اس وقت وطن عزیز تر میں سب سے بڑ امسئلہ ملاقات ہے۔ویسے تو ملاقات ہمیشہ سے ہی بڑ امسئلہ رہی ہے لیکن یہ ملاقات عاشق کی معشوق اورمحبوب کی محبوب سے ہوتی ہے ۔اڈیالہ میں بھی شاید کچھ ایسی ہی صورتحال ہے کہ عشق عمران میں مرنے کا اعلان کرنے والا اب خیبر پختونخوا کا وزیراعلیٰ ہے۔اس وزیراعلیٰ کا نام سہیل آفریدی ہے ۔وہ منتخب ہوا تو ایوان میں جو پہلا جملہ کہا وہ عشق عمران میں مرنے کی بات کی ۔ویسے وہ چاہتے تو اس راستے میں مرنے کے ساتھ ساتھ مارنے کی بات بھی کرسکتے تھے لیکن ان کی مہربانی کہ کسی کی جان لینے کی بات نہیں کی اس سے تو لگتا ہے کہ وہ سچے عاشق ہیں کیونکہ سچے عاشق اپنی جان دینے کے لیے ہی تیار ہوتے ہیں جان لینے کی بات نہیں کرتے ۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی صاحب نے حلف اٹھایا تو اعلان کیا کہ جب تک ان کے محبوب سے ملاقات نہ کروائی جائے اس وقت تک اپنی کابینہ تشکیل نہیں دیں گے ۔ان کے اس اعلان کے بعد شرطیں لگنا شروع ہوگئیں کہ کہ اب مزہ آئے گا جب ایک صوبے کی کابینہ تشکیل کرانے کے لیے ملاقات کروائی جائے گی یا پھر صوبہ بغیر کابینہ کے ہی چلے گا۔سہیل آفریدی نے دو تین بار پشاور سے اسلام آباد کا رخت سفر باندھا لیکن ملاقات نہ ہوسکی ۔تو انہوں نے حجت تمام ہونے پر ’’ہار تھک‘‘ کے کابینہ بنانے کا اعلان کردیا ۔ اور کم و بیش پرانی کابینہ ہی واپس کام پر لگادی ۔ظاہری طورپر صرف بیرسٹر سیف کی ’’بلی‘‘ چڑھائی گئی کہ ان کو ’’ان ‘‘ کے آدمی قراردے کر سرکار دربار سے باہر کردیا گیا۔کابینہ بنانے کے اعلان پر سب نے سہیل آفریدی صاحب پر عاشقی کی توہین کے الزامات لگانے شروع کردیے ۔ ان کی اپنی پارٹی کے کارکنوں نے کہا کہ ’’یہ کیا بات ہوئی ‘‘ وزیراعلیٰ ہوکر بھی اپنی بات پرقائم نہ رہ سکے ؟ اب وہ بے چارے سادہ دل کیا جانیں کہ بڑھکیں مارنا آسان ہے لیکن اپنی بات پر پہرہ دینا مشکل ۔
اب یہ بات سمجھنے کی ہے کہ عاشق عمران نے سیاست بھی کرنی ہے ۔ روٹی پانی کا بندوبست بھی ساتھ رکھنا ہے ۔خیبر پختونخوا کے وہ وزیراعلیٰ جنہوں نے پہلے خطاب میں کرسی کی اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کو اس کرسی سے کوئی پیار نہیں ہے ان کا عشق صرف بانی سے ہے جب بانی کہیں گے اس کرسی کو ٹھوکر ماردیں گے ۔ کچھ یار لوگ کہتے ہیں کہ سہیل آفریدی پہلے ہی امتحان میں فیل ہوگئے کہ ان کو کابینہ ہی تشکیل نہیں دینی چاہئے تھی تاکہ سسٹم دباؤ میں آکر ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتا ۔اب یہ جذباتی لوگوں کی باتیں ہیں لیکن سہیل آفریدی نامی عاشق اتنا جذباتی نہیں ہے ۔ ان کو معلوم ہے کہ بغیر کابینہ بنائے حکومت نہیں ہوتی ۔ کابینہ نہیں ہوگی تو وزیراعلیٰ کوئی کام نہیں کرسکے گا۔ کسی روپے پیسے کی منظوری نہیں ہوسکے گی تو اگر کوئی اختیار ہی نہ ہوا تو پھر حکومت کیسی؟ بس اسی لیے ان کے دوستوں نے مشورہ دیا کہ جذباتی بیانات صرف عوام کے لیے ہوتے ہیں آپ نے کابینہ کو بانی کی ملاقات سے مشروط کرکے میلہ لوٹ لیا ہے اب ملاقات اگر سال بھر نہ ہووے گی تو کیا ایسے ہی بے اختیار وزیراعلیٰ بن کر اڈیالہ کے باہر رہیں گے؟ سرکار کے کاموں کی منظوری نہیں دیں گے تو سرکارکیسی ؟یہ بات عاشق کی سمجھ میں آگئی تو انہوں نے کابینہ بنانے میں ذرا دیر نہیں کی تھی ۔اب وہ کابینہ والے وزیراعلیٰ ہیں سرکار آٹو پر لگ چکی ہے اب وہ اپنے اور اپنے پروٹوکول کے لیے بجٹ استعمال کرسکتے ہیں ۔
