بجٹ 2026-27ءکی آمد آمد ہے، شوروغوغہ بھی جاری ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل لبنان کی جنگ کی خبریں تواتر سے ہمارے میڈیا میں شہ سرخیوں سے نشر ہو رہی ہیں۔ کسی کو کچھ پتہ نہیں کہ کیا ہو رہا ہے؟ ہمیں تو وہی کچھ پتہ چلتا ہے جو مغربی ذرائع سے ہم تک پہنچتا ہے بلکہ ہمیں وہی کچھ نظر آتا ہے جو دکھایا جاتا ہے جو پڑھایا جاتا ہے جو کچھ ہو رہا ہے اس کی اصلیت ہمارے ادراک سے بالاتر ہے، ہمیں دکھایا جا رہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک احمق سا شخص ہے جو الٹی پلٹی باتیں کرتا رہتا ہے۔ ایران سے شکست کھانے کے باوجود اسے دھمکیاں دیتا رہتا ہے کہ میں یوں کر دوں گا میں ووں کر دوں گا حالانکہ ایران نے امریکی بحری اڈوں اور بحری بیڑوں کا بھرکس نکال دیا ہے۔ ایرانی ڈرونز اور میزائلوں نے امریکی اسرائیلی و دیگر عرب ممالک کو تباہ و برباد کر دیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ ہمارے ہاں پہ تاثر پیدا ہو گیا ہے کہ امریکہ جنگ ہار چکا ہے، ایران نے اسے شکست دے دی ہے۔ اسرائیل کا خاتمہ قریب ہے وغیرہ وغیرہ۔ ایسا تاثر پیدا کیا گیا ہے اس میں مغربی ذرائع ابلاغ بھی شامل ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل لبنان میں سو سو اور دو دو سو اہداف پر بیک وقت حملے کر رہا ہے، تباہی پھیلا رہا ہے۔ اس کے درجنوں جہاز بیک وقت اپنے اہداف پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔ وہ اپنے ہی طے کردہ اہداف کے حصول میں مصروف عمل ہے۔ ہم یہاں جنگ بندی پھر اس کی خلاف ورزی، ثالثی ، ڈپٹی وزیراعظم ، وزیر داخلہ کے ایران دوروں اور پھر فیلڈ مارشل کے دورے کو دیکھتے ہوئے معاہدے ہونے والا ہے اور ”معاملات طے پا گئے“ کی گردانیں اعلانیہ شروع کر دیتے ہیں۔ تجزیہ کار کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ بس جنگ بندی کا معاہدہ ہوا ہی چاہتا ہے پھر پتہ چلتا ہے کہ امریکہ نے بندر عباس پر حملہ کر دیا ہے۔ ایران نے جوابی کارروائی شروع کر دی ہے پھر خبر آتی ہے ایک ہفتے کے لئے جنگ بندی کو توسیع دے دی گئی ہے۔ بہرحال ہم غزہ میں اسرائیلی مظالم کو تو بھول ہی چکے ہیں، ہم تو وہاں جو انسانی المیہ جنم لے چکا ہے، ہمیں اس کی بھی کوئی پرواہ نہیںہے، پرواہ ہو بھی نہیں سکتی ہے۔ ہمارے یہاں تو آئی ایم ایف مسلط ہے، ہم اس کے احکامات کے مطابق طے کردہ ٹیکس وصولیاں نہیں کر پائے، ہم نے اس سے درخواست کی کہ وصولیوں کے اہداف ذرا بلند ہیں، انہیں کم کر دیجئے۔ اس نے اجازت دے دی ، ہم وہ بھی اہداف حاصل نہیں کر سکے۔ ہم نے اپنے ٹیکس اہلکاروں کو کروڑوں روپوں کی گاڑیاں اور اربوں روپوں کی سہولیات مہیا کیں کہ انہیں ٹیکس اکٹھا کرنے میں آسانیاں رہیں لیکن نظرثانی شدہ اہداف بھی حاصل نہیں کر پائے۔ انہوں نے گیس و بجلی کے بلوں، پٹرولیم کی قیمتوں کے ذریعے عوام سے وصولیاں کرنے کا طریقہ دریافت کر رکھا ہے۔ ”ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا“ کے مصداق کچھ بھی کئے بغیر عوام سے ٹھیک ٹھاک ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ پٹرول کے ایک لٹر میں 410 روپے قیمت میں 197 روپے پٹرول لیوی ہے، کیا ظلم ہے۔ میرے سامنے 960 روپے کا گیس بل پڑا ہے، جس میں گیس کی قیمت صرف 173 روپے ہے۔ باقی میٹر کرایہ، فکسڈ چارجز و جی ایس ٹی شامل ہے۔ 