ہر تباہ حال تہذیب دراصل جہالت اور وحشت کے قد آور درخت کا وہ بوسیدہ پھل ہوتی ہے جو اپنے تنے سے بہت دْور جا کر گرتا ہے۔ سماج میں جب نیکی، سچائی اور پاک دامنی برائی، دولت اور جرم کے سامنے سرِ تسلیم خم کر لے تو یقین کیجیے کہ وہ معاشرہ اخلاقی گراوٹ اور اقتصادی استحصال کی آخری حدوں کو چھونے لگتا ہے۔ وہ ایک ایسی گلی میں داخل ہو جاتا ہے جو آگے سے بند ہوتی ہے، اور اس گلی میں جتنے بھی گھر ہیں وہ سب تباہی کے آسیب میں جکڑے ہوئے ہوتے ہیں، جہاں سے مدد ملنے کا امکان عبث ہے۔آج کا پاکستانی معاشرہ جس اخلاقی تنزلی کا شکار ہے وہ کوئی آج کا قصہ نہیں۔ نہ ہی یہ گراوٹ چند برس کی پیداوار ہے کہ اچانک ایک ایسے عفریت نے جنم لیا ہو جو بچوں، عورتوں، بوڑھوں حتیٰ کہ قبر میں دفن عورت تک کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے لگا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اخلاق سوز واقعات کی فہرست روز بروز طویل کیوں ہوتی جا رہی ہے؟ بگاڑ کہاں سے اٹھ رہا ہے؟ ہماری ہواؤں، فضاؤں، غذاؤں اور معاشرتی رویّوں میں آخر کیا ایسی آلودگی شامل ہو چکی ہے جو ہمیں منفیت کے دائرے میں لے جا کر گم کر رہی ہے؟۔
ابتدائی سانسیں انسان گھر میں لیتا ہے اور گھر ہی اس کی پہلی درسگاہ ہے۔ گھریلو ماحول ہی وہ آکسیجن ہے جس سے پوری زندگی کے جذبات، اخلاقیات اور رویّے تشکیل پاتے ہیں۔ یہ فضا جتنی صاف، ہموار اور محبت سے بھری ہو گی، بچے اتنی ہی خوبصورت شخصیت کے مالک ہوں گے اور اگر یہ فضا خود غرضی، جھوٹ، حسد اور بے حسی سے آلودہ ہو گی تو شخصیت خواہ تعلیم کے کتنے ہی ملمع سے کیوں نہ ڈھانپ دی جائے اندر سے بدبو دار ہی رہے گی۔ رزقِ حلال وہ روشنی ہے جو انسان کے اندر دیرپا اثر چھوڑتی ہے اور اگلی نسلوں تک منتقل ہوتی ہے۔ جب
یہی رزق دھوکے اور ناانصافی سے آلودہ ہو جائے تو پھر نسلیں بھی اسی گندگی کا عکس بن کر نکلتی ہیں۔
ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بھی اپنے اردگرد رہنے والوں کے لیے مسائل کھڑے کرتے ہیں۔ کوئی ان سے آگے نکل جائے تو ان کے اندر حسد کی آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ دوسرے کی کامیابی انہیں چھبتی ہے، پھر وہ سازشیں بھی کرتے ہیں اور یوں یہ صورت حال اکثر کھلی جنگ میں ڈھل جاتی ہے۔ وہاں اچھائی کے تمام پہلو ہوا میں اڑا دیے جاتے ہیں اور یہ حقیقت بھلا دی جاتی ہے کہ ہر شخص تو اپنے اپنے مقدر کا کھا رہا ہے۔ پھر دوسرے کے حصے پر اپنا حق سمجھنا کس منطق کے تحت؟جیسے دیگ کا ایک دانہ پوری دیگ کا ذائقہ بتا دیتا ہے، ایسے ہی ایک شخص کا کردار پورے خاندان کے ماحول کا پتہ دے دیتا ہے۔ اس کے برعکس جن گھروں میں اچھی روایات، ذمہ داری اور باہمی احترام کی خوشبو موجود ہو وہاں پلنے والے بچے بڑے ہو کر کم از کم استحصالی سوچ سے محفوظ رہتے ہیں، چاہے استحصالی نظام کی چکی انہیں پیس دے۔
