سائیکل کی بتی ....!

09:06 AM, 30 May, 2026

اُس زمانے کو جب سائیکلوں کی سواری عام تھی عرصہ بیت چکا ہے۔ اس کے بارے میں ذہن کے نہاں خانے میں موجود یادوں کو کریدوں تو سب سے پہلے تین بڑی چمکتی ، لش پش کرتی صاف ستھری سائیکلوں کی شبیہ میری آنکھوں کے سامنے ابھرتی ہے ۔ یہ انگلینڈ ساختہ ریلےRaleigh اور BSA سائیکلیں تھیں جن کے سامنے ہینڈل کے درمیان میں بتی یا لائٹ لگی تھی اور پچھلے پہیے کے ساتھ ڈائینمو جڑے تھے جو پچھلے پہیے کے ساتھ رگڑ کھاکر کرنٹ پیدا کرتے تھے جس سے لائٹ یا بتی کا بلب روشن ہو جاتا تھا۔ یہ سائیکلیں ہمارے گاﺅں سے تعلق رکھنے والے تین بزرگ اساتذہ ملک جہانداد مرحوم(جو رشتے میں میرے تایا لگتے تھے) ، راجہ خان ملک اور راجہ فیروز خان مرحوم جو ہمسایہ گاﺅں کے ہائی سکول میں ہمیں پڑھایا کرتے تھے کی ملکیت اور زیرِ استعمال تھیں اور وہ اِن سائیکلوں پر سوار سکول آیا جایا کرتے تھے۔ اُس وقت ہمارے گاﺅں سے ہائی سکول والے گاﺅں تک کچی سڑک تھی جس پر گڑھے وغیرہ ہوتے تھے۔ سائیکل سوار سڑک کے دونوں کناروں پر بنی پتلی سی پگڈنڈیوں کو سائیکلیں چلانے کے لیے استعمال کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ ہم کچھ لڑکوں کو شرارت سوجھی کہ کیوں نہ راجہ فیروز خان مرحوم جو چھٹی جماعت میں ہمیں پڑھاتے تھے اور اکثر ڈا نٹتے ڈپتتے رہتے تھے کی سائیکل کو پنکچرکر کے انہیں تنگ کریں۔ اس کے لیے ہم نے منصوبہ بنایا کہ راجہ فیروز خان جس کسی دن باقی دو ساتھی اساتذہ سے ہٹ کر اکیلے سکول سے واپس گاﺅں جارہے ہوں گے تو ہم سڑک کی پگڈندی کے خاص مقام پر کیکر کے تیز نوکیلے کانٹے بکھیر دیں گے تا کہ اُن کی سائیکل کے ٹائر پنکچر ہو جائیں۔ ایک دن ہمیں ایسا موقع مل گیا ۔ کیکر کے کانٹے ہم نے اکٹھے کر لیے اور انہیں پگڈنڈی پر کچھ بکھیرا ہی تھا کہ ایسااتفاق ہوا کہ راجہ صاب بھی اپنی سائیکل پر سوار وہاں پہنچ گئے ۔ انہیں اندازہ ہو گیا کہ ہم لڑکے کچھ کاروائی کرنے والے تھے ۔ انہوں نے بظاہر ہمیں کچھ نہ کہا البتہ مجھے لڑکوں کے چھوٹے سے گروہ کا سرغنہ سمجھتے ہوئے میرے بارے میں اُن کے دِل میں ایک گرہ سی پڑ گئی جو بعد میںکتنے عرصے تک موجود رہی۔
بلاشبہ انگلینڈ ساختہ ریلے اور BSA اعلیٰ 
معیارکی مضبو ط سائیکلیں ہوا کرتی تھیں۔ جن کو چلاتے ہوئے کم ہی کوئی آواز وغیرہ نکلتی تھی۔ یہ سائیکلیں کم ہی لوگوں کے پاس ہوا کرتی تھیں۔ اُسی زمانے میں یا اُس سے کچھ عرصہ بعد لاہور کی سائیکل ساز کمپنیوں کی بنی ہوئی سہراب اور ایگل نام کی سائیکلیں بھی مارکیٹ میں آ گئیں۔ یہ سائیکلیں نسبتاً سستی اور عام تھیں، تاہم پچھلی صدی کے ساٹھ کے عشرے کے ابتدائی برسوں میں بسلسلہ تعلیم و ملازمت راولپنڈی آنا پڑا تو سچی بات ہے کہ میرے پاس کوئی سائیکل نہیں تھی۔ ادھر اُھر آنے جانے کے لیے کسی جاننے والے کی سائیکل لے لی جاتی ۔ پھر سائیکلوں کی کچھ دکانیں ایسی بھی ہوتی تھیں جہاں سے ایک آنہ فی گھنٹہ کرایہ پر سائیکلیں مل جایا کرتی تھیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ آر اے بازار راولپنڈی میںسائیکل کی ایک دکان سے کرائے کے سائیکل لے کر میں نے کم از کم دو بار گاﺅں آنے جانے کا سفر کیا ہو گا۔ رات گاﺅں گزارنے کے بعد اگلے دن سائیکل واپسی کے ساتھ دکان دار کو دو اڑھائی روپے کرایہ ادا کیا ہو گا۔ 