600 روپے فکسڈ چارجز ہیں، ایسا ہی کچھ بجلی کے بلوں میں ہوتا ہے۔ صرف شدہ بجلی کی قیمت کے علاوہ فیول ایڈجسٹمنٹ، ایف سی سرچارج، کوارٹر لی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ، فکسڈ چارجز، محصول بجلی، جی ایس ٹی، جی ایس ٹی آن FPA، ایکسائز ڈیوٹی آن FPA جیسے ٹیکس شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آخر میں ٹوٹل فیول ایڈجسٹمنٹ FPA کی بھاری رقم شامل کی جاتی ہے۔ عوام، عام شہری، بجلی و گیس اور پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کی مد میں اپنی آمدنی کا بڑا حصہ حکومت کو ادا کرتا ہے، اس کے بعد اشیا صرف کی قیمتوں میں ٹیکسوں کی ادائیگی بھی کرتا ہے، اس کے بعد وہ لڑھک کر خط ِ غربت سے نیچے چلا جاتا ہے۔ اس وقت ہماری نصف یا اس سے زیادہ آبادی خط ِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے اور لڑھکنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے ماحول میں بجٹ 2026-27ءکی آمد آمد ہے۔ آئی ایم ایف کے ساہوکار پچھلے دنوں یہاں چکر لگا گئے ہیں۔ حکمرانوں کی کارکردگی دیکھ کر انہیں داد تحسین بھی دے گئے ہیں کہ انہوں نے ساہوکاروں کے احکامات پر اچھے طریقے سے عمل درآمد کیا ہے۔ وہ نئے احکامات بھی دے گئے ہیں کہ نئے مالی سال کے دوران کس طرح عوام کو نچوڑنا ہے۔ 7/6 سو ارب کے نئے ٹیکس بھی لگانے ہیں۔ ٹیکس وصولیوں کے اہداف بلند کرنے ہیں۔ معیشت ترقی کرتی ہے یا نہیں، وصولیوں کی گنجائش پیدا ہوتی ہے یا نہیں، بلند اہداف کیسے پورے کرنے ہیں۔ ویسے ہمیں ساہوکاروں کو الزام نہیں دینا چاہئے۔ ہم ان سے بھاری بھاری قرض لیتے رہے ہیں اور لے رہے ہیں، انہیں اپنے سود اور اصل زر کی واپسی سے غرض
ہوتی ہے، وہ اسے یقینی بناتے ہیں۔وہ ہم پر جتنی بھی شرائط عائد کرتے ہیں، وہ اسی نقطہ نظر سے ہوتی ہیں کہ ان کا مال محفوظ رہے اور واپسی یقینی ہو۔ ہم پر اندرونی و بیرونی قرضوں کا حجم اس قدر بڑھ چکا ہے کہ وہ ناقابل برداشت ہو چکا ہے۔ معاشی نمو پست درجے پر ہے اور اخراجات کا بوجھ اپنی جگہ پر بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ حکمرانوں کے اللے تللے بھی جاری ہیں۔ دفاعی جنگی اخراجات بھی کم نہیں کئے جا سکتے ہیں، اس لئے ٹیکسوں کی آمدنی بڑھانا ضروری ہے اور وہ فریضہ ہماری حکومت بطریق احسن سرانجام دے رہی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ عوام اس میں پستے ہی چلے جا رہے ہیں۔ طبقات کے اعتبار سے دیکھیں تو سرکاری ملازم سب سے مظلوم طبقہ ہے، جس کی آمدنی بڑھنے کی رفتار جوں یا کیڑی کے مطابق ہے لیکن ٹیکس وصولوں کا بوجھ ہاتھی کے برابر ہے۔ تمام تر ٹیکس، جو اس کے ذمے بھی نہیں ہوتے، اسے ادا کرنا پڑتے ہیں لیکن جب تنخواہوں میں اضافے کی بات ہوتی ہے تو اسے مکمل طور پر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ پنشنرز کا تو کچھ کہنا ہی نہیں انہیں بالکل ہی نظرانداز کیا جاتا ہے۔ اس وقت افراطِ زر 16/15 فیصد سے زائد ہے اور اطلاعات ہیں کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کئے جانے کی تجویز ہے یعنی افراطِ زر کی شرح سے بھی کم، ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔ یہ ملازم تو سرکار کے ہوتے ہیں لیکن سرکار ان کی نہیں ہوتی ہے۔
بجٹ 2026-27اور عوام
09:06 AM, 30 May, 2026