شہید کا جسد خاکی تدفین کے لئے لے جایا جارہا تھا۔۔ ہر آنکھ اشکبار تھی، فضا میں ایک اداسی سی تھی اسی دوران اسی شہید کے والد نے نعرہ تکبیرکی صدا لگائی ، جس کے بعد وطن کی مٹی پر جان قربان کرنے والے شہید کے حق میں نعرے بلند ہوتے چلے گئے ، یہ میجر عدنان اسلم کا جسد خاکی تھا جوخیبرپختونخوا کے علاقے بنوں میں فتنہ الخوارج کے حملے میں زخمی ہونے کے بعد دوران علاج ہسپتال میں شہید ہوئے تھے۔ میجر عدنان اسلم کی زندگی کے آخری لمحات کی ویڈیو وائرل ہوئی تو ہر کوئی اس بہادرسپوت کو خراج عقیدت پیش کرنے پر مجبور ہو گیا۔ جیسا کہ میجر عدنان اسلم کے والد نے کہا کہ انہیں فخر ہے کہ ان کا بیٹا دھرتی پر قربان ہوا ہے۔ شہید کے درجات بلند ہیں ، کوئی افسوس نہیں ، ایسی کئی نسلیں بھی دھرتی پر قربان۔ اسی طرح کیپٹن روح اللہ شہید نے دو ہزار سولہ کے کوئٹہ پولیس ٹریننگ سنٹر میں جام شہادت نوش کیا۔ ان کا تعلق سپیشل سروسز گروپ سے تھا۔ وہ انسداد دہشت گردی کے کئی آپریشنز میں حصہ لے چکے تھے۔ کوئٹہ میں حملے کے دوران وہ بہادری سے لڑتے ہوئے ایک خود کش بمبار کے بزدلانہ حملے کی زد میں آگئے۔ شہادت کے بعد ان کے اہل خانہ کے تاثرات نے قوم میں دہشت گردوں کے خلاف لڑنے کی نئی روح پھونک دی۔ شہید کے اہل خانہ نے کہا کہ روح اللہ وطن کی خاطر بہادری سے لڑنے والوں کے لئے بہترین مثال ہے۔ ایسے کئی روح اللہ دھرتی پر قربان ، آئندہ نسلیں بھی وطن کی خاطر لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کر جائیں تو فخر رہے گا۔
ایک اور مثال لیجئے ، آئی جی ایف سی بلوچستان میجر جنرل عاطف مجتبیٰ نے شہید ہونے والے ایف سی بلوچستان کے سپاہی شہید قربان کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ اس موقع پر شہید کے اہل خانہ نے کہا اس سے زیادہ فخر کی کیا بات ہو سکتی ہے کہ ان کا بہادر سپوت ملک کی خاطر جان دے گیا۔
یہ وہ مٹی ہے جس نے ہمیشہ اپنے بیٹوں کی پیشانی پر وفا کی مہر ثبت کی ہے۔ وردی صرف ایک لباس نہیں، ایک عہد ہے، ایک وعدہ ہے کہ جب بھی دھرتی ماں پکارے گی، وہ سینہ تان کر اس کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ لیکن ہر وردی کے پیچھے ایک اور کہانی ہوتی ہے۔۔۔ ایک ایسی خاموش، مگر عظیم داستان جسے صرف وہ گھر والے جانتے ہیں جو ہر روز اپنے دل کو مضبوط کر کے اپنے پیاروں کو سرحدوں کی طرف روانہ کرتے ہیں۔ یہ بچے، یہ بہنیں، یہ مائیں اور یہ باپ ہی ہیں جو ہر راہ میں دعا بن کر ساتھ چلتے ہیں۔ پاک فوج کے 5,728 افسران پر مشتمل برّی فوج، فضائیہ اور بحریہ کی قیادت اسی نسل کے سپوت سنبھال رہے ہیں جن کے بزرگوں نے کبھی اپنے خون سے سرزمین کے رنگ کو گہرا کیا تھا۔
اس دھرتی کے محافظوں نے ہمیشہ لازوال قربانیاں دی ہیں۔ کبھی برفیلے پہاڑوں پر دشمن کے مقابل رسائی ناممکن لگتی تھی، مگر ہمارے جوان وہاں بھی علم تھامے کھڑے رہے۔ کبھی ریگستانوں کی تپتی ریت نے ان کا امتحان لیا تو کبھی دہشت گردی کے اندھیروں نے۔ لیکن پاکستانی فورسز نے ثابت کیا ہے کہ ان کی جڑیں اس قوم کے ایمان اور عزم میں پیوست ہیں۔ ان قربانیوں کی داستانیں اتنی وسیع ہیں کہ تاریخ بھی انہیں اپنے صفحات میں سمیٹتے ہوئے فخر محسوس کرتی ہے۔
اس حقیقت کو ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں، وہ یہ ہے کہ شہدا کی بہادری اور شجاعت کا نصف حصہ اْن اہل خانہ کا ہوتا ہے جو مضبوط اعصاب کے ساتھ ہر لمحہ دفاع وطن کی قیمت ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ جب ایک لیفٹیننٹ پہلی بار میدان میں قدم رکھتا ہے تو اس کی تربیت میں صرف اکیڈمی ہی شامل نہیں ہوتی۔۔ اس میں اس کی ماں کی وہ دعائیں بھی شامل ہوتی ہیں جو صبح فجر کے وقت رب کے حضور مانگی جاتی ہیں۔ اس کے باپ کی وہ نصیحتیں بھی شامل ہوتی ہیں جو اسے بہادری کے ساتھ جینے کا سبق دیتی ہیں۔۔۔اور اس کے بچوں کی وہ معصوم مسکراہٹ بھی شامل ہوتی ہے جو اسے واپس آنے کی امید دیتی ہے۔ اسی طرح اس کی اہلیہ کی دعاؤں میں بھی ہر وقت اس کی سلامتی ہوتی ہے۔۔اوروطن سے وفا کا عہد نبھانے کی دعا ہوتی ہے۔ جب ایک بریگیڈیئر یا جنرل کوئی اہم فیصلہ لیتا ہے، تو اس کے پیچھے گھر والوں کی وہ قربانی ہوتی ہے جو کئی مواقع پر اسے اپنے خاندان کے وقت سے دور رہنے پر مجبور کرتی ہے، پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ساتھ ہر فیصلے پر والدین کی دعائیں ہی ہوتی ہیں جو ہر افسر کی پیشہ ورانہ مہارت کو مزید نکھارنے میں مدد دیتی ہیں۔ پاک فوج کی تاریخ ایسی لاتعداد مثالوں سے بھری پڑی ہے جس میں ہم نے دیکھا کہ شہادت کا رتبہ پانے کے بعد اہل خانہ نے یہ ثابت کر دیا کہ اس عظیم منصب کے پیچھے انہی کی محنت ، لگن ، دعائیں شامل ہیں۔ اسی طرح ہر رینک کا افسر جرأتمندانہ فیصلے کرکے یہ ثابت کرتا ہے کہ اس کی کامیابی کے پیچھے اہل خانہ کی ڈھیروں دعائیں شامل ہیں۔
بھارت نے جب پاکستان پر حملہ کیا تو پاک فوج کی پوری قیادت سر جوڑ کر بیٹھ گئی۔۔ اب ہو گا کیا۔ ؟ جواب کیسے دینا ہوگا ؟ کہاں کہاں بمباری کی جائے ؟ دشمن کے لڑاکا طیاروں کو ڈھیر کرنے کا پلان کیا ہوگا؟ قوم جو بے صبری سے پاک فوج کے جواب کا انتظار کر رہی ہے ، کیسے قوم کو یہ احساس دلایا جائے کہ پاک فوج دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک ہے۔۔ جو دشمن کو منہ توڑ جواب دینے والی ہے۔۔ ایک لمحے کے لئے سوچیں کہ پاک فوج کے ان ہائی رینک افسران کی حکمت عملی کے پیچھے ان کے والدین ، ان کے اہل خانہ کی دعائیں کس شدت سے آسمان کی جانب بلند ہو رہی ہوں گی۔۔!! یہی جوان، یہی افسران گھروں سے دور اپنے اپنے مراکزمیں بیٹھے حکمت عملی ترتیب دے رہے تھے۔۔ اور پھر انہی افسران کے اہل خانہ کی دعائیں بھی رنگ لائیں۔۔ جیسا کہ پوری قوم کی۔۔۔
بھارت کو ایسا جواب دیا گیا کہ پوری دنیا کیلئے مثال بن گیا۔ اس کامیابی کے پیچھے پاک فوج کے اہل خانہ کی خاموش محنت بھی تھی۔ حوصلہ افزائی بھی تھی کہ ہاں تم سب کچھ کر سکتے ہو۔۔۔ اور اختتام میں میں ذکر کرنا چاہوں گی۔۔ کیپٹن بلال ظفر عباسی شہید کا۔۔۔جو سوات آپریشن کے دوران شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے۔ ان کی والدہ نے کہا۔۔ بلال ہمیشہ کہتا تھا۔۔ "ماں! اگر میں وطن کے لیے شہید ہو گیا تو سمجھئے گا کہ آپ کا بیٹا کامیاب ہو گیا"۔
یہ کامیابی ایک ایسے گھر کی تربیت اور قوت کا ثبوت ہے جو اپنے سب سے قیمتی رشتے کو وطن کے نام پر قربان کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ آج جب ہم اپنی فوج کی کامیابیوں کی بات کرتے ہیں۔۔ چاہے وہ دہشت گردی پر قابو پانا ہو، چاہے سرحدوں کی حفاظت ہو، چاہے عالمی امن مشنز میں شاندار کردار…تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ان کے ساتھ ساتھ وہ خاندان بھی ہر کامیابی کے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں۔۔ اصل ہیرو تو یہ ہیں۔۔ !
اصل ہیرو تو یہ ہیں۔۔ !!
09:07 AM, 30 Nov, 2025