فنونِ لطیفہ، موسیقی اور محبت کا پیغام

09:08 AM, 30 May, 2026

قدرتی مناظر، موسیقی اور مزاح جس معاشرے میں انجوائے نہ کیے جا سکیں، وہاں تشدد، عدم برداشت اور نفرت پروان چڑھنے لگتی ہے۔ خوشی، خوبصورتی اور مسکراہٹ سے محروم معاشرے آہستہ آہستہ اندر سے کھوکھلے ہو جاتے ہیں۔ انسان اگر صرف نفرت، تقسیم، شور اور غصے کے ماحول میں زندہ رہے تو اس کی روح بنجر ہونے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی مہذب اقوام نے ہمیشہ ادب، موسیقی، مصوری، تھیٹر، شاعری اور دیگر فنونِ لطیفہ کو اپنی تہذیب اور سماجی زندگی کا لازمی حصہ بنایا۔ہمارے ہاں بدقسمتی سے فنونِ لطیفہ کو اکثر غیر ضروری یا محض تفریح سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ موسیقی، ادب اور فنونِ لطیفہ انسانی معاشروں میں برداشت، محبت، نرم دلی اور مکالمے کو فروغ دیتے ہیں۔ ایک گیت، ایک نظم، ایک ساز اور ایک خوبصورت فن پارہ بعض اوقات وہ کام کر جاتا ہے جو لمبی تقریریں اور سخت قوانین بھی نہیں کر پاتے۔
گزشتہ دنوں ادارہ برائے سماجی انصاف کی جانب سے منعقدہ ثقافتی تقریب “سر سجدے کے روپ ہزار” میں بھی کچھ ایسا ہی محسوس ہوا۔ یہ محض ایک موسیقی کی تقریب نہیں تھی بلکہ محبت، امن، برداشت اور بین المذاہب ہم آہنگی کا ایک خوبصورت پیغام تھی۔ ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں مذہب، نسل، زبان اور عقائد کی بنیاد پر نفرتیں بڑھ رہی ہیں، پاکستان میں اس نوعیت کی تقریبات امید کی ایک روشن کرن محسوس ہوتی ہیں۔
تقریب دراصل ایک تخلیقی ورکشاپ کا اختتامی حصہ تھی، جس میں ماہرینِ موسیقی اور محققین نے مذہبی موسیقی کے فکری پہلوو¿ں اور فنی تکنیک پر اپنی تحقیقات پیش کیں۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان میں اب فنونِ لطیفہ کو محض تفریح کے بجائے ایک سنجیدہ سماجی اور فکری ضرورت کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں یونیورسٹیاں، ریسرچ ادارے اور سماجی تنظیمیں اس حقیقت کو تسلیم کر چکی ہیں کہ فنونِ لطیفہ سماجی رویوں کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
معروف گلوکار اریب اظہر نے بھی تقریب میں شرکت کی اور پاکستان میں مختلف عقائد کی مذہبی موسیقی کے مشترکہ پہلوو¿ں پر اپنی تحقیق پیش کی۔ بعد ازاں انہوں نے صوفی کلام بھی پیش کیا۔ صوفی موسیقی ویسے بھی برصغیر کی روحانی روایت کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس موسیقی نے ہمیشہ محبت، انسان دوستی، رواداری اور خدا کی مخلوق سے پیار کا درس دیا۔ بلھے شاہ، بابا فرید، شاہ حسین اور وارث شاہ جیسے صوفیا نے اپنے کلام کے ذریعے انسانوں کو نفرتوں کے بجائے محبتوں کا راستہ دکھایا۔
تقریب میں نوجوانوں، فنکاروں، موسیقاروں، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ یہ امر اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی معاشرے میں آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو امن، برداشت اور مکالمے پر یقین رکھتے ہیں۔ اگر نوجوان نسل کو مثبت اور تخلیقی سرگرمیوں کے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ شدت پسندی، نفرت اور انتہا پسندی کے راستے سے دور رہ سکتی ہے۔