دنیا کے نقشے پر سارے ملک قدرتی حدود و قیود کے تحت وجود میں نہیں آئے دنیا بھر کے ایڈمنسٹریٹرز بشمول فاتحین اور فیصلہ سازوں کی سازش ذہن سے بھی بنے ہیں بری زمین کی صورتحال فاتحین کے قبضے اور بارہا ہوتے ہوئے زمینی ٹکڑے (بعدازاں جڑے ہوئے بھی) بالآخر جب ایک ”میپ“ نقشہ ناموں، لازم اور ملکی و بین الاقوامی قوانین کی قدرے تعمیل کرتے ہوئے بن گئے تو عرصہ دراز تک پانیوں کی صورتحال اور آبی گزرگاہوں کی طرف کسی کا دھیان نہیں تھا۔عرصہ دراز تک یونہی ٹریڈنگ اور مسافرت کا عمل جاری رہا اب تک کی تحقیق کے مطابق ”رومن“ پہلے تھے جنہوں نے زمینی فتوحات کے ساتھ ساتھ آبی گزرگاہوں کے تسلط اور ملکیت کا تصور بھی دیا۔
تاریخ بتاتی ہے کہ 1500 میں آبنائے ہرمز بین الاقوامی سازشوں اور گٹھ جوڑ کے زیراثر ”پرتگیز“ کے زیراثر چلی گئی۔ اتنا بڑا تجارتی ”ہب“ آج پہلی مرتبہ دنیا کی نظر میں نہیں آرہا اور ایرانیوں کے لئے آبنائے ہرمز کے خواب دیکھنے والوں اور شکست کھانے والوں سے نمٹنے کی تاریخ نئی نہیں ہے۔ 1622ءمیں دلیر ایرانی النسل قوم نے یہ قبضہ چھڑا لیا لیکن جو آبی فلسفہ ”رومنز“ (Romans) اہل روم دے گئے وہ آج تک آبی تقسیم کی بنیادی جڑ ہے۔ تقریباً 300 کلو میٹر زمینی سرحدوں اور اس سے آگے کے قوانین حق ملکیت موجود ہے ایران کی یہ سٹرٹیجی تھی یا مصریوں جیسی مفلوک الحالی نہ تھی یا یہ کشادہ دلی تھی کہ انہوں نے نہر سویز کی طرح اس کا کرایہ مختص نہیں کیا مصر کی بھی عظیم تاریخ ہے وہ کلچرل اور فلسفیانہ خزانے سے لبالب ہے۔ مذاہب، ثقافت اور قدرتی ملکوں میں شمار ہوتا ہے۔یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ دنیا کو اناج اُگانا اور کھانا انہوں نے سکھایا یہ لوگ ہزاروں برس آگے تھے اپنے زمانے سے جبکہ نقصان اور بدوﺅں کو یہ اپنی تہذیب کے فخر کے قریب بھی نہیں سمجھتے تھے مگر زمینی فتوحات کے زمانے کے ختم ہونے اور عالمی منظر نامے کے کڑی حد کڑی مل جانے کی صورت میں یہ اقتصادی طور پر محدود ہو گئے اور ان کا تجارتی و مالی انحصار ”نہر سویز“ کی آمدنی پر موقوف ہو گیا....
قوموں کی تاریخ جانے بغیر دانشور رہنما کبھی حملہ آور نہیں ہوتے تھے مگر حضرت ٹرمپ اس دور کے وہ عجیب و غریب انسان ہیں جنہوں نے نیتن یاہو کی مدد کرتے ہوئے ایران پر کثیر تعداد میں میزائل فائر کر دیئے اور پھر بیانات میں تضاد کی انتہا کر دی وہ میزائل جو امریکہ کو پورا سال بنانے میں لگے اور جن پر اربوں کا معدنیات خرچ ہوا اس کے لئے وہ نہ صرف مستقبل میں پارلیمنٹ کو جوابدہ ہو گا بلکہ چین جانے اور تائیوان کے خواب دیکھنے کے پیچھے بھی یہی معدنیات ہیں جن میں خرچ ہونے والے مخصوص معدنی عناصر اس جزیرے تائیوان میں بکثرت ہیں جس پر چین کا دعویٰ ہے۔
بات ٹرمپ کے تضادات کی ہو رہی تھی ایک طرف مذاکرات دوسری طرف حملہ پھر مذاکرات پھر حملہ پھر پاکستان کی کوششوں کے موجب ”ٹیبل“ پر بیٹھتے ہی دھمکیوں کا سلسلہ یہ سچ ہے اتنی بڑی امریکی ریاست کو سنبھالنا اور پوری دنیا (بشمول چین) اپنا پراکسی طاقت کا تصور قائم رکھنا ایک ذہین ترین ٹھنڈے دماغ کے لئے بھی مشکل ہے جبکہ متغیر ذہن جلد باز ٹرمپ یقینا ٹرمپ ٹاور تو بنا سکتا ہے مگر ایپسٹن فائل اور چند شیطانی اذہان کی طاقت مل کر بھی خطے میں خدائی زمین و آبی گزرگاہوں پر بیٹھی چوکیدار نظرروں کی تاب نہیں لا سکتا....اب امریکی یا ٹرمپی سٹرٹیجی ملاحظہ ہو وہ آبنائے ہرمز جس میں ایران نے نہ صرف مائیز چھپا رکھی ہیں اور وہ ہی جانتا ہے کہ ان کا مقام و تعین کیا ہے انہی ہزاروں کشتیوں سمیت تیل و معدنیات سے بھرے بحری جہازوں کے راستے میں دیوار بن کر کھڑا ہے ایک تو تصادم کی صورت میں کشتی کا جائے گا کچھ نہیں اور پٹرول سے بھرے جہازوں کا رہے گا کچھ نہیں۔
اس پہلے ہی سے (Already) لگے ہوئے ایرانی حصار کے اطراف امریکہ اپنا حصار کھینچ کر گویا ایران کی مزید مدد فرما رہا ہے خوف کا عالم یہ ہے کہ اس کے اپنے بحری بیڑے یا جہاں آبنائے ہرمز سے ہزار میل دور کھڑے ہیں کہ ایرانی میزائل کا مارک ہزار میل تک ہدف بناتا ہے یہ کیسا پہرہ ہے یا چوکیداری ہے جو ڈر کر دی جارہی ہے۔عالمی مرکز میں مسلمانوں کے مملکت میں ترکی ایران اور پاکستان اگرچہ اپنی زمینی یا ایٹمی یا تاریخی (بالترتیب) وجوہات سے موجود ہیں تو پاکستان کو ثالثی کے لئے سوچنا امریکی دعوائے فتح ایران کیا معنی رکھتا ہے۔
آپ تو فتح یاب ہیں پھر کیوں چین کے پاس جاکر گڑ گڑائے کہ مطلوبہ یورینیم ہتھیار بنانے کے لئے معدنیات (جو ساری کی ساری چین کے پاس ہیں) اور استعمال پر اہم مشین کی ”چپ“ جو تائیوان میں تیار ہوتی ہے جو چین اپنا حصہ سمجھتا ہے اب دنیا کو نتھ ڈالنے کے لئے اور عالمی قوانین کا وہ چارٹر تیار کرنے کے لئے چین گئے جو چینی رہنما کی باڈی لینگوئج ٹرمپ پر عدم اعتماد اور اصلی طاقتور ہونے کا اعلان تھا۔
آبی گزرگاہوں کی تاریخ اور تہہ دار سیاست
09:08 AM, 30 May, 2026