گریبان ہونے کا بوجھ اسٹیبلشمنٹ اٹھانا پڑ رہا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ عسکری فہم کیساتھ ساتھ سیاسی دانش بھی اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرے۔جہاں دہشت گردی کے مقابلے میں ہمارے فوجی جوان شہید ہوتے ہیں ۔ شہداء بھی کسی کے بھائی، بیٹے، باپ ہیںمگر انکی تربیت انہیں اس بات کا سبق دیتی ہے کہ وطن کی حفاظت انکی ذمہ داری ہے ، انکا ایمان ہے ، ایسے میںدہشت گردوںکے اندرونی سہولت کار سوشل میڈیا کے ذریعے ان قربانیوں کے جذبے سے لبریز عسکری قیادت کے خلاف منفی اور زہریلے پروپیگنڈے پر مامور ہیں ،آستین کے سانپ بھی موقع کی مناسبت سے اپنا کام کرتے رہتے ہیں عوام کے پیسے سے تنخواہیں لیکر وہ ڈھکے چھپے انداز میں کوشش کرتے ہیںکہ پاکستان کی عسکری قیادت کی تعریف نہ کی جائے نہ ہی انکی حمائت میں قلم اٹھایا جائے ۔ دہشت گردوں اور انکے سہولت کار پاکستان میں امن ہی نہیں چاہتے اور جہاںامن نہیںہوگا وہا ںمعیشت کا پروان چڑھنا مشکل ہے آج ہماری عسکری قیادت جہاں دہشت گردوںسے مد مقابل ہے وہیں پاکستان کی سیاسی حکومت کے ساتھ معیشت کی درستگی کیلے انکے شانہ بشانہ ہے ۔

مزیدخبریں