تقریب میں ڈاکٹر روبینہ فیروز بھٹی، ڈاکٹر یعقوب بنگش اور معروف شاعر نذیر قیصر نے بھی اظہار خیال کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ موسیقی تمام انسانوں کی ایک مادری زبان ہے، اس لیے اگر اسے معاشرتی زندگی میں مثبت انداز میں جگہ دی جائے تو عدم برداشت جیسے رویوں میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ یہ بات بالکل درست ہے کیونکہ انسان جب خوبصورتی سے جڑتا ہے تو اس کے اندر کا تشدد کم ہونے لگتا ہے۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں خوشی کے مواقع کم ہوتے جا رہے ہیں۔ لوگ ذہنی دباو¿، معاشی پریشانیوں، سیاسی کشیدگی اور سماجی تقسیم کا شکار ہیں۔ ایسے ماحول میں فنونِ لطیفہ امید اور سکون کا ذریعہ بنتے ہیں۔ ایک اچھی فلم، ایک خوبصورت غزل، ایک دلکش مصوری یا ایک روح پرور موسیقی انسان کے اندر زندگی کی رمق دوبارہ پیدا کر سکتی ہے۔دنیا کی بڑی تہذیبوں نے فنونِ لطیفہ کو ہمیشہ ترقی کی علامت سمجھا۔ یورپ کی نشا? ثانیہ ہو یا برصغیر کی تہذیبی تاریخ، ہر دور میں فنکاروں، شاعروں، موسیقاروں اور ادیبوں نے معاشروں کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ جب معاشرے میں فن، ادب اور موسیقی کمزور پڑنے لگیں تو وہاں شدت پسندی اور عدم برداشت بڑھنے لگتی ہے۔
پاکستان جیسے متنوع معاشرے میں اس نوعیت کی تقریبات کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ یہاں مختلف زبانیں، ثقافتیں، مذاہب اور روایات موجود ہیں۔ اگر ان کے درمیان مکالمہ، ثقافتی تبادلہ اور ایک دوسرے کے فنون کو سمجھنے کا سلسلہ جاری رہے تو معاشرے میں ہم آہنگی پیدا ہو سکتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک پرامن اور ترقی یافتہ پاکستان کی طرف لے جاتا ہے۔
ادارہ برائے سماجی انصاف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیٹر جیکب نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ مختلف عقائد سے تعلق رکھنے والے نوجوان فنکاروں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا ضروری تھا کیونکہ موسیقی اور فنونِ لطیفہ خیالات اور جذبات کے اظہار کا مو¿ثر ذریعہ ہیں۔ ان کا یہ مو¿قف نہایت اہم ہے۔ نوجوانوں کو اگر اظہار کے مثبت ذرائع نہ ملیں تو معاشرے میں منفی رویے جنم لینے لگتے ہیں۔
یہ امر بھی قابل تعریف ہے کہ ادارہ برائے سماجی انصاف مذہبی موسیقی پر تحقیق کو اپنی سرگرمیوں کا حصہ بنائے ہوئے ہے۔ علمی اور تحقیقی سطح پر مختلف مذاہب اور ثقافتوں کو سمجھنا سماجی ہم آہنگی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے کے عقائد، روایات اور فنون کو جاننے لگتے ہیں تو غلط فہمیاں کم ہونے لگتی ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت، تعلیمی اداروں، میڈیا اور سماجی تنظیموں کو اس نوعیت کی تقریبات کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں موسیقی، تھیٹر، مصوری اور دیگر فنونِ لطیفہ کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کیونکہ بندوق، نفرت اور سختی سے کبھی بھی معاشرے خوبصورت نہیں بنتے، معاشروں کو خوبصورت بنانے کے لیے محبت، موسیقی، ادب اور فن کی ضرورت ہوتی ہے۔آج جب دنیا تیزی سے عدم برداشت اور ذہنی دباو¿ کی طرف بڑھ رہی ہے تو ایسے میں “سر سجدے کے روپ ہزار” جیسی تقریبات امید، محبت اور انسان دوستی کا چراغ روشن کرتی ہیں۔ یہی وہ روشنی ہے جس کی پاکستان کو اشد ضرورت ہے۔ کیونکہ آخرکار انسان صرف روٹی سے نہیں جیتا، اسے محبت، خوبصورتی، مسکراہٹ اور روح کی غذا بھی چاہیے ہوتی ہے۔

مزیدخبریں