بات سائیکلوں اور سائیکلوںکے سفرکی ہو رہی تھی جو پچھلی صدی کے ستر کے عشرے کے آخری برسوں تک عام تھا۔ سائیکل چلانا کوئی ایسی بڑی مشقت نہیں ہوتی تھی۔ سائیکل کے ٹائروں میں پوری ہوا بھری ہوتی ، اس کی چین، ہینڈل اور نٹ بولٹ صحیح کَسےTight ہوتے تو اُسکو ہموار راستوں پر اچھی رفتار کے ساتھ چلایا جا سکتا تھا۔ پھر رات کے وقت بھی سائیکل پر سفر کر لیا کرتے تھے کہ اُس دور میں سائیکل پر روشنی کے لیے بتی کا لگا ہونا ضروری ہوتاتھا۔ یہ بتی یا لائٹ سائیکل کے اگلے پہیے کے اوپر ہینڈل کے درمیان لگی ہوتی تھی اور سائیکل کے پچھلے پہیے کے ساتھ لگے اور بوقت ِ ضرورت رگڑ کھاکر کرنٹ پیداکرنے والے ڈائینمو کے ساتھ جڑی ہوتی تھی۔ یہ بتی یا لائٹ اس لیے بھی ضروری ہوتی تھی کہ سائیکل پر لائیٹ نہ لگی ہونے اور رات کو اسے نہ جلانے کی وجہ سے سائیکل اور سائیکل سوار کا چالان ہو جایا کرتا تھا جس کا جرمانہ ادا کرنا پڑتا تھا۔ مزے کی بات ہے کہ اُس دور میں موٹرسائیکل یا سوزوکی پِک اَپ یا رکشے یا چھوٹی ٹیکسی گاڑیاں کم ہوتی تھیں اور شہر میں مختلف مقامات تک آنے جانے کے لیے تانگے چلا کرتے تھے۔ تانگوں پر بھی ٹن ٹن کی آواز نکالنے والی گھنٹی اور رات کے وقت روشنی دینے والی بند لالٹین یا لیمپ کا لگا ہونا بھی ضروری تھا۔ اس کے بغیر تانگوں اور تانگہ بانوں کے چالان ہو جایا کرتے تھے۔ 
زمانہ گزر گیا، اب نہ سائیکلیں رہیں نہ تانگے۔ اِن کی جگہ سواری کے لیے موٹر سائیکلوں ، رکشاﺅں ، ٹیکسیوں اورسوزوکی پک اپ ڈبوں اور ویگنوں وغیرہ کی بھرمار ہو گئی ہے ۔ ورنہ وہ زمانہ بھی تھا کہ جب میں نے اپنی آنکھوں سے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں سائیکل سواروں کو اپنی ڈیوٹی کے مقامات پر آتے جاتے دیکھا ہو گا۔ یہاں راولپنڈی میں تین چار ایسی عسکری تنصیبات ہیں ، کچہری چوک کے جنوب اور جنوب مشرق میں502 ای ایم ای ورکشاپ اور فوج کا آرڈیننس ڈپو یا قلعہ ، کچہری چوک کے شمال مشرق میں چکلالہ گیریزن کے شروع میں 501 ای ایم ای ورکشاپ اور پنڈی کے جنوبی سرے پر دھمیال کیمپ ، جہاں کبھی فوجی گاڑیوںکا ڈپو ہوا کرتا تھا وغیرہ ایسی جگہیں تھیں جہاں پر ملحقہ آبادیوں اور مضافات کی بستیوں سے روزانہ سینکڑوں بلکہ ہزاروں کی تعدادمیں افراد اپنی سائیکلوں پر سوار ڈیوٹی سر انجام دینے کے لیے آیا جایا کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ صبح کے وقت ڈیوٹی شروع ہونے اور سہ پہر کو چھٹی ہونے پر جی ٹی روڈ پر سواں کیمپ اورآگے روات تک ، اڈیالہ روڈ پر کلیال اور آگے موجودہ اڈیالہ جیل کے مقام تک اور دھمیال روڈ اور چکری روڈ پر آگے رنیال ، دھمیال اور حیال تک سڑکوں پر سائیکل سواروں کا اتنا رش ہو ا کرتا تھا کہ اُن میں سے لاری ، بس یا کسی اورسواری کا گزرنا محال ہوتا تھا۔ پھر ان عسکری تنصیبات جن کا ذکر اوپر ہوا ہے کے باہر وسیع و عریض سائیکل سٹینڈ ( جواب بھی موجودہیں) تھے جن میںسینکڑوں بلکہ ہزاروں کی تعدادمیں سائیکلیں کھڑی نظر آیا کرتی تھیں۔ اب سائیکلوں کی جگہ وہاں موٹرسائیکل کھڑے نظرآتے ہیں۔ کبھی کبھی خیال آتاہے کہ وہ زمانہ کدھر گیا ، وہ لوگ کدھر گئے ، وہ بچپن ، لڑکپن اور ادھیڑ عمر کی باتیں ، یادیں اور واقعات کدھر گئے ۔ اللہ جانے ابھی زندگی میں اور کیا کچھ تبدیلیاں دیکھنی ہوں گی لیکن اس سے مفر نہیں ہے ۔ اقبال ؒ نے بھی کہا تھا :
 ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں 

مزیدخبریں