سہنے اور برداشت کی تربیت فرد گھر سے ہی سیکھتا ہے۔ دوسروں کے لیے اپنے جیسا سوچنے کی نرمی بھی گھر والے ہی دیتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ سماج آپ کو وہی لوٹاتا ہے جو آپ اسے دیتے ہیں ماسوائے کہ آپ کسی خاص آزمائش سے گزر رہے ہوں۔ گھر کا ماحول انسانیت سکھاتا ہے، اس کے بعد باری آتی ہے تعلیمی اداروں کی جہاں ذہنی تربیت استاد کرتا ہے۔ مگر آج ہم دیکھتے ہیں کہ جنسی درندگی کا نشانہ معاشرے کا ہر طبقہ بن رہا ہے۔ کچھ لوگ اسے چھپا لیتے ہیں، کچھ سامنے لے آتے ہیں، مگر زخم ایک جیسے رہتے ہیں۔اگر گھر میں بچے کو بہتر ماحول نہیں ملتا، تربیت نہیں ملتی، تو وہ معاشرے میں جا کر ہر شعبے میں منفیت کو فروغ دیتا ہے۔ ایسے بچے رشتوں میں وفادار نہیں ہوتے، جھوٹ بولتے ہیں، خود غرضی کو اصول سمجھتے ہیں اور یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ ہر شخص ان جیسا نہیں ہوتا۔ وہ یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ جب سچ سامنے آئے گا تو ردعمل کیا ہوگا؟ رشتے کا مستقبل کس کھائی کی طرف دھکیلا جائے گا؟۔
بچپن میں ہمیں ایک ہی بات سمجھائی جاتی تھی کہ سچ بولنے سے نقصان نہیں ہوتا، جھوٹ ہمیشہ دامن میں داغ ڈال جاتا ہے۔ آپ جو ہیں جیسے ہیں ویسے ہی دنیا کے سامنے آئیں۔ لوگ آپ سے فاصلہ رکھتے ہیں یا قریب آتے ہیں یہ ان پر چھوڑ دیں، مگر آپ کا دامن جھوٹ اور فریب کی آلودگی سے پاک رہنا چاہیے کیونکہ جو آپ کا ہے وہ آپ کو ضرور ملے گا اور جو غلط ہے وہ آپ کے خود ہٹ جانے سے ہی ختم ہو جائے گا۔ اس لیے بات گھوم پھر کر پھر تربیت پر ہی آتی ہے تعلیم بعد میں ہے، تربیت پہلے ہے۔
آج اکثر کہا جاتا ہے کہ والدین کو تربیت کی ضرورت ہے، اور یہ بات غلط نہیں۔ معاشی دوڑ میں لگ کر بہت سے والدین اپنے بچوں کی ذہنی پرورش بھول گئے ہیں۔ جب بچے کی تربیت ماں باپ کی بجائے ملازمہ کے سپرد ہو جائے جس کا کام صرف ڈائپر بدلنا ہے، تو پھر ذہنی نشوونما کا تصور دھندلا جاتا ہے۔ مڈل کلاس گھرانے اس معاملے میں نسبتاً محتاط ہوتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر بچہ بگڑ گیا تو نقصان صرف انہی کو اٹھانا ہو گا۔
آنے والے وقت کا سب سے بڑا چیلنج اخلاقی ہے۔ یعنی ہمیں یہ نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آج کے بچے کو معاشی اور عملی زندگی میں جس قسم کے چیلنجز کا سامنا ہے وہ اس میں تبھی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں جب ان میں صحیح اور غلط کے درمیان تمیز کرنے کی صلاحیت ہو گی اور بلاشبہ یہ شعور آپ کو پہلے گھر والے دیں گے ، معاشرہ دے گا، استاد دے گا اور سب سے اہم آپ خود بھی اپنے آپ کو یہ شعور دیں کہ گالی کھانی ہے یا دعا لینی ہے۔
استحصال کی کوکھ سے پیدا ہوتی نسلیں
09:09 AM, 30 Nov, 2025