ویسے خیبر پختونخوا کے عوام کی حرماں نصیبی دیکھیں کہ حکومت ان کی ہے لیکن چلائی ہمیشہ ہی کسی اور نے ہے ۔بارہ سالہ اقتدار ہے لیکن یہ اقتدار پشاور منتقل نہیں ہوسکا۔پر ویزخٹک اور محمود خان کے زمانے میں یہ سرکاربنی گالہ اسلام آباد سے چلائی جاتی تھی ۔پھر جب سے بنی گالہ والے اڈیالہ گئے ہیں تو ہر بننے والے وزیراعلیٰ نے خود اصرار کیا ہے کہ ان کی سرکار اڈیالہ سے چلنی چاہئے۔علی امین گنڈاپور سمجھ گئے تھے کہ اڈیالہ سے سرکارچلانے کی بات کرنا ٹھیک ہے لیکن صرف اڈیالہ سے سرکارچلانا ممکن نہیں ہے کہ اتنے بڑے صوبے کے عوام سے زیادتی ہے ۔ شاید اس لیے گنڈاپور کو ہٹادیا گیا کہ وہ اپنی سرکار کو اڈیالہ والی سرکار کے تابع پوری طرح لانے کو تیار نہیں ہوتے تھے اب انہوں نے ایک ایسا عاشق صادق تلاش کیا ہے جس سے توقع تھی کہ وہ کرسی کے ساتھ خود کو باندھنے سے انکار کردے گا لیکن اس نے بھی کابینہ بغیر ملاقات کے بنا کر پہلے امتحان میں تو ناکام ہونے کا ثبوت دیا لیکن ساتھ اس نے بانی کی فیملی کو اپنی سرکار چلانے والی مجبوریاں بتاکر ایک چانس حاصل کرلیا ہے۔
اب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو اپنے اڈیالہ والے معشوق کی ملاقات کے لیے دھرنا دینے میں کوئی رکاوٹ نہیں کیونکہ ایک صوبے کا اقتدا ر ان کے پاس ہے۔ کابینہ بن چکی ہے ۔پیسے کے معاملات میں اب کوئی رکاوٹ نہیں ۔اب وہ سرکاری خرچے پر جتنی دیر چاہیں اسلام آباد میں رہ کر اسلام آباد پر چڑھائی جاری رکھ سکتے ہیں۔ بکرے دمبے اور چکن کی دعوتیں خود بھی کھاسکتے ہیں اور بانی کے اہلخانہ کو بھی کھلا سکتے ہیں ۔ ان کو اپنے صوبے میں جاکر اپنے عوام کے لیے کچھ کرنے کی بھی کوئی خاص مجبوری نہیں ہے کیونکہ خیبر پختونخوا کا سرکاری اور حکومتی ماڈل شروع سے ہی ایسے بنایا گیا ہے کہ عوام کو صرف بیانیوں پر ووٹ دینے۔ طالبان جیسے دہشتگردو ں کی حمایت کرنے کے لیے ووٹ ڈالنے کی ترغیب دی گئی ہے ۔ اس صوبے میں ترقی نہ ہونے پر کسی کا احتساب کرنے کی ترغیب ہی نہیں دی گئی ۔ سرکاری ماڈل ہی بنی گالہ والوں کے گرد گھومتا ہے اس لیے جس نے بنی گالہ کی سرکار کی خدمت درست کرلی اس کو پھر کوئی ایشو نہیں ہے۔اور قانون میں ویسے ہی ایسی کوئی پابندی نہیں ہے کہ وزیراعلیٰ کو اپنے صوبے میں رہ کر ہی عوام کی کوئی خدمت کرنا ضروری ہے ۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ تو کہتا کہ کسی مجرم سے سرکاری کاموں کے لیے رہنمائی نہیں لی جاسکتی لیکن یہ فیصلہ تو صرف نوازشریف کے لیے جاری کروایا گیا تھا اس کا اطلاق عمران خان پر نہیں ہوتا ہو گا۔ ورنہ صوبے کے وزیراعلیٰ کو اپنے فیصلے خود کرنے چاہئیں اور اس کا بنیادی فرض تو اپنے صوبے کے عوام کی خدمت کرنا ہوتا ہے لیکن سہیل آفریدی صاحب بھی سرکاری وسائل کا استعمال کرکے اسلام آباد میں دھرنا زن ہیں۔ جہاں تک ملاقات کا تعلق ہے تو چاہے کوئی مجرم ہو یا ملزم جیل قوانین کے مطابق اس کے اہلخانہ سے ملاقات کروائی جانی چاہئے ۔عمران خان صاحب کے کیس میں ان کی فیملی میں ان کی بہنیں شامل ہوتی ہیں اور ان کی بہنوں سے قانون کے مطابق ہفتہ وار ملاقات کروادی جاتی ہے ۔اس کے علاوہ باقی کسی بھی شخص کی ایک مجرم کے ساتھ ملاقات قانون کے مطابق ضرور ی نہیں ہے ہاں یہ جیل انتظامیہ کی مرضی ضرور ہو سکتی ہے۔ اگر اس وقت کسی کی مرضی نہیں ہے تو پھر انتظار کرلینے میں ہی بہتری ہے۔
عاشق عمران
09:07 AM, 30 Nov